سرینگر //جموں وکشمیر کے آبی ذخائر پالی تھین کی وجہ سے زہر آلود بن رہے ہیں جبکہ زمین کے اندر پالی تھین کے جانے سے نہ صرف پانی کی سطح کم ہوتی جارہی ہے بلکہ قدرتی آبی ذخائر، چشموں اور ندی نالوں کا پانی نا قابل استعمال بنتا جارہا ہے۔چند سال قبل کشمیر یونیورسٹی کی جانب سے ایک سروے کیا گیا تھا جس میں 10سال قبل کی صورتحال کا احاطہ کیا گیا تھا اور خبردار کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی گئی تھی کہ اگلے 10برسوں کے بعد وادی میں موجود پانی کے جھرنے ناقابل استعمال بنیں گے اور کشمیر جو پانی کی وافر مقدار اور ندی نالوں و چشموں کی وجہ سے مشہور تھی، میں پینے کا صاف پانی باہر سے منگانا پڑ سکتا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں 50لاکھ ٹن پالی تھین وپلاسٹک سالانہ تیار ہوتا ہے جو بازاروں میں فروخت کا جاتا ہے۔2.5 لاکھ ٹن کو دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے جبکہ اڈھائی لاکھ ٹن پالی تھین کھلے میں زمین کے اندر یا باہر موجود رہتا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرینگر میں 2لاکھ پالی تھین بیگ روزانہ استعمال ہوتے ہیں۔اعدادوشمار میں کہا گیا ہے کہ شہر سرینگر میں70ٹن کے قریب پالی تھین لفافے میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ ہر روز اٹھائے جاتے ہیں جبکہ 13لاکھ لفافے ہر روز مختلف مقامات پر اٹھانے سے رہ جاتے ہیں۔ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پالی تھین کی عمر500سے 1000سال کے قریب ہے کیونکہ اسے ضائع ہونے میں ایک ہزار سال لگتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پالی تھین کے استعمال پر یورپی ممالک میں مکمل پابندی عائد ہے کیونکہ وہاں ماحولیات کی صورتحال بری طرح متاثر ہوچکی ہے۔ماہرین نے کہا ہے کہ پالیتھین بیگ زمین میںدھنس جانے سے زمین کی تہہ کمزور ہوجاتی ہے اور تھوڑی سی بارش سے زمین دھنس جاتی ہے یا معمولی پانی سے ڈھہ جاتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ پالی تھین سے نکلنے والے زہریلے مواد سے زمین کی تہہ میں موجود پانی زہر آلود بن جاتاہے۔زمین کی زر خیزی ختم ہوجاتی ہے،پانی کی سطح کم ہوجاتی ہے اور پانی نا قابل استعمال بن جاتا ہے۔گرین پیس آرگنائزیشن آف انڈیا کی سروے کے مطابق پالی تھین سے10لاکھ پرندے اور1لاکھ پانی کے اندر موجودجانور سالانہ مر جاتے ہیں۔ مرکزی وزارت جل شکتی کے ماتحت’سینٹرل گرائونڈ واٹر بورڈ شمال مغربی ہمالیائی خطہ‘ پالی تھین کے استعمال اور اسکے پڑنے والے اثرات کا سال بھر تجزیہ کیا جاتا ہے۔مذکورہ بورڈجموں میں ہر سال چار بار، کھودے گئے کنوئوں سے پانی کی سطح کا اندازہ لگاتا ہے۔(Piezometers) زمین کے اندرپانی کی سطح ناپنے کا آلہ ہوتا ہے جس سے زمین کے اندر ماحولیات سے اثر ہونے والی صورتحال کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔مذکورہ بورڈکھٹوعہ،راجوری،ریاسی،سانبہ اورادہمپور اضلاع میں سال میں چار بارجنوری، مئی ، اگست اور نومبر میں زمین کے نیچے پانی کی سطح کا جائزہ لیتا ہے۔یہی بورڈکشمیر میں سال میںتین بارمئی، اگست اورنومبر میںاننت ناگ، بانڈی پورہ،بارہمولہ،بڈگام،گاندربل،کپوارہ،پلوامہ اور سرینگر میں زمین کے نیچے موجود پانی کی سطح کا جائزہ لیتا رہتا ہے۔بورڈ کی جانب سے جموں کشمیر میں 321کنوئوں،نو Piezometer اور 10چشموں پر نظر رکھی جارہی ہے۔جموں وکشمیر کے معروف ماہر ارضیات اور اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ کے وائس چانسلر شکیل رومشو نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پالتھین اور پلاسٹک نہ صرف پانی میں رہ کر اس کو خراب کرتا ہے بلکہ پانی انسانوں، جانوروں چرندوں اور پرندوں کیلئے بھی کافی نقصان دہ ثابت ہوجاتا ہے ۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ گھروں سے نکلنے والے ٹھوس فضلہ کو ندی نالوں میں پھینکا جاتا ہے ، جو پانی کو زہر آلودبنانے کا موجب بن جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی کے ندی نالوں میں ہی نہیں بلکہ جھیل ڈل، جہلم اور ولر میں سب سے زیادہ پالتھین کے لفافے کوڑا کرکٹ کے ساتھ ڈالے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پانی میں رہ رہی مچھیاں اور پانی کے اندر رہنے والی جانور بھی بری طرح متاثر ہو جاتے ہیں، کیونکہ پانی میں ایسے پرندوں اور مچھلیوں کو گندگی کی وجہ سے آکسیجن نہیں مل پاتا ۔انہوں نے کہا کہ یہ سب کا رول بنتا ہے کہ پالی تھین کے خاتمہ کیلئے سامنے آئیں اور لوگوں کو اس کے استعمال کو ترک کرنا چاہئے۔حکام کو اس کے مضر اثرات کے حوالے سے جانکاری پروگرام شروع کرنے چاہیئں اور اس کی خرید فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پالی تھین ایک خاموش قاتل ہے اور سب کو اس سے دور رہنا چاہئے۔