سمت بھارگو
راجوری//راجوری اور پونچھ کے سرحدی اضلاع میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد لاپتہ افراد کی تلاش کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس دوران پونچھ ضلع میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دو لاپتہ خواتین کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد مجموعی طور پر سات افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ دوسری جانب اگرچہ بجلی کی ترسیل میں نمایاں بہتری آئی ہے اور تمام بڑے ٹرانسمیشن فیڈرز بحال کر دیے گئے ہیں، تاہم پینے کے صاف پانی کی فراہمی اب بھی متاثرہ علاقوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔سرکاری حکام کے مطابق پونچھ ضلع میں سیلاب کے مختلف واقعات کے دوران آٹھ افراد لاپتہ ہوئے تھے۔ گزشتہ شام ریسکیو ٹیموں نے مسلسل تلاش کے بعد خالدہ کوثر (25) زوجہ یاسر اقبال،سکنہ موڑہ گاؤں کی لاش برآمد کی، جبکہ جمعہ کے روز ایک اور لاپتہ خاتون شریفہ بیگم زوجہ عبد الحمید، ساکن سنگلہ کی مسخ شدہ لاش بھی دریافت ہوئی۔ ان دونوں لاشوں کی برآمدگی کے بعد ضلع پونچھ میں لاپتہ افراد کی تعداد کم ہو کر چھ رہ گئی ہے۔انتظامیہ نے بتایا کہ باقی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف)، پولیس، فوج اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں مختلف مقامات پر مسلسل تلاشی کارروائیاں انجام دے رہی ہیں تاکہ لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔
ادھر راجوری ضلع میں محکمہ جل شکتی کے ملازم عبدالغنی تاحال لاپتہ ہیں، جو چند روز قبل تھنہ منڈی کے علاقے میں سیلابی ریلے میں بہہ گئے تھے۔ جمعہ کو بھی ریسکیو ٹیموں نے تھنہ منڈی سے راجوری تک نالے کے مختلف حصوں میں دن بھر سرچ آپریشن جاری رکھا، تاہم ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔جمعہ کے روز موسم نسبتاً بہتر رہا۔ راجوری شہر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں موسم صاف رہا، جبکہ تھنہ منڈی سمیت بالائی علاقوں میں چند گھنٹوں تک درمیانی درجے کی بارش ریکارڈ کی گئی۔ حکام کے مطابق دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں کوئی نیا اضافہ نہیں ہوا، جس کی وجہ سے ریسکیو، نقصانات کے سروے اور بحالی کے کاموں میں مزید تیزی لائی گئی۔سیلابی پانی اترنے کے بعد کئی ایسے نشانات بھی سامنے آنے لگے ہیں جو حالیہ تباہی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق راجوری شہر کے بیلا پل کے قریب ریت میں دبی ہوئی ایک گاڑی ملی ہے، جبکہ مراد پور کے قریب دریا میں ایک اور گاڑی کے مختلف حصے بھی دیکھے گئے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والی مزید گاڑیاں بھی پانی کم ہونے کے ساتھ سامنے آ سکتی ہیں۔دوسری جانب محکمہ بجلی (پی ڈی ڈی) نے راجوری اور پونچھ اضلاع میں بجلی کی بحالی کے سلسلے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ محکمہ کے مطابق تمام بڑے ٹرانسمیشن فیڈرز کو بحال کر دیا گیا ہے، جس کے بعد بیشتر علاقوں میں بجلی کی سپلائی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔ تاہم سیلاب سے نقصان پہنچنے والے ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمروں (ڈی ٹیز) کی مرمت اور تبدیلی کا کام ابھی جاری ہے۔ صرف راجوری ضلع میں تقریباً 200 ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمر متاثر ہوئے ہیں، جنہیں مرحلہ وار بحال کیا جا رہا ہے۔اگرچہ بجلی کی صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن پینے کے صاف پانی کی فراہمی اب بھی شدید متاثر ہے۔ فلیش فلڈ کے باعث متعدد واٹر سپلائی اسکیمیں، پائپ لائنیں، پمپنگ مشینری اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں لوگوں کو صاف پانی دستیاب نہیں ہو رہا۔متاثرہ علاقوں کے لوگوںنے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کی بحالی کو بھی اولین ترجیح دی جائے کیونکہ اس وقت محفوظ پینے کے پانی کی عدم دستیابی صحت عامہ کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کی فراہمی بحال نہ ہونے کی صورت میں بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، اس لیے حکومت کو جنگی بنیادوں پر واٹر سپلائی اسکیموں کی مرمت اور متبادل انتظامات کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ سیلاب متاثرین کو بنیادی سہولیات جلد از جلد میسر آ سکیں۔