عظمیٰ نیوزسروس
پہلگام //جنوبی کشمیر کے مشہو ر سیاحتی مقام پہلگام میں سنیچروار کی دیر شام بالائی علاقوں میں اچانک بادل پھٹنے کے باعث آنے والے شدید سیلاب نے متعدد ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور رہائشی مکانات کو زیر آب کر دیا، جس کے بعد سیاحوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔عین شاہدین کے مطابق بالائی جنگلاتی علاقے آوورہ دہوتو کیچمنٹ میں مقامی نوعیت کے بادل پھٹنے کے نتیجے میں آوورہ نالہ میں اچانک طغیانی آ گئی، جس کا پانی قریبی آبادیوں اور تجارتی مراکز میں داخل ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سیلابی پانی ہوٹلوں، ریستورانوں اور رہائشی علاقوں میں پھیل گیا۔سیلاب سے متاثر ہونے والے نمایاں ہوٹلوں میں دی پہلگام شور، دی پہلگام ڈیز، دی آئیڈل اور دی پہلگام اسٹاگ شامل ہیں، جہاں پانی گراؤنڈ فلور تک داخل ہو گیا، جس سے کمروں، فرنیچر، برقی آلات اور دیگر سامان کو نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ متعدد دیگر ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور نجی مکانات میں بھی پانی داخل ہونے کی اطلاعات ہیں۔واقعے کے فوراً بعد ضلعی انتظامیہ، پولیس، ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیموں اور مقامی رضاکاروں نے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کارروائیاں شروع کرتے ہوئے سیاحوں اور دیگر افراد کو بحفاظت محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔حکام کے مطابق کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تاہم املاک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔ اس دوران بادل پھٹنے کے واقعے کی وجہ سے پہلگام ۔بجبہاڑہ سڑک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ افسران نے بتایا کہ بادل پھٹنے سے پہلگام۔آوورہ۔بجہاڑہ سڑک کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو گیا، جس سے گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سڑک کے کئی حصے بہہ جانے کی وجہ سے یہ راستہ فی الحال ٹریفک کےلئے غیر محفوظ ہو گیا ہے۔اس قدرتی آفت کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں بجلی اور پینے کے پانی کی سپلائی بھی معطل ہو گئی ہے۔ موسم معمول پر آنے کے بعد سڑک، بجلی اور پانی کی سپلائی بحال کرنے کا کام شروع کیا جائے گا۔سڑک تباہ ہونے سے کئی دیہاتوں اور سیاحتی مقامات کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے جس سے مقامی لوگوں، مسافروں اور سیاحت کے کاروبار پر اثر پڑا ہے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر پہاڑی علاقوں میں مانسون کے دوران آنے والی قدرتی آفات کے خطرے کو نمایاں کرتا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بادل پھٹنے سے ہونے والے نقصان کی ایک بڑی وجہ بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی، جنگلاتی اراضی پر ناجائز قبضے، قدرتی نکاسی آب کے راستوں میں رکاوٹیں اور سیاحت کے دوران اونچائی والے علاقوں میں کچرے کو غیر منظم طریقے سے ٹھکانے لگانا ہے۔ سری نگر کی ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر منشا نثار نے کہا کہ ’’جدید دور میں انسان کی لاپرواہی اور خود غرضی کی وجہ سے ماحول اور ماحولیاتی نظام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ اب قدرت اسی کا جواب دے رہی ہے۔ یہ قدرت کی طرف سے اسی قسم کا ردعمل ہے‘‘۔
مقامی لوگوں کی بہادری
پہلگام کلائوڈ برسٹ کے دوران مقامی ہوٹل ملازمین، رہائشیوں اور ریسکیو ایجنسیوں کی بروقت کارروائی نے تمام سیاحوں بشمول امرناتھ یاتریوں اور تعطیلات گزارنے والوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔شدید بارش سہ پہر تین بجے کے قریب آوورہ اور دہوتو کے جنگلاتی علاقوں میں ہوئی، جس سے نالہ آوورہ اچانک پھول کر کم از کم چھ ہوٹلوں اور کئی رہائشی مکانات میں داخل ہو گیا۔ سرکاری ٹیموں کے پہنچنے سے پہلے ہی مقامی ہوٹل ملازمین اور باشندوں نے دیواریں اور کھڑکیاں توڑ کر فرار کے راستے بنائے اور بزرگ سیاحوں کو کندھوں پر اٹھا کر محفوظ مقام تک پہنچایا۔ سیاح رتو شرما نے کہا’’ہم سب محفوظ ہیں کیونکہ ہوٹل انتظامیہ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ہمیں بچایا۔ انہوں نے دیواریں توڑیں، کھڑکیاں کھولیں اور بزرگوں کو کندھوں پر اٹھا کر باہر نکالا‘‘۔ ہوٹل مینیجر محمد شفیع نے کہا کہ جب پانی اندر داخل ہوا تو صرف مہمانوں کی حفاظت اولین ترجیح تھی۔انکاکہناتھا ’’ہم نے اپنی چیزیں کھو دیں مگر ہر مہمان محفوظ ہے، یہی سب سے اہم ہے‘‘۔19سالہ ملازم عامر بٹ نے ایک بزرگ خاتون کو پانی میں سہارا دے کر نکالا۔ اس نے کہاکہ ’’ہم جان بچانے میں مذہب نہیں دیکھتے، وہ ہمارے مہمان تھے مگر آج وہ ہمارے خاندان ہیں۔‘‘سیاح وکرم جوشی نے کہا کہ مقامی نوجوانوں نے اپنی گھروں کی فکر کیے بغیر گھنٹوں تک دوسروں کو بچایا۔انکاکہناتھا’’ایسی بے لوثی میں نے کہیں نہیں دیکھی‘‘۔