جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو
یوں تو کشمیر میں گورنمنٹ اسکولوں کے علاوہ پرائیوٹ اسکولوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے مگر یہ پرائیوٹ اسکول اب پڑھانےاور لکھانے کے بجائے روپیہ چھاپنے کی مشینیں لگ رہی ہیں اور والدین کی نظروں پر کھرے نہیں اترتے ہیں ایک والد کو جب اپنے بچے کا داخلہ کرنا ہوتا ہے تو وہ ہزاروں اسکولوں کا ازخود جائزہ لیتا ہے جہاں جہاں پرائیوٹ اسکول کا سائن بورڈ نظر آرہا ہے وہاں ضرور جاتا ہے وہاں کے ڈھانچے کی زیبائش، انتظامیہ کا نرم رویہ اور گرم جوشی دیکھ ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے اور سوچتا ہے کہ بس اب اسی ادارے میں میرے بچے کا مستقبل سنور سکتی ہے مگر ان کی خوش لحنی کی ہوا اس وقت نکلتی ہے جب وہ بنا نوٹس دئیے بچوں کی فیس میں اضافہ، گاڑی کے کرایہ میں اضافہ اور باقی اخراجات کو دگنا کردیتے ہیں وادی میں ایسا کوئی پرائیوٹ اسکول نہیں ہے جو مہینے میں ہزار بارہ سو سے کم فیس لیتا ہے اور عام طور سے ان اسکولوں کی کتابیں، وردیاں، قلم کاپیاں وغیرہ جیسی چیزیں صرف مخصوص دکانوں پر ہی ملتے ہیں اور یہ کہنا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ نجی ادارے اب تعلیمی مراکز کم اور کاروباری ادارے زیادہ نظر آرہے ہیں جس کی وجہ سے والدین پریشان اور لاچار ہیں کیونکہ یہ نجی ادارے روز اپنی من مانی کرکے ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں کہ سرکار بھی بےبس نظر آرہی ہے یہ ادارے سرکاری حکمناموں کو بالائےطاق رکھتے ہیں اور عوام کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے ہیں سرکار کو چاہیے تھا کہ رجسٹریشن دینے کے وقت ان سے باضابطہ طور ایک حلفی بیان لینا چاہیے تھا کہ ہم اپنی من مانی نہیں کریں گے اور سرکار کو ہر سال ازخودایک فیس شیڈول جاری کرنا چاہئے تھاتاکہ اس پر عمل کیا جائے مگر ایسا نہیں ہورہا ہے۔اس سال اگرچہ وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا مگر ان پرائیوٹ اسکولوں کی انتظامیہ نے لوگوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹ لیا ہے اور غریب سے غریب تر سے بھی برابر فیس وصول کیا کوئی رعایت نہیں دی گئی پرانے زمانے میں تعلیم کو مقدس پیشہ سمجھا جاتا تھا اور ہے بھی مقدس مگر آج اسی تعلیم کو اب کاروبار کے طور پر استعمال کیا ہے اور یہ ایک ایسا کاروبار بن گیا کہ یہاں اب لوگ ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرکے پرائیوٹ اسکول کھولتے ہیں اور سرکار بھی گائڈ لائنز کا پالن نہ کرکے رجسٹریشن دیتی ہے اور ایک طرف سرکار پرائیوٹ اسکولوں کے حق میں غریبوں کو لوٹنے کی سرٹیفکیٹ اجراء کرتی رہتی ہےوہیں دوسری طرف سرکاری اسکولوں کی طرف بھی دھیان نہیں دے رہی ہے اور یہاں پرائیوٹ اسکولوں کی اتنی بہتات ہے کہ یہاں اصل کے ساتھ غلط بھی صحیح تصور کیا جارہا ہے اگر سرکار نے گورنمنٹ اسکولوں کی طرف دھیان دیا ہوتا تو آج یہ دن دیکھنے کو نہیں ملتے سرکار نے اپنے اسکولوں کو کبھی کھلے میدانوں میں چالو کیا تو کبھی دوکمرےوالی عمارت میں آٹھ نو کلاسز استادوں کو چلانے پڑتے ہیں سیلبس ایسا ہے کہ لوگ خود کو دقیانوسی زمانے کے سمجھنے لگتے ہیں مہارت رکھنے والے، قابل اور ذہین اساتذہ اگرچہ سیلیبس تیار کتے ہیں مگر وہ بچوں کی لیول پر نہیں جاتے ہیں بلکہ اپنے معیار کے مطابق سیلبس تیار کرتے ہیں اور جو کاغزکتابوں میں استعمال ہوتا ہے جو عام طور سے ردی ہوتا ہے تصویریں دھندلی ہوتی ہیں لکھائی اتنی باریک ہوتی ہے ایک بچہ خود کو حروف اور لفظوں کی قید میں بند سمجھتا ہے قابل ، ہونہار اور ذہین اساتذہ کو پڑھانے کے بجائے ان کاموں میں لگایا جاتا ہے جن کاموں سے ان کے کام پر برے اثرات نمودار ہوتے ہیں میرا یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ جب پچھلی دہائیوں میں پرائیوٹ اسکول نہ ہونے کے برابر تھے تو لوگ کہاں سے تعلیم حاصل کرتے تھے دیہات سے ڈاکٹر، انجینئر، استاد، قلمکار وغیرہ کہاں سے پڑھ کر آتے تھے کیا وہ سرکاری اسکولوں سے پڑھ کر نہیں آتے تھے گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ ان پرائیوٹ اسکول چلانے والوں کے اثاثوں پر بھی نظر رکھے کیونکہ یہ اسکول راتوں رات دس بیس گاڑیاں، دو چار حویلیاں، سودوسو کنال اراضی وغیرہ کہاں سے لاتے ہیں رہی بات پرائیوٹ اساتذہ کی ان بیچاروں کو آٹے میں نمک کے برابر حصہ مل رہا ہے اتنی محنت کرنے کے باوجود وہ اس اسکول میں اپنے بچے کا داخلہ کرنے سے قاصر ہیں جس میں وہ دن رات کو ایک کردیتے ہیں آخر کیوں؟ کیا آپ نے اس پر کبھی غور کیا ہے؟ کیونکہ یہ اسکول اتنا فیس لیتے ہیں کہ غریب والدین اتنا فیس بھرنے سے قاصر ہیں ہمارے قوم کے باحوش افراد بھی سوئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ کبھی یہ گوارا نہیں کرتے ہیں کہ سرکاری اسکولوں کو لیکر گورنمنٹ اسکول انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جائے اگر سرکاری اسکولوں کو دیدہ زیب، معیاری کتابیں، اچھی خاصی وردی، اسکولوں میں کے جی کلاسز کا انتظام، اور جہاں اسکول کی بلڈنگ نہیں ہے وہاں اسکول بلڈنگ تعمیر کی جائے گی تو وہ دن دور نہیں ہیں کہ لوگ اپنے بچوں کو پرائیوٹ اسکولوں کے بجائے سرکاری اسکولوں کو ہی ترجیح دیں گے کیونکہ لوگوں کو اب آہستہ آہستہ معلوم ہوتا جارہا ہے کہ پرائیوٹ اسکول اب اسکول نہیں رہے بلکہ ایک بزنس ہَب کے طور پر اُبھر رہے ہیں یہاں تک کہ جو وردی بازار سے پانچ سو میں ملتی ہے ہے وہی پرائیوٹ اسکول بیس سے پچیس سو میں دیتے ہیں فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس وردی کے قمیض پر اسکول کا نام اور نشان ایڈورٹائزنگ کےلئے ثبت ہوتا ہے اور ایک طرف اسکول کی ایڈورٹائزنگ ہورہی ہے تو دوسری طرف اسکول کےلیے یہ سونے پہ سہاگا آدھے پرائیوٹ اسکول دکانداروں سے کمیشن لیتے ہیں تاکہ ایسا لگے کہ یہاں ضمیر فروش نہیں بلکہ ولی صفت لوگ اسکول چلاتے ہیں خاص قسم کی کتابیں اسکول کےلئے رکھنا بھی سوالیہ نشان پیدا کر رہا ہے؟ اب ہم فریاد کریں تو کس سے؟ اپنی روئے داد سنائیں تو کسے سنائیں؟ کیونکہ سرکار چپ چاپ دور بیٹھ کر تماشا دیکھ رہی ہےاس لئے میرے وطن عزیز کے اے غیور عوام ذرا جاگ جائیں اور اپنے گھروں کو اجاڑنے سے بچائیں کیونکہ یہ تعلیم کے نام پر لوٹ چل رہی ہے سرکار کو جوابدہ بناکر سرکاری اسکولوں میں اپنے بچوں کا داخلہ لیں اور اپنے ان ہی اسکولوں کا معیار تعلیم بڑھانے کےلئے اساتذہ سے مشورہ لیں اور انہیں مشورہ دیں میں نے یہ دل کی باتیں آپ تک اس لئے پہونچائی ہیں کہ میرا کام یہی ہے کہ ؎
اپنا تو کام ہے جلاتے رہیں چراغ
رستے میں چاہے دوست یا دشمن کا گھر ملے
قلمکار سے آپ ای میل کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں۔