سان فرانسسکو//یو این آئی// ٹوئٹر پر مختلف اکاؤنٹس کے نام تبدیل کرنے اور ارب پتی کا مذاق اڑانے کے الزامات سامنے آنے کے بعد مائیکرو بلاگنگ سائٹ کے مالک نے کہا کہ ان سرگرمیوں میں ملوث اکاؤنٹ کو مستقل طور پر بندکردیا جائے گا، اگروہ اس اکاؤنٹ کو مزاحیہ (پیروڈی) ہونے کا ذکر نہیں کرتا۔مسٹر مسک نے پیر کو ٹویٹس کی ایک سیریز میں کہا کہ ٹویٹر اکاؤنٹس پر پابندی لگانے سے پہلے رپورٹ دی جاتی تھی لیکن اب کوئی اطلاع فراہم نہیں کی جائے گی ۔مسٹر مسک نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں کمپنی کے تقریباً نصف ملازمین کو فارغ کر دیا، جس سے ایسے کھاتوں کا سیلاب آ گیا۔انہوں نے تصدیق کی ہے کہ صارفین بلیو ٹک کی تصدیق کی حیثیت خرید سکتے ہیں۔ٹویٹر کے مالک نے مزاحیہ طنزیہ اکاؤنٹس کے نئے منصوبے پر ٹویٹ کیا، “اظہار رائے کی آزادی کے لیے میری وابستگی اکاونٹ پر پابندی نہ لگائی جائے تک پھیلی ہوئی ہے خواہ اس میں ذاتی حفاظت کا براہ راست خطرہ کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا، “ٹوئٹرکو دنیا میں معلومات کا سب سے درست ذریعہ بننے کی ضرورت ہے ۔ یہ ہماری مہم ہے ۔بڑے پیمانے پر تصدیق سے صحافت میں جمہوریت مضبوط ہوگی اور عوام کی آواز مضبوط ہوگی۔ اگر ٹویٹر پر کوئی بھی اکاونٹ طنزیہ کے طور پر ذکر کیے بغیر ایک جیسا نظر آتا ہے تو ان پر مستقل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ ٹویٹر پر نام کی تبدیلی عارضی طور پر تصدیقی حیثیت کو ہٹا سکتی ہے ۔ بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ متعدد اکاؤنٹس نے اپنے نام تبدیل کر کے ایلون مسک رکھ لیے ہیں اور اس ارب پتی کا مذاق اڑایا ہے جنہیں پابندی یا خبردار کیا گیا ہے ۔ اس میں امریکی کامیڈین کیتھی گریفن اور سابق این ایف ایل کھلاڑی کرس کلوے ہیں۔