جموں//جموں وکشمیرنیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے ان لوگوں کی تائید کی ہے جن لوگوں نے پانچویں مذاکرات کار کی تقرری کو ایک مذاق قرار دیا ہے۔یہاں جاری پریس بیان کے مطابق پنتھرس پارٹی کے سربراہ بھیم سنگھ نے پارلیمنٹ ہند کے اراکین کو یاد دلایا کہ ایسے ہی چار کمیشن پہلے حکومت ہند نے جموں وکشمیر کے مسئلہ کو ٹالنے کے لئے بنائے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ہندستان کے وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اسی طرح کا آخری کمیشن مقرر کیا تھا جس کا رہنما ایک سینئر معروف ٹائمز آف انڈیا کے سابقہ ایڈیٹر کو بنایا گیا تھا۔ آج کے حالات بالکل مختلف ہیں جموں وکشمیر میں بچوں کو خاموش کرنے کے لئے اسرائیلی بیلٹ گن استعمال کی جاتی ہے، نابالغ بچوں اور طلبا کو جیلوں میں بند کیا جاتا ہے اور جموں وکشمیر میں امن وقانون نا م کی کوئی چیز نہیں ہے۔ سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جموں وکشمیرمیں رہنے والے ہندستانی شہریوں کو انسانی حقوق میسر نہیں ہیںجو ہندستانی آئین کے باب۔3میںدرج ہیں اور جموں وکشمیر کے لوگوں کو چھوڑ کر ملک کے تمام شہریوں کو حاصل ہیں۔ پروفیسربھیم سنگھ تمام سیاسی رہنماوں سے پرزور اپیل کی کہ اس ناپسندیدہ کمیشن کے لئے اپنے دروازے بند رکھیں اور ہندستان کے وزیراعظم نریندر مودی کو صلاح دی کہ وہ قومی یکجہتی کونسل کاہنگامی اجلاس طلب کریں جس کے وہ بطوروزیراعظم چیرمین ہیں اور تمام تسلیم شدہ سیاسی پارٹیاں اس کی رکن ہیں۔انہوں نے کہاکہ وہ این آئی اے کی میٹنگ میں یہ طے کریں کہ جموں وکشمیر کا ہندستان سے کیا قانونی رشتہ ہے ۔اگر جموں وکشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے تو جموں وکشمیر کے لوگ انسانی حقوق سے 70 برسوں سے کیوں محروم رکھے گئے۔جمو ں وکشمیر کے لوگوں کو انسانی حقوق کیوں دستیاب نہیں ہیں۔ جموں وکشمیر میں نابالغ بچوں کو جیلوں میں بند کس قانون کے تحت کیا جاتا ہے اور جموں وکشمیر کا ہائی کورٹ ہندستان کے آئین کا حصہ کیوں نہیں ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ناراض کشمیری رہنماوں سے بھی پرزور اپیل کی کہ وہ بھی اس بات کو سوچیں کہ اب جموں وکشمیر 21ویں صدی چھاوں میں آگے بڑھ رہا ہے اور جموں وکشمیر کے لوگوں کی لڑائی ہندستان سے نہیں ہندستان کی پارلیمنٹ سے ہے جس نے جموں وکشمیر کے لوگوں کو 70برسوں سے محروم کررکھا ہے۔