ٹی ای این
سرینگر//لداخ کے صدیوں پرانے ثقافتی اور دستکاری ورثے کو ایک بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے، جہاں مرکز کے زیر انتظام علاقے کی 8 روایتی دستکاری مصنوعات کو جغرافیائی اشاریہ (GI) کا درجہ عطا کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف ان مصنوعات کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ قومی اور بین الاقوامی منڈیوں میں ان کی منفرد شناخت بھی مزید مستحکم ہوگی۔جی آئی ٹیگ حاصل کرنے والی نئی مصنوعات میں لداخ چلی ٹیکسٹائل، لداخ تھگما، لداخ پینٹنگ، پبو آف لداخ، لداخ نمبو ٹیکسٹائل، لداخ پشمینہ ٹیکسٹائل، لداخ چلنگ میٹل ورک اور لداخ لیکر پوٹری شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ نئی رجسٹریشنز لداخ کی جی آئی فہرست میں ایک اہم اضافہ ہیں اور ان سے مقامی دستکاروں کے روایتی ہنر، مقامی علم اور ثقافتی شناخت کے تحفظ میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ یہ اقدام مقامی صنعتکاروں کیلئے بہتر تجارتی مواقع پیدا کرنے اور جعلی مصنوعات کے خلاف تحفظ فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔جی آئی ٹیگ ایک ایسا قانونی تحفظ ہے جو ان مصنوعات کو دیا جاتا ہے جن کی شہرت، معیار یا خصوصیات کسی مخصوص جغرافیائی خطے سے وابستہ ہوں۔ اس سرٹیفکیشن کے ذریعے روایتی مصنوعات کی اصلیت برقرار رکھنے اور انہیں مسابقتی منڈیوں میں منفرد شناخت دلانے میں مدد ملتی ہے۔ماہرین کے مطابق لداخ کی یہ آٹھ دستکاریاں خطے کی متنوع ثقافتی روایات کی عکاس ہیں، جن میں ٹیکسٹائل، مصوری، دھات سازی اور مٹی کے برتن سازی جیسے قدیم فنون شامل ہیں۔ جی آئی درجہ ملنے سے ان مصنوعات کی عالمی سطح پر تشہیر، صارفین کا اعتماد اور مقامی ہنرمندوں کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعتراف نسل در نسل منتقل ہونے والی روایتی مہارتوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ثقافتی ورثے پر مبنی پائیدار روزگار کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔لیفٹیننٹ گورنر لداخ نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز لداخ کے عوام کیلئے باعثِ فخر ہے اور خطے کی صدیوں پرانی دستکاری، فنون اور ثقافتی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جی آئی درجہ صرف ایک سرٹیفکیشن نہیں بلکہ لداخ کے لوگوں کی محنت، فنکاری اور ثقافتی شناخت کا اعتراف ہے، جو آنے والی نسلوں کیلئے اس ورثے کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔واضح رہے کہ اس سے قبل لداخ کے رکتسے کارپو خوبانی، لداخ پشمینہ اور شنگ تساک کو بھی جی آئی ٹیگ حاصل ہو چکا ہے، جس سے خطے کی زرعی اور دستکاری مصنوعات کی انفرادیت کو قومی سطح پر تسلیم کیا گیا تھا۔
تازہ آٹھ دستکاریوں کو جی آئی درجہ ملنے کے بعد لداخ بھارت کے جی آئی نقشے پر مزید مضبوط حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے، جبکہ اس اقدام سے مقامی دستکاروں کو وسیع منڈیوں تک رسائی، بہتر تحفظ اور معاشی مواقع میسر آنے کی توقع ہے۔