پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے لحاظ سے جنوبی ایشیاء کا سب سے اہم ملک ہے جس کے اندر ہونے والی تبدیلیوں پر پوری دنیا کی نگاہیں ہمیشہ مرکوز رہتی ہیں ۔ایٹمی قوت حاصل کرنے اور غیر معمولی عالمی تبدیلیوں نے اس کے سیاسی اورفوجی کردار کی اہمیت میں اور بھی اضافہ کیا ہے، اس لئے ہمسایہ ممالک، جو مختلف حیثیتوں سے عالمی تبدیلیوں کے اہم کردار ہیں،کے ساتھ ساتھ بڑی طاقتوں کے عالمی مفادات اور اہداف اس ملک کے اندرونی حالات اور بیرونی تعلقات سے کافی گہرائیوں تک جڑے ہوئے ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اپنے قیام سے ابتک پہلی بار یہ ملک ایک آزاد اور خود مختار سوچ کے ساتھ عالمی منظر نامے پر اپنا کردار وضع کررہا ہے کیونکہ اب یہ امریکہ کا وہ حلیف نہیں جس کے اشاروں کی محتاجی اسے دہائیوںلاحق تھی ۔قرضوں کے بھاری بوجھ، شدید اقتصادی بحران اوردہشت گردی کی عفریت کے باوجود یہ ملک عالمی سطح کے سیاسی سٹیج پر اس وقت ایک خاص اہمیت کا حامل ہے ۔مسلم بلاک کا یہ واحد ملک ہے جو ایران اور سعودی عرب جیسے متحارب ممالک کے ساتھ یکساں تعلقات رکھتا ہے ۔چین ، ایران اورترکی کے اشتراک میں بھی اسے خصوصی اہمیت حاصل ہے اور امریکہ کے سب سے بڑے اتحادی سعودی عرب سے اس کے تعلقات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نئے وزیر اعظم عمران خان نے غیر ملکی دوروں کا آغاز سعودی عرب سے ہی کیا ۔اس تناظر میں پاکستان میں حالیہ انتخاب کے بعد تحریک انصاف کی جیت اور عمران خان کے وزیر اعظم بن جانے سے جو تبدیلی رونما ہوئی ہے، اس کے مضمرات پر تمام ملکوں کی نگاہیں مرکوز ہیں ۔ ابھی اگرچہ اس تبدیلی کے خارجی اوراندرونی سطح پر تبدیلی کی کوئی واضح تصویر سامنے نہیں آسکی ہے تاہم کچھ اشارے ضرور ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان تاریخ کے ایک نئے دور میں قدم رکھنے جارہا ہے ۔عمران خان پر اندرونی اوربیرونی طور بھی یہ الزامات عاید کئے جارہے ہیں کہ وہ فوج کا پروردہ ہے۔ یہ الزام درست بھی ہو، تب بھی یہ اس لحاظ سے پاکستان کے حق میں بہتر ہے کہ پہلی بار سیاسی اور فوجی بازو متحد ہیں ۔وہ مخاصمت ختم ہوچکی ہے جو کافی عرصے سے دونوں کے درمیان ملکی فیصلوں میں ایک بڑی رکاوٹ تھے ۔اپنے قیام سے لیکر اب تک پاکستان جن المیوں اورسانحوں سے دوچار رہا، اس نے اسے بھاری نقصانات سے دوچار کیا تاہم اب صورتحال بدلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے اور بدلتی ہوئی صورتحال میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طویل ٹکرائوکا بھی حل نکلنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ اس ٹکرائو کے پیدا ہونے اور وسعت اختیار کرنے میں عالمی قوتیں بھی کسی نہ کسی طرح سے ملوث رہی ہیں ۔
پاکستان کی اب تک کی تاریخ اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اس ملک کو ہمیشہ غیر ملکی سازشوںکا شکار ہونا پڑاجس کے نتیجے میں آزاد اور خود مختار سوچ کے ساتھ اسے کھڑا ہونے کے محدود مواقع ہی حاصل ہوسکے ۔اپنے قیام کے ساتھ ہی عرصہ دراز تک پاکستان امریکہ کی آنکھوں کا تارا رہا اور اس ملک کے اندر اپنا اثر و رسوخ قائم و دائم رکھنے کیلئے روز اول سے ہی اس نے فعال کردار ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ چنانچہ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ بیشتر تغیرات اور تبدیلیوں میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا ہاتھ شامل رہا ۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے پراسرار قتل سے اقتدار کے ہاتھوں کی کئی تبدیلیوں اور جنرل ایوب خان کے مارشل لاء تک سی آئی اے کے خفیہ ہاتھوں کے ملوث ہونے کے انکشافات وقتا فوقتا کئی مصنفوں نے اپنی کتابوں میں کئے ہیں تاہم اس کا کوئی ٹھوس ثبوت کسی کے پاس نہیں البتہ اس سے انکار ممکن نہیں کہ جنرل ایوب خان کو امریکہ کی سرپرستی اس وقت تک حاصل رہی جب تک کہ اس نے امریکہ کی حد سے بڑھتی ہوئی مداخلت کیخلاف مزاحمت کا اشارہ نہیں دیا ۔اپنی سوانح حیات ’’friends not masters‘‘سے اس نے امریکہ کااعتماد کھودیا اورجب 65ء کی جنگ میں سوویت یونین نے بھارت اورپاکستان کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے دونوں ملکوں کے سربراہان کو تاشقند بلایا تو امریکہ کیلئے یہ بات بالکل ناگوار تھی کہ ہندوستان ،جو سوویت یونین کا اتحادی تھا ،کے ساتھ پاکستان بھی اس کے اثر و رسوخ کے دائرے میں شامل ہو۔تاشقند معاہدے کیخلاف اُس وقت کے جنرل ایوب کے دست راست اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے علم بغاوت بلند کرکے استعفیٰ دے دیا اور پیپلز پارٹی نام سے اپنی سیاسی جماعت کی داغ بیل ڈالی ۔ذوالفقار علی بھٹو خود سوشلسٹ خیالات رکھتے تھے لیکن امریکہ نے اس کے مقابلے میں جنرل ایوب خان کا اقتدار بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی ۔ملک گیر ایجی ٹیشن نے ایوب خان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا۔ اس ایجی ٹیشن میں مذہبی جماعتوں نے مقدور بھر کردار ادا کیا اور جنرل یحیی ٰ خان نے صدارت کا قلمدان سنبھال لیا ۔صدر نے صاف و شفاف انتخابات کا وعدہ کیا اورپہلی بار پاکستان میں صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا ۔لیکن ان شفاف انتخابات نے ہی مشرقی اور مغربی پاکستان کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کردیا ۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ قومی اسمبلی کی ایک سو ساٹھ نشستوں پر جیت کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی مغربی پاکستان میں اسی نشستوں پر جیت حاصل کرسکی ۔ نہ عوامی لیگ نے مغربی پاکستان میں کوئی نشست حاصل کی اور نہ ہی پیپلز پارٹی نے مشرقی پاکستان میں ۔ذوالفقار علی بھٹونے ’’ اُدھر تم اِدھر ہم ‘‘ کا نعرہ لگا دیا اورمشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان نے آزادی کانعرہ دیا ۔بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان کی مکتی باہنی کا ساتھ دیا اور پاک بھارت جنگ چھڑ گئی ۔سوویت یونین نے کھل کر بھارت کی فوجی اور سیاسی حمایت کی لیکن پاکستان کے اتحادی امریکہ نے اس کی کوئی عملی مدد نہیں کی ۔ساتویں فلیٹ کی بحر ہند آمد کا اعلان تو ہوا لیکن بھارت پر کوئی اثر نہیں ڈال سکا ۔ جنگ کا نتیجہ بنگلہ دیش کے قیام کی صورت میں نکلا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مغربی پاکستان کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔ نوے ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی کا بوجھ لیکر وہ شملہ پہنچا جہاں اندرا گاندھی کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا اور تمام جنگی قیدی رہا ہوئے ۔ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان میں اسلامی کانفرنس کا انعقاد کیا اور ایٹمی تحقیق پر پابندی ہٹادی ۔یہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کی طرف سب سے اہم اور پہلا قدم تھا جو امریکہ کیلئے ناقابل برداشت تھا ۔ امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ذوالفقار علی بھٹو کے روبرو اسے دھمکی دی کہ اس کے ساتھ بدترین سلوک کیا جائے گا ایسا ہی ہوا۔ جس بھٹو نے پاکستان کو آئین دیا اور شکست کے باوجود اس کا وقار بحال کیا، اسی بھٹو کا تختہ اس کے معتمد سپہ سالار جنرل ضیاء الحق نے الٹ دیا ۔ضیاء الحق کو امریکہ کی مکمل حمایت حاصل تھی اورامریکہ ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے سیاسی سٹیج پر موجود رکھنے پر راضی نہیں تھا اس لئے بھٹو کو پھانسی دی گئی ۔ امریکہ کی ایماء پر جنرل ضیاء الحق نے مذہبی جماعتوں کی بھرپور سرپرستی کی تاکہ کوئی دوسرا سوشلسٹ خیالات کا سیاست داں سیاسی قوت نہ حاصل کرسکے ۔ اس دوران دو اہم واقعات ہوئے ۔ایک یہ کہ ایران میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی انقلاب برپا ہو ا اور امریکہ کے معتمد شاہ ایران کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اوردوم افغانستان میں سوویت یونین کی فوج گھس گئی ۔ایرانی انقلاب نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے اذہان پر اپنے اثرات مرتب کرلئے اورقریبی ہمسایہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی آبادی کچھ زیادہ ہی متاثر ہوئی اور جو پاکستان سوشلزم کے نعرے پر ذوالفقار علی بھٹو کے گرد جمع ہوا تھا ،اس نے مذہبی جماعتوں کی طرف رخ موڑ دیا ۔ امریکہ نے اس کا بھرپور ساتھ دیا کیونکہ افغانستان کو سوویت یونین کی قبر بنانے کیلئے یہی ایک راستہ تھا ۔ ضیاء الحق نے سی آئی اے کو افغان آپریشن کے لئے اپنی سرزمین کے استعمال کی مکمل آزادی دی ۔ ہتھیاروں کے ڈھیر پاکستان کے راستے افغانستان پہنچے اور امریکی سٹنگر میزائل نے سوویت فوج کے اوسان خطا کردئیے ۔ جہاد کا نعرہ دنیا بھر میں گونجا ۔ امریکہ اورسعودی عرب نے اپنے خزانوں کے منہ کھول دئیے ۔ دنیا بھر سے مسلم نوجوان خدا بیزار سوویت یونین سے جنگ لڑنے کیلئے افغانستان پہنچے ۔ افغانیوں نے قربانیوں کی تاریخ رقم کی اورسوویت یونین کے نہ صرف افغانستان میں پائو ں اکھڑ گئے بلکہ خود اس کا اپنا وجود بھی دائو پر لگ گیا ۔عالمی اسلامی اخوت اور خلافت کے تصورات اسی دور میں ابھرے ۔ 1971کی شکست کا بدلہ پاکستانیوں کی رگ و پے میں سمایا ہوا تھا ۔ جنرل ضیاء نے اس جذبے کی تسکین کیلئے بھارتی پنجاب میں سکھوں کی آزادی کی مسلح جدوجہد کو بھرپور مدد فراہم کی ۔اس کے ساتھ کشمیر میں مسلح جدوجہد کی تیاریاں بھی کی جانے لگیں ۔دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بادشاہی نظام کیخلاف مسلح جدوجہد کے جذبے ابھرنے لگے ۔ امریکہ کو اب اپنی ہی حکمت عملی خطرے کی گھنٹی نظر آئی ۔ جنرل ضیاء اب طاقتور ہونے لگا تھا چنانچہ اسے راستے سے ہٹادیا گیا ۔ جنرل ضیاء کے بعد انتخابات ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی بے نظیر بھٹو کی قیادت میںاقتدار میں آئی ۔اسلامی انتہا پسندانہ نظر یات کوکچلنے کیلئے یہی ایک صورت تھی لیکن بے نظیر کوششوں کے باوجود ایسا نہ کرسکیں آخر کار اس کا بھی قتل ہوا ۔ انتہا پسندی کی کوکھ سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کیخلاف امریکہ نے جنگ شروع کردی اور پاکستان کو اس جنگ میں بھی اپنا سب سے بڑا مددگار بنایا ۔
اس طرح ایک طویل عرصے تک امریکہ نے پاکستان پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے میں کامیابی حاصل کی اور اسے اپنی آزاد اور خود مختار سوچ کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے سے باز رکھنے میں کامیابی حاصل کی لیکن اب حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں ۔گرد و نواح کی دنیا بدل چکی ہے ۔ چین ایک عظیم قوت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھر آیا ہے اور پاکستان اس کا سب سے بڑا اتحادی بن چکا ہے ۔ ہندوستان امریکہ کے قریب آرہا جبکہ چین ، پاکستان ،ایران اور ترکی ایک نئے بلاک کی صورت اختیار کررہے ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے مقابل کھڑے ہورہے ہیں ۔ سعودی عرب کو امریکہ روشن خیالی کے رنگ میں رنگ رہا ہے ۔ایسے حالات میں پاکستان میں عمران خان کی قیاد ت میں ایک نئی حکومت قائم ہوئی ہے جسے فوج کا بھی بھرپور تعاون حاصل ہے ۔ کیا عمران خان پاکستان کا ولی عہد شہزادہ بن سلمان ہے جو پاکستان کو’’ روشن خیالی ‘‘کے فلسفے میں غرق کرکے اس کی آزاد اور خود مختار سوچ پر امریکہ کو حاوی کردے گا یا وہ پاکستان کو وہ کردار ادا کرنے کے لئے تیار کرے گا جو عالمی تاریخ میں کئی تبدیلیوں کا باعث ہوگا ۔ ابھی کچھ کہنا اگرچہ مشکل ہے لیکن عمران خان کے لئے پاکستان کو پھر امریکہ کی گود میں لیجانے کے راستے بہت تنگ ہیں ۔اس کے لئے سعودی ولی عہدکا راستہ اختیار کرنے کے بھی امکانات نہیں ہیں ۔انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں مدینہ کی پہلی اسلامی حکومت کا تذکرہ کرکے اپنے ارادے ظاہر کئے اور وہ اب تک پاکستان کی اقتصادی حالت کو صحیح ڈگر پر لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔اس پس منظر میں یقینی طور پر پاکستان اس کردار کے لئے تیار ہورہا ہے جو وقت نے اس کے لئے مقرر کیا ہے ۔
( بشکریہ ہفت روزہ نوائے جہلم سرینگر)