ایجنسیز
کراکس//وینزویلا میں گزشتہ دنوں 2 طاقتور زلزلے آئے تھے، جس نے زبردست تباہی مچائی ہے۔ سینکڑوں عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور اب تک 920 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس درمیان آج ایک بار پھر وینزویلا کو زلزلہ کے جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آج وینزویلا میں 4.9 شدت کا نیا زلزلہ محسوس کیا گیا۔ اس زلزلہ نے لوگوں میں خوف کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ حالانکہ نئے زلزلہ سے مزید کسی جانی و مالی نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی ہے، لیکن پہلے سے ہی منہدم عمارتوں میں جاری ریسکیو مہم ضرور متاثر ہوئی ہے۔جہاں تک 2 طاقتور زلزلوں کے بعد وینزویلا میں جاری راحت رسانی و بچاو کاری کے عمل کا سوال ہے، بڑی تعداد میں لوگ اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی تلاش میں خود ہی مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ دراصل سرکاری راحت رسانی ٹیموں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے عام لوگ ملبہ میں دبے لوگوں کو تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سینکڑوں لاشیں ملبوں سے نکالی جا چکی ہیں اور 3 ہزار سے زائد لوگ اس قدرتی آفت میں زخمی ہو چکے ہیں۔ زخمیوں میں کئی کی حالت سنگین بھی بتائی جا رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق لا گویرا اور اس کے آس پاس کے علاقے زلزلہ میں زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں کے لوگ اپنے گھروں کے ملبہ میں خود تلاشی مہم چلا رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ مقامات پر بچاو ٹیمیں بہت کم دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ حکومت راحتی کاموں کی حوصلہ افزا تصویر پیش کر رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ریسکیو مہم بہت سست ہے، جس کی وجہ سے ہر گزرتے وقت کے ساتھ ملبہ میں دبے لوگوں کو بچانے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔قدرتی آفت کے 2 دن بعد لاپتہ لوگوں کے زندہ ہونے کا امکان بہت کم رہ گیا ہے۔ ابھی 51 ہزار سے یادہ افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، جن کی تلاش ایک مشکل مرحلہ ہے۔ راحتی ایجنسیوں کے مطابق زلزلہ کے بعد 48 سے 72 گھنٹے بہت اہم ہوتے ہیں، کیونکہ اسی وقت میں لوگوں کو بچانے کی امید زیادہ ہوتی ہے۔ کئی ممالک نے وینزویلا کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے اور 2 درجن سے زیادہ بچاو ٹیمیں دنیا کے مختلف حصوں سے وینزویلا پہنچ چکے ہیں یا پہنچنے والے ہیں۔ وینزویلا کی پارلیمنٹ کے سربراہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہر ایک شخص کو بچانا اب کسی چمتکار جیسا ہے، اور حکومت کسی بھی معاملہ کو عوام سے چھپائے گی نہیں۔اس درمیان ایک انتہائی حیرت انگیز واقعہ سامنے آیا ہے۔
ایک خاتون نے ملبہ کے نیچے ہی بچے کو جنم دیا ہے۔ اس خبر نے پوری دنیا کو امید اور حوصلے کا ایک مضبوط پیغام دیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ماں اور بچے دونوں ہی صحت مند ہیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں زیادہ تفصیل ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس واقعہ نے ملبہ میں پھنسے لوگوں کے اب بھی زندہ ہونے کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔ ریسکیو مہم میں مصروف اہلکار لگاتار اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ زندگیوں کو ملبہ سے بہ حفاظت باہر نکالا جائے۔