جگت پرکاش نڈا
ہر محفوظ حمل اس بات کا آئینہ دار ہوتا ہے کہ ایک قوم اپنی خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کس قدر پُرعزم ہے۔ ایسے ملک میں جہاں ہر سال تقریباً 2.9 کروڑ حمل وقوع پذیر ہوتے ہیں، وسیع پیمانے پر محفوظ مادریت کو یقینی بنانا ایک مضبوط نظامِ صحت، مستقل سیاسی عزم، بروقت مداخلتوں اور معیاری طبی سہولیات تک منصفانہ رسائی کا تقاضا کرتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران زچگی سے متعلق اموات میں نمایاں کمی بھارت کی صحتِ عامہ کی سب سے اہم کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ پیش رفت زچگی کی صحت کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری، خدمات کی فراہمی کے نظام کو مستحکم بنانے، عوامی شمولیت اور اس غیر متزلزل عزم کا نتیجہ ہے کہ ہر خاتون کو اپنے پورے دورانِ حمل معیاری طبی نگہداشت میسر ہو۔
اس مثبت تبدیلی کے مرکز میں پردھان منتری سرکشت ماترتوا ابھیان (پی ایم ایس ایم اے) ہے، جس نے ملک بھر میں محفوظ مادریت کے فروغ کے 10 سال مکمل کر لیے ہیں۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے تصور اور رہنمائی میں اس اسکیم کا آغاز 9 جون 2016 کو ایک ملک گیر عوامی تحریک کے طور پر کیا گیا۔ اس کا مقصد حمل کے دوسرے اور تیسرے سہ ماہی مراحل میں تمام حاملہ خواتین کو ہر ماہ کی 9 تاریخ کو بلا معاوضہ، یقینی، جامع اور معیاری قبل از ولادت طبی خدمات فراہم کرنا ہے۔
ہر ماہ کی 9 تاریخ کے انتخاب کے پیچھے ایک گہرا مفہوم پوشیدہ ہے۔ حمل 9 قیمتی مہینوں پر مشتمل ایک ایسا سفر ہے جس کا ہر مہینہ نئی امید، خوشی، توقع اور ذمہ داری لے کر آتا ہے۔ مادری صحت کے لیے ہر ماہ کی 9 تاریخ کو مخصوص کرکے پی ایم ایس ایم اے اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہر حمل 9ماہ کے پورے عرصے میں مسلسل نگہداشت، باقاعدہ نگرانی اور بھرپور معاونت کا مستحق ہے تاکہ ایک صحت مند نومولود کی محفوظ ولادت ممکن بنائی جا سکے۔
زچگی کی صحت کے شعبے میں سب سے اہم حقائق میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی بھی حمل مکمل طور پر خطرات سے پاک نہیں ہوتا۔ جو حمل آج معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے، وہ کل سنگین پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے کہ کسی بھی وقت کوئی حمل بغیر کسی پیشگی انتباہ کے زیادہ خطرناک صورتِ حال اختیار کر سکتا ہے، پی ایم ایس ایم اے نے ایک سادہ مگر انقلابی طریقۂ کار متعارف کرایا، جس کے تحت خطرات کی بروقت نشاندہی، ان کی مسلسل نگرانی اور بروقت حوالگی و علاج کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ زیادہ خطرناک قرار دیے جانے والے ہر حمل کی نشاندہی دراصل زچگی سے ہونے والی ایک موت، مردہ پیدائش، نومولود کی کسی پیچیدگی یا عمر بھر کی معذوری کو روکنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ پیچیدگیوں کے علاج کے بجائے ان کی پیش بندی پر توجہ مرکوز کرکے پی ایم ایس ایم اے نے بھارت کے نظامِ صحت زچہ و بچہ کو مزید مضبوط بنایا ہے اور کروڑوں خواتین کے لیے حمل کو زیادہ محفوظ بنا دیا ہے۔
پی ایم ایس ایم اے کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے تحت ماہرینِ طب کی نگرانی میں قبل از ولادت طبی نگہداشت کے لیے ایک مقررہ اور یقینی پلیٹ فارم کو ادارہ جاتی شکل دی گئی، جس سے ملک بھر میں زچگی کی صحت سے متعلق خدمات میں پیش بینی، جواب دہی اور تسلسل کو فروغ ملا۔ اس پروگرام کے تحت حاملہ خواتین کی تقریباً 25 ایسی کیفیتوں اور بیماریوں کے لیے جانچ کی جاتی ہے جو حمل کو زیادہ خطرناک بنا سکتی ہیں، جن میں شدید خون کی کمی، بلند فشارِ خون، حمل کے دوران ذیابیطس، مختلف انفیکشنز اور دیگر پیچیدگیاں شامل ہیں۔ اگر ان کی بروقت تشخیص نہ ہو تو یہ زچہ بچہ دونوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
جب یہ شواہد سامنے آئے کہ زیادہ خطرناک حملوں کو پی ایم ایس ایم اے کے تحت ماہرِ طب یا طبی افسر کے معمول کے معائنے سے بڑھ کر مسلسل نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے، تو حکومتِ ہند نے 2022 میں توسیعی پی ایم ایس ایم اے (ای-پی ایم ایس ایم اے) حکمتِ عملی کا آغاز کرکے اس پروگرام کو مزید مضبوط بنایا۔
ای-پی ایم ایس ایم اے کے تحت زیادہ خطرناک حاملہ خواتین کو معمول کی پی ایم ایس ایم اے نشستوں کے علاوہ اضافی فالو اَپ معائنے فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ محفوظ زچگی تک ان کی بروقت نگہداشت اور علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس اقدام کے ذریعے زیادہ خطرناک حملوں کی نام وار نگرانی کا نظام متعارف کرایا گیا اور ولادت کے بعد 45ویں دن تک پیروی کے طریقۂ کار کو مزید مؤثر بنایا گیا، تاکہ ایسی خواتین دورانِ حمل اور بعد از زچگی کے ابتدائی مرحلے میں مسلسل طبی نگہداشت سے مستفید ہوتی رہیں۔ مزید برآں اضافی معائنوں کے لیے زیادہ خطرناک حاملہ خواتین کے ساتھ آنے والی منظور شدہ سماجی صحت کارکنان (آشا) کے لیے ترغیبات کا انتظام بھی کیا گیا، جس سے مریضہ کی بروقت حوالگی اور نگہداشت کے تسلسل کو مزید تقویت ملی ہے۔
پروگرام کے نفاذ، نگرانی اور جواب دہی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے حکومتِ ہند نے پی ایم ایس ایم اے کا ایک مرکزی ڈیجیٹل پورٹل تیار کیا ہے، جو ملک بھر میں پروگرام کے انتظام و انصرام کی بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پورٹل خدمات کی فراہمی کی فوری رپورٹنگ، زیادہ خطرناک حملوں کی نام وار نگرانی، پروگرام کی کارکردگی کے جائزے اور قومی و ریاستی سطح پر شواہد پر مبنی فیصلہ سازی کو ممکن بناتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ پلیٹ فارم نجی شعبے کے ماہرینِ طب اور سماجی رضاکاروں کو بھی اپنی رجسٹریشن کروا کر پروگرام میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جس سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ’’جن بھاگیداری‘‘ (عوامی شراکت داری) کے اُس تصور کو مزید تقویت ملتی ہے جو پی ایم ایس ایم اے کی روح اور بنیاد ہے۔
پی ایم ایس ایم اے کی کامیابی اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ زچگی کی صحت کے شعبے میں مختلف پروگراموں اور خدمات کے درمیان باہمی اشتراک اور ہم آہنگی کس قدر اہم ہے۔ جننی سرکشا یوجنا (جے ایس وائی)، جننی ششو سرکشا کاریہ کرم (جے ایس ایس کے)، سرکشت ماترتوا آشواسن (ایس یو ایم اے این)، قومی معیارِ یقین دہانی معیارات (این کیو اے ایس)، پوشن ابھیان، پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی)، آیوشمان بھارت، دائی خدمات اور بعد از زچگی نگہداشت کی بہتری (او پی این سی) جیسے اقدامات کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرتے ہوئے پی ایم ایس ایم اے نے حمل، زچگی اور بعد از زچگی کے پورے عرصے میں خواتین کے لیے نگہداشت کے ایک مضبوط اور مسلسل نظام کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اس مثبت تبدیلی کے اصل معمار بھارت کے صفِ اوّل کے طبی کارکنان ہیں، جن میں منظور شدہ سماجی صحت کارکنان (آشا)، آنگن واڑی کارکنان، معاون نرس دایائیں (اے این ایم)، کمیونٹی ہیلتھ آفیسرز، نرسیں، دایائیں اور طبی افسران شامل ہیں۔ عوامی بیداری، مشاورت، طبی جانچ، بروقت حوالگی اور مسلسل پیروی کے میدان میں ان کی انتھک خدمات نے اس امر کو یقینی بنایا ہے کہ زچگی سے متعلق طبی سہولیات ملک کے دور افتادہ اور محروم ترین علاقوں میں رہنے والی خواتین تک بھی پہنچ سکیں۔
ان اجتماعی کوششوں کے مثبت اثرات اب قومی سطح کے صحت اشاریوں میں نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔ نمونہ اندراجی نظام (ایس آر ایس) کے 2022 تا 2024 کے تازہ ترین تخمینوں کے مطابق بھارت میں زچگی کی شرحِ اموات (ایم ایم آر) کم ہو کر فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 87 رہ گئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت زچگی کی شرحِ اموات کو فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر 70 سے کم کرنے کے ہدف کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔
یہ پیش رفت زچگی کی صحت سے متعلق دیگر اہم اشاریوں میں بھی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ حال ہی میں جاری ہونے والے قومی خاندانی صحت سروے این ایف ایچ ایس-6، (2023-24) کے مطابق ادارہ جاتی زچگیوں کی شرح 90.6 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو این ایف ایچ ایس-5 (2019-21) میں 88.6 فیصد تھی۔ اسی طرح قبل از ولادت نگہداشت کی رسائی 92.6 فیصد سے بڑھ کر 95.9 فیصد ہو گئی ہے۔
یہ کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خواتین ضروری زچگی صحت خدمات سے مستفید ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں حمل کے دوران پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی بروقت تشخیص اور فوری طبی مداخلت کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دنیا میں سالانہ پیدائشوں کی سب سے بڑی تعداد رکھنے والے ممالک میں شامل ہونے کے باوجود اس نوعیت کی پیش رفت حاصل کرنا بھارت کے زچگی صحت پروگراموں کی وسعت، مؤثریت اور کامیابی کا روشن ثبوت ہے۔
اثر و ثمر کی ایک دہائی
گزشتہ 10 برسوں کے دوران پی ایم ایس ایم اے کی وسعت، رسائی اور اثر پذیری غیر معمولی رہی ہے۔ 2016میں اس کے آغاز کے بعد سے اب تک ملک بھر میں اس پروگرام کے تحت 7.5 کروڑ سے زائد قبل از ولادت طبی معائنے انجام دیے جا چکے ہیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ پی ایم ایس ایم اے کے ذریعے 1.17 کروڑ سے زائد زیادہ خطرناک حملوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوئی ہے۔
یہ کامیابیاں محض اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ ان لاکھوں ماؤں کی زندگیاں ہیں جن کی پیچیدگیوں کی بروقت تشخیص کی گئی، جن کے حمل کی زیادہ مؤثر نگرانی کی گئی، اور جن کی اور ان کے نومولود بچوں کی زندگیوں کو بروقت اور معیاری طبی خدمات کے ذریعے محفوظ بنایا گیا۔
ہر ماں کے لیے حمل امید اور آرزو کا ایک سفر ہوتا ہے، جبکہ ہر خاندان کے لیے یہ ایک نئی شروعات کی نوید ہے۔ تاہم دنیا بھر میں آج بھی بے شمار خواتین حمل اور زچگی سے وابستہ ایسے خطرات کا سامنا کرتی ہیں جن سے بچاؤ ممکن ہے۔ پی ایم ایس ایم اے کی بنیاد ایک سادہ مگر طاقتور یقین پر رکھی گئی تھی کہ کوئی بھی عورت نئی زندگی کو جنم دیتے ہوئے اپنی جان سے محروم نہ ہو اور کوئی بھی خاندان حمل سے متعلق ایسی پیچیدگی کے باعث اپنی ماں سے محروم نہ ہو جس کی روک تھام ممکن ہو۔
آج جب بھارت پی ایم ایس ایم اے کی 10 سالہ کامیابیوں کا جشن منا رہا ہے تو درحقیقت یہ صرف ایک صحتِ عامہ پروگرام کی کامیابی کا جشن نہیں بلکہ لاکھوں محفوظ حملوں، زیادہ صحت مند ماؤں، نومولود بچوں کے لیے بہتر آغازِ حیات اور اُن طبی کارکنوں، مقامی برادریوں اور خاندانوں کی اجتماعی کوششوں کا اعتراف بھی ہے جنہوں نے اس مثبت تبدیلی کو ممکن بنایا۔
آگے کا راستہ بالکل واضح ہے۔ معیاری قبل از ولادت نگہداشت، زیادہ خطرناک حملوں کی مؤثر نگرانی، دائیوں کی قیادت میں فراہم کی جانے والی خدمات، ڈیجیٹل اختراعات اور زچگی کی صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ پی ایم ایس ایم اے کے تجربے نے ایک سادہ مگر بنیادی حقیقت کو دوبارہ ثابت کیا ہے کہ جب ہر حمل کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، ہر خطرے کی بروقت نشاندہی ہو اور ہر خاتون کو بروقت، باوقار اور معیاری طبی نگہداشت فراہم کی جائے تو زچگی سے ہونے والی اموات ایک ناگزیر حقیقت نہیں بلکہ قابلِ انسداد مسئلہ بن جاتی ہیں۔
لہٰذا پی ایم ایس ایم اے کے دس سال محض ایک پروگرام کی سالگرہ نہیں بلکہ اس امر کا روشن ثبوت ہیں کہ جب سیاسی عزم، بااختیار صفِ اوّل کے طبی کارکنان، ڈیجیٹل جدت، عوامی شمولیت اور معیاری طبی خدمات ایک ہی مقصد کے تحت یکجا ہو جائیں، یعنی ہر ماں کی زندگی کا تحفظ اور ہر نومولود کی بہتر نشوونما—تو غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
(مضمون نگار جگت پرکاش نڈا صحت و خاندانی بہبود اور کیمیاوی مادّہ جات و کھادوں کے مرکزی وزیرِ ہیں۔بشکریہ پی آئی بی)