بھدرواہ//ضلع ڈوڈہ کے ٹانٹا پنچایت کے تین دیہاتوں کے بی پی ایل کنبوں کے ایک سو سے زائد کنبے گُذشتہ تین برسوں سے پانی کی سخت قلت سے دوچار ہیں ،جسکی وجہ سے انہوں نے اجتماعی ہجرت ،یہاں تک کہ خود کشی کا انتباہ دیا ہے کیونکہ انہیں گُذشتہ 15دنوں سے پینے کے پانی سے محروم رکھا گیا ہے۔حُکام کے بے رُخی اور بعض با رسوخ دیہاتیوں کے عامرانہ برتائو سے تحصیل کاہرا کے ٹانٹا پنچایت کے باران ، یدوان ، فاٹرس نے انتباہ دیا ہے کہ اگر ضلع انتظامیہ ان کے فوری مدد کے لئے آگے نہیں آئی تو وہ اپنے آبائی مقامات سے اجتماعی ہجرت کریں گے یا اپنے بچوں کے ہمراہ ضلع انتظا میہ کے پاس زہر کھا کر اجتماعی خود کشی کریں گے۔پہاڑی اور ناقابل رسائی ٹانٹا پنچایت چھوٹے چھوٹے12گھرانوں پر مشتمل ہے، جو کہ کاہرہ کے پہاڑوں پر پھیلا ہوا ہے۔ان گھرانوں کے100خاندانوں کی خواتین کو تقریباً تین کلو میٹر کی مسافت طے کرنا پڑتی ہے جبکہ دیگرلوگ ملحقہ دیہات میں کئی فعال پائپوں سے پانی حاصل کرنے کے لئے قطاروں میں لگے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کو پانی حاصل کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے یا دس کلو میٹر کی دوری سے پانی لانے کا متبادل ہے۔موضع باگرن کی ایک خاتون ریشمہ بیگم نے کہا کہ ’’ہمیں 10لیٹر پانی حاصل کرنے کیلئے 3سے5گھنٹے لگتے ہیں اور ہم گروپوں کی شکل میں جاتے ہیں کیونکہ یہ راستہ گھنے جنگلوںمیں سے گُذرتا ہے،جہاں پر جنگلی جانوروں کا خطرہ رہتا ہے‘‘۔انہوں نے مزید بتایا کہ کا فی مشقت کے بعد انہیں گندہ پانی ملتا ہے کیونکہ مویشی بھی اسی وسیلہ سے پانی پیتے ہیں۔موضع باگرن کے ہی عطا محمد نے کہا کہ گذشتہ تین برسوں سے انہیں پانی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اب گُذشتہ 15دنوں سے وقتاً فوقتاً سپلائی کیا جا رہا پانی بھی بند کردیا گیا ہے کیونکہ بعض شرارت پسندوں نے پائپیں چرا لی ہیں۔حالانکہ ہم نے پائپوں کی چوری کی خبر جے ای و دیگران کو دی تھی لیکن بجائے صیح اقدام کے انہوں نے ہمیں ایف آئی آر درج کرانے کوکہا ،یہاں تک کہ ہم نے پولیس سے بھی رابطہ کیا لیکن انہوں نے بھی کارروائی کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ پائپیں پی ایچ ای محکمہ کی ہیں اور وہی چوری کے جائیداد کے بارے میں شکایت درج کرا سکتے ہیں۔اُس نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں ہمارے پاس خود کشی کے بغیر کوئی متبال نہیں ہے۔پانی کی قلت سے نہ صرف دیہاتویں کو پریشانی ہو رہی ہے بلکہ اس سے علاقہ کے جانورں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ اطلاعات ہیں کہ گُذشتہ 10دنوں سے پانی نہ ملنے کی وجہ سے کئی مویشی لقمہ اجل بن گئے ہیں۔موضع فترُس کی مرزا بیگم نے کہا کہ گذشتہ 15دنوں کی پانی کی قلت سے ہم اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے لائق نہیں ہیںاور ایک ہفتہ میں ہامرے آدھے درجن کے مال و مویشی لقمہ اجل بن گئے ہیں۔اس نے مزید کہا کہ اگر پانی کی سپلائی فوری طور بحال نہیں کی گئی تو ہم بر باد ہو جائیں گے۔ایس ڈی ایم ٹھاٹھری محمد انور بانڈے نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ’’جونہی مُجھے ٹانٹا پنچایت میں پانی کی قلت کی خبر ملی تو میں نے فوری طور سے پی ایچ ای اہلکاروں کو پانی کی سپلائی بحال کرنے کی ہدایت دی ۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹانٹا پنچایت سب ڈویژن ٹھاٹھری کا ایک نہایت ہی پسماندہ اور ناقابل رسائی علاقہ ہے اور انکی بنیادی سہولیت کی شکایا ت کا ازالہ کرنے کے لئے ہم عنقریب ہی مذکورہ نچایت کے موضع درمن میں ایک عوامی دربار منعقد کر رہے ہیں۔