جموں//ٹیچرز کوارڈی نیشن کمیٹی کی کال پر بھاری تعداد میں اساتذہ پریس کلب کے باہر جمع ہوئے اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کیا۔ سات مختلف تنظیموں جن میں یونائٹیڈ اسکول ٹیچرز ایسو سی ایشن ، جے کے گورنمنٹ ٹیچرز فورم، جے کے ایس ایس اے ٹیچر فورم، آل جموں کشمیر لداخ فیڈریشن،۔ اسکول ایجوکیشن ایمپلائز کارڈی نیشن کمیٹی، آل ٹیچر ز ایسو سی ایشن جے اینڈ کے اور ٹیچرز ویلفیئر ایسو سی ایشن شامل ہیں ،سے آئے مظاہرین کی قیادت ہری سنگھ، ستیش دتہ، یونس راہی، مہیشور پرساد، امرناتھ ٹھاکر، مرگ نینی سلاتھیا اور جسمیت کور کر رہے تھے۔ان کا مطالبہ تھا کہ ایس ایس اے اور رمسا کے تحت کام کر رہے اساتذہ، ماسٹروں اور ہیڈ ماسٹروں کو بھی ساتویں پے کمیشن کے دائرہ میں لایا جائے نیز ان کے تنخواہیں سنٹرل فنڈز کے بجائے ریاستی بجٹ سے ادا کی جائیں۔ دور افتادہ مقامات پر ڈیوٹی سرانجام دے چکے ٹیچرز، ماسٹرز، لیکچراروں اور ہیڈ ماسٹروں کی موافق مقامات پر تعیناتی کی جائے، ماسٹروں اور انڈر گریجویٹ ٹیچروں کی تنخواہوں میں پائی جانے والی تفاوات دور کی جائیں، اپنے گریڈ میں کام کر رہے ہیڈ ماسٹروں، لیکچراروں اور پرنسپلوں کو فوری طور پر ریگولرائز کیا جائے۔یکم جنوری 2010کے بعد تعینات کئے گئے ٹیچرز اور دیگر ملازمین کو نئی پنشن اسکیم کے بجائے پرانی اسکیم پر ہی کاربند رکھا جائے۔ مقررین نے حکومت پر الزام لگایا کہ اساتذہ بالخصوص ایس ایس اے اور رمسا کے تحت لگے ٹیچروں کے ساتھ امتیاز برتا جا رہا ہے انہیں تنخواہوں کی ادائیگی تسلسل کے ساتھ نہیں کی جا رہی ہے ۔ اس موقعہ پر دیگران کے علاوہ راجیو کمار، جوگیندر کمار، راہل سنگھ، رپوین سنگھ، راج کمار، دیویندر سنگھ ، بشیر احمد،بلونت سنگھ، رچھپال سنگھ، روپ چند، موہن سنگھ، رچھپال چودرھی، نیتو راجپوت، سونیا دیوی، سرجیت سنگھ اور کرن سنگھ نے بھی خطاب کیا اور گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ ان کی مانگوں کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے بصورت دیگر اساتذہ احتجاجی روش اپنانے پر مجبور ہوں گے۔