سرینگر// زبرون پہاڑی سلسلے کی گود میں واقع ایشیاء کے سب سے بڑے گل لالہ باغ ( ٹولپ گارڈن) کو کھول دیا گیا۔جمعرات کو سرکاری طور پر اسے کھولنے کی رسم لیفٹنٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے انجام دی ۔ انکا کہنا تھا کہ 3،اپریل کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سرکاری طور پر ٹولپ میلہ کا افتتاح کریں گے اور اس وقت باغ گل لالہ میں پھولوں کی خوبصورتی عروج پر ہوگی جبکہ میلہ میں کشمیر کی بھرپور ثقافت ، ضیافتوں ، آرٹ اور دستکاریوں کی نمائش کی جائیگی۔پہلے دن4533 افراد نے باغ گل لالہ کی سیر کی اور یہاں پھولوں کی دنیا میں کھو گئے۔ باغ گل لالہ میں 64اقسام کے 15لاکھ پھول ہیں۔سیاحوں کا کہنا تھا کہ باغ گل لالہ میں پھولوں کی ایسی خوبصورتی پائی جاتی ہے کہ یہاں کئی بار آنا پسند کریں گے۔ دہلی سے آئی خاتون سیاح رجنی نے کہا کہ باغ کی خوبصورتی نا قابل بیان ہے۔باغ گل لالہ میں ابھی سبھی پھول نہیں کھلے ہیں لیکن پھر بھی عام لوگوں کیلئے کھولنے کے پہلے دن ہی یہاں لوگوں کی بھیڑ رہی اور خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہورہے تھے۔باغ گل لالہ کے کھولنے کی رسم انجام دینے کے موقعہ پر بصیر احمد خان نے میڈیا سے مختصر بات چیت کے دوران کہاکہ ایشیاء کے سب سے بڑے ٹولپ گارڈن کومزید خوبصورت بنانے کیلئے حکومت نے10 کروڑ روپے کا نیا منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیلانی اورسیاح اس کودیکھنے کیلئے آئیں ۔بصیر خان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل سیاح دیگر عالمی سطح کے مشہور باغات اور اور کشمیر کے سیر گاہوں کا دورہ کرتے تھے لیکن اب باغِ گُل لالہ اُن کے لئے ایک مشہور مقام اور توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پوشیدہ اور نئے سیاحتی مقامات کی تلاش کے لئے ایک جامع پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ جیسا کہ بڈگام میںدودھ پتھری اور جموں میںبسوہلی ، بھدرواہ شامل ہیں ۔ٹیولپ گارڈن کی خوبصورتی کیلئے10 کروڑ روپے کے منصوبے کے بارے میں ، بصیرخان نے کہا کہ اس میں ٹولپ باغ کو ایک چیری (گلاس)باغ اور باغ کے پچھلے حصے میں دیگر پرکشش درختوں اور پھولوں کو پھیلانے کا مرحلہ شامل ہے جو یہاں آنے والے سیلانیوںوسیاحوں کیلئے ایک اور کشش ہوگی۔مشیرموصوف نے میڈیا پرزور دیا کہ وہ ٹیولپ فیسٹول کی تشہیر عام کریں اور اس پیغام کو جموںوکشمیر کے باہر پھیلائیں تاکہ مزید سیاح اس باغ کا دورہ کریں۔انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے کسی بھی موقعے سے بچنے کے لئے معیاری عملیاتی طریقہ کار پر سختی سے عمل کریں۔