کوٹرنکہ//پہاڑی مشاورتی بورڈ کے وائس چیئرمین کلدیپ راج گپتا نے کہاہے کہ پہاڑی طبقہ کو صرف سیاسی کھلونا نہ سمجھاجائے بلکہ اسے وہ سب حقوق دیئے جائیں جس کا وہ مستحق ہے ۔کوٹرنکہ میں پہاڑی یونائٹیڈ فرنٹ کی ماہانہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کوٹرنکہ میں ذات پات کو ذہن میں رکھ کر کام کئے جاتے ہیں جو ناقابل برداشت ہے ۔ گپتا نے کہاکہ پنچایتوں کی ریزرویشن فوری طور پر ختم کی جائے اور سبھی کو برابری کا حق دیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے جہاں ہر ایک کو حق رائے دہی کا حق ہے ۔انہوںنے انتظامیہ پر پہاڑی طبقہ کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اگر محکمہ دیہی ترقی کسی ایک طبقہ کا محکمہ نہیں توپھر کیا وجہ ہے کہ پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والے نریگا ورکروں کو اجرت نہیں ملی اور نہ ہی انہیں کام دیاجارہاہے ۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر ٹھاکر پورن سنگھ نے پہاڑی طبقہ کو دی گئی تین فیصد ریزرویشن کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک طبقہ کے کہنے پر حکومت اور ملازمین پنچایتوں کو رزیرویشن دے کر جمہوریت کا قتل عام نہ کرے۔ پہاڑی بورڈ کے ممبر دیو راج شرما نے کہا کہ انہیں حیرانی ہورہی ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے پہاڑی طبقہ کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ضلع انتظامیہ کی ہدایت پرکوٹرنکہ میںسات مکان اور چھ دوکانوں کو مہندم کر کے لوگوں کو گھر سے بے گھر کر دیاگیا،محکمہ مال کے ملازمین کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جارہی جنہوںنے سرکاری اراضی فروخت کردی ۔انہوںنے کہاکہ ایسا ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ہورہاہے اور انتظامیہ کو سنگین نتائج کیلئے تیاررہناچاہئے ۔یوتھ کانفریس لیڈر بشارت راتھر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے کم از کم مشترکہ پروگرام میں پہاڑی طبقہ کو ایس ٹی درجہ دینے کا اعلان کیاتھاتاہم ابھی تک اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیاگیا ۔ انہوںنے کہاکہ پہاڑی کے نام پر ووٹ لینے والے بھی خاموش ہیں ۔اس میٹنگ میں ایوب پہلوان، راج محمد راتھر ، عبدالحمید بٹ ،جرنیل سنگھ ،رشید شاہین، ماسٹر صوبہ سنگھ، شفیق راز، تاج ٹھاکر ،شیر باز،عبدالقیوم راتھر، شکور شاکر ،کالو ڈار، محمد شفیع، محمد فاروق لون، محمد فاروق وغیرہ بھی موجو دتھے ۔