سرینگر //5اگست2019 کوآرٹیکل 370کے خاتمہ اور پھر مارچ 2020 سے کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کی مار کشمیر میں لوگ اب بھی اس قدر جھیل رہے ہیں کہ یہاں مہنگائی کی شرح میں تشوناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور لوگوں کے گھروں کا بجٹ بھی تہس نہس ہو گیاہے۔ ایندھن سے لیکر نمک تک اور سبزیوں سے لیکر پھلوں تک ہر ایک چیز کے دام آسمان پر ہیں اور حکام بے بس تماشائی کی طرح خاموش بیٹھے ہیں۔کشمیر میں بڑھتی مہنگائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں مہنگائی اور ناپ تول کے حوالے سے محکمہ لیگل میٹرلوجی کو گذشتہ تین ماہ کے دوران 307شکایات موصول ہوئی ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کے ذمہ داروں کی جانب سے کھوکھلی یقین دہانیوں کی بنیاد پر نہ تو لوگوںکا پیٹ بھرا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان کے مشکلات کا ازالہ ممکن ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں لوگ پہلے 5اگست کے فیصلے سے مکمل بندشوں کی وجہ سے پریشان رہے پھر کورونا وائرس کے لاک ڈائون نے ان کی کمر توڑ دی۔ اس دوران جہاں بیروزگار ی میں اضافہ ہوا وہیں کاروبار بھی چوپٹ ہوگیا کوروناکا اب جہاں خاتمہ لگ رہا ہے اور سرگرمیاں بحال ہو چکی ہیں لیکن کشمیر میں لوگ مہنگائی کی مار جھیل رہے ہیں۔یہاں نہ صرف پٹرول ، ڈیزل، رسوئی گیس کی قیمتیں آسمان پر ہیں ،وہیں کھانے پینے کاتیل ، چائے ، ہلدی ، مرچ مصالہ جات ، آٹا ، دالوں ، دودھ ، مکھن ، گھی اور دوسری چیزوں کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جار ہی ہیں،سبزیوں اور پھلوں کو خریدنا اب ایک عام شہری کیلئے ناممکن بن چکا ہے ،جبکہ گاڑیوں کے کرایہ سے لیکر نائیوں کی کٹنگ کیلئے مقرر قیمتوں پر بھی کوئی دھیان نہیں دیا جاتا ۔ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری محکمہ کی جانب سے جو ریٹ لسٹ مرتب کی گئی ہے اس میں کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں کہیں نظر نہیں آتیں لیکن سبزیاں اور پھلوں کی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں ۔محکمہ نے دودھ کی قیمت 35روپے فی لیٹر مقرر رکھی ہے ، لیکن مارکیٹ میں45روپے میں فروخت ہو رہا ہے ۔دہی کی قیمت 40روپے فی کلو مقرر ہے لیکن مارکیٹ میں 50روپے میں فروخت ہو رہا ہے ۔ کیلا درجہ اول فی درجن کی قیمت 80روپے مقرر ہے لیکن بازار میں 100سے120روپے میں فروخت ہو رہا ہے ۔کیلا درجہ دوم فی درجن 50روپے ہے لیکن فروخت 80روپے میں ہو رہا ہے ۔سنترہ درجہ اول 120 روپے مقرر ہے لیکن فروخت 150میں ہو رہا ہے ۔محکمہ نے سنترہ دوم کی قیمت اگرچہ فی درجن 80روپے مقرر کھی ہے لیکن 100روپے میں فروخت کیا جاتا ہے ۔پائین ایپل فی عدد 60روپے لیکن مارکیٹ میں 50سے70روپے فروخت ہو رہا ہے ۔انار صاف والا 100روپے مقرر ہے لیکن 120سے150میں فروخت ہوتا ہے ۔سیب گولڈن ڈلیشس 60روپے لیکن فروخت 80روپے میں ہوتا ہے ۔سیب امریکن 40روپے قیمت مقرر ہے لیکن فروخت 60روپے میں ہوتا ہے ۔سبزیوں کی قیمتیں بھی آسمان پر ہیں آلو کشمیری کی قیمت فی کلو 40روپے مقرر ہے لیکن 50روپے مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے ۔لیکن باہر کے آلو کی قیمت کہیں 20تو کہیں 25روپے میں فروخت ہورہے ہیں۔کریلہ فی کلو 50روپے ،لیکن 60روپے فی کلو فروخت کیاجاتا ہے ۔گاجر لال فی کلو 30روپے لیکن 40روپے میں فروخت ہوتی ہے ۔بینگن گلابی کی قیمت فی کلو 30روپے مقرر ہے، لیکن 50سے 70روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے۔پیاز 50روپے فی کلو بک رہا ہے۔ شملہ مرچ، بھی اسی قیمت پر فروخت ہورہا ہے۔مولی اور شلغم 20کے بجائے 30روپے میں فروخت ہورہے ہیں۔پالک 70روپے فی کلو اور ساگ کہیں 50تو کہیں 60روپے فروخت کیا جارہا ہے۔ کشمیری ندرو کی کئی اقسام کو رکھا گیا ہے۔ جن کی قیمت اب وزن کے حساب سے رکھا گیا ہے۔ لیکن 220سے کم فروخت نہیں ہورہے ہیں۔فراش بین 50روپے ، مٹر 40روپے،ٹماٹر 40روپے میں فروخت ہورہے ہیں۔مرغ کی قیمتیں برڈ فلو کی وجہ سے جہاں کم ہوئی ہیں۔ گوشت کی قیمتیں ابھی تک نہیں بدلی ہیں۔ شہر سرینگر میں 600روپے کے حساب سی گوشت فروخت ہورہا ہے۔کورونا وائرس کے دوران گاڑیوں کے کرایہ میں پہلے ہی 30فیصد کااضافہ کیا گیا اور بعد حالات کے معمول پر آنے کے بعد اگر چہ کرایہ کی شرخ میں اضافہ کو واپس بھی لیا گیا لیکن وادی کے شمال و جنوب میں کہیں پر بھی پرانی کرایہ نہیں لی جارہی ہے بلکہ سرکار کے پہلے حکم نامے کے حساب سے ہی 30فیصد زیادہ کرایہ لیا جارہا ہے۔محکمہ ناپ تول کشمیرحکام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ نومبر کے مہینے میں محکمہ ناپ تول کو قریب 200شکایات ملی جبکہ دسمبر میں 75اور جنوری میں 32شکایات موصول ہوئی ہیں ۔