تہران //ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیاں اٹھائے جانے سے قبل جوہری اقدامات واپس نہیں لیں گے، امریکا کا مطالبہ قابل عمل نہیں ہے، ایسا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کی، امریکا نے ایرانی عوام پرخوراک، دوائیں بلاک کیں۔جوادظریف نے کہا کہ امریکی اقدامات کے باوجود ایران جوہری معاہدے کی پاسداری کرتا رہا، ایران نے مستقبل سے متعلق احتیاطی طور پر اقدامات کیے ہیں۔دوسری جانب خبرایجنسی کے مطابق ایران جنوری میں یورینیم افزودگی کی شرح 20فیصد تک بڑھانے کا اعلان کرچکا ہے،عالمی جوہری معاہدے کے تحت ایران پر یورینیم افزودگی کی شرح کی حد 3.67مقرر ہے۔امریکا نیجوہری معاہدے میں واپسی کو ایران کیجوہری معاہدے کی مکمل پاسداری سے مشروط کیا تھا۔امریکا کا کہنا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی مکمل پاسداری کرے تو جوہری ڈیل میں واپس آسکتے ہیں۔ادھرامریکہ کے وزیر خارجہ نے اپنے برطانوی ہم منصب کے ساتھ ایران کے ’غیر مستحکم رویے‘ پر تبادلہ خیال کیا ہے۔دونوں وزرائے خارجہ نے ایران کے ’غیر مستحکم رویے‘ سے نمٹنے سے متعلق بات کی ہے جبکہ چین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی کمیونٹی سے کیے گئے وعدے پورے کرے۔