محمد تسکین
بانہال // رام بن ضلع کے بانہال علاقے میں نالہ بشلڑی میں چھلانگ لگانے کے بعد لاپتہ ہونے والے نوجوان تنویر احمد چوپان کی تلاش پانچویں روز بھی جاری رہی اور جمعرات کی شام تک بھی بچاؤ ٹیموں کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نوجوان نے اتوار کے روز مکرکوٹ کے قریب مبینہ طور پر شرپسند عناصر کے تعاقب کے بعد تیز بہاؤ والے نالہ بشلڑی میں چھلانگ لگا دی تھی۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس اور مختلف ریسکیو ٹیموں نے بڑے پیمانے پر تلاش مہم شروع کی، جو نالہ بشلڑی کے کناروں سے لے کر دریائے چناب کے سنگم تک جاری ہے۔پولیس کے مطابق اس سلسلے میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ایس ڈی پی او بانہال سریندر سنگھ بلوریا کی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اہلکار گہرے کھڈوں اور تیز پانی کے باوجود اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر مسلسل تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ نالے کے دونوں کناروں اور گہرے مقامات کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے۔ریسکیو آپریشن میں پولیس،این ڈی آر ایف، یاس ڈی آر ایف اور رام بن ضلع کی تمام انجمنیں اور ڈوڈہ سے آئے ماہر غوطہ خور شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ تلاش کے دائرہ کار کو مکرکوٹ سے بڑھا کر ڈگڈول اور بیٹری چشمہ تک وسیع کر دیا گیا ہے اور کئی مقامات پر پانی کا بہاؤ موڑنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا گیا لیکن جمعرات شام تک بھی ٹیموں کو خالی ہاتھ کاٹنا پڑا۔
۔۔۔۔