جموں // جموں و کشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کی جانب سے توار کے روز یہاں نمائش گرائونڈ میں ایک زور دار احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین کی قیادت پارٹی کے چیئر مین ہرش دیو سنگھ اور ریاستی سیکرٹری یش پال کنڈل کر رہے تھے ۔ مظاہرین ریاستی سرکار کی جانب سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو مبینہ فلمی اندز میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کو ملتوی کرنے پر مظاہرہ کر رہے تھے۔ مظاہرین بھارت سرکار اور گورنر انتظامیہ کی جانب سے ریاستی عوام کو جمہوری حق سے محروم رکھنے کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے ۔مظاہرین نے بھارت سرکار اور گرونر انتظامیہ کا پتلا بھی نذرآتش کیا۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ہرش دیو نے گورنر انتظامیہ پر ریاست میں اسمبلی انتخابات منعقد کرنے میں غیر ضروری روکاوٹیں پیدا کرنے کا الزام لگایا اور ریاست میں مرکزی سرکار اور گونر انتظامیہ کے مفاد خصوصی کے ایما پر جمہوریت کو مسخ کرنے کا الزام لگایا ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی اس حقیقت سے باخبر ہے کہ وہ لوگوں کا اعتماد کھو گئی ہے جسکی وجہ سے وہ اسمبلی انتخاب میں تاخیر پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ افسو س کی بات ہے کہ ریاستی عوام کو اپنے جمہوری حقوق سے اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے سے دور رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ملاقات کی تھی ،جس میں تمام پارٹیوں نے بیک زبان ریاست میں پارلیمانی ا نتخاب کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات منعقد کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔جس کے بعد تین نامور ممبروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جسے اسمبلی انتخاب منعقد کرنے کے لئے صورتحال کاجائزہ لینے کو کہا گیاتھا ۔انہوں نے کہا کہ کامیاب لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ریاست میںاسمبلی انتخاب ماہ جون میںمنعقد کرانے کی الیکشن کمیشن کو سفارش پیش کی تھی۔انہوں نے ریاستی اسمبلی انتخاب منعقد کرنے میں بیو روکریسی کو سب سے بڑی روکاوٹ قرار دیتے ہوئے حیرت کا اظہار کیا کہ کس طرح سے ڈپٹی کمشنر سے نوڈل افسر کی تعیناتی کے بارے میں جانکاری کو چند گھنٹوں کے اند رہی واپس لیا گیا ۔انہوں نے پوچھا کہ اگر ریاست میں پارلیمانی انتخابات اور بلدیاتی انتخابات پر امن ڈھنگ سے منعقد کئے گئے تو اسمبلی انتخاب منعقد کرنے میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔اس موقعہ پر راجیش پڈگوترہ، گگن پرتاپ، پرشوتم پریہار، کھجور سنگھ ، راجیشور سمبیال، نرمل کشور، سکھجیت سنگھ ، رام پال شرما ،رشپال سنگھ ، اودے ویر سنگھ ،کلبیر سنگھ ،ارون کھجوریہ ،سبھاش چاڑک ،روہت شرما ،جگدیش راج بھی موجود تھے۔