عارف بلوچ
اننت ناگ//ویریناگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ویریناگ میں ایک پارکنگ سہولت بعض ڈرائیوروں کے حق میں براہِ راست الاٹ کیے جانے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ الاٹمنٹ کے عمل میں ٹینڈرنگ کے مقررہ قواعد و ضوابط (SOPs) کو نظر انداز کیے جانے کے الزام میں اینٹی کرپشن بیورو (ACB) میں ایک باضابطہ شکایت دائر کی گئی ہے ۔دریں اثنا، چیف ایگزیکٹو آفیسر ویریناگ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ یہ اقدام مقامی ممبر اسمبلی ڈورو غلام احمد میر کی ہدایات پر ویریناگ میں ٹریفک مسائل کو کم کرنے کے مقصد سے اٹھایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اتھارٹی نے آرڈر نمبر CEO/VDA/558-6 مورخہ 10-06-2026 کے تحت مذکورہ جگہ صرف تین ماہ کے لیے الاٹ کی ہے۔تاہم مقامی رہائشیوں اور دکانداروں نے اس موقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ویریناگ میں موجودہ ٹریفک مسائل کے لیے خود متعلقہ محکمہ ذمہ دار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی دفتر نے قبل ازیں Kapran-Verinag Road پر Khewa Kul کے نزدیک سیاحتی گاڑیوں سے پارکنگ فیس وصول کرنے کے لیے ایک اور الاٹمنٹ آرڈر نمبر CEO/VDA/3-17 مورخہ 04-04-2026 کے ذریعے جاری کی تھی، جس کے بعد مذکورہ مقام پر ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔ذرائع کے مطابق، ویریناگ میں متعلقہ پارکنگ مقام تقریباً تین سال قبل محکمہ سیاحت کشمیر کے سری نگر دفتر میں نیلامی کے ذریعے تقریباً پانچ لاکھ روپے میں آؤٹ سورس کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ بعد ازاں اسی بنیاد پر ماہانہ پارکنگ فیس تقریباً 45 ہزار روپے بنتی تھی، جبکہ حالیہ الاٹمنٹ صرف 7 ہزار روپے ماہانہ کے عوض کی گئی ہے۔مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے سے سرکاری خزانے کو مالی نقصان پہنچ رہا ہے اور معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہیے۔ دوسری جانب شکایت درج ہونے کے بعد اینٹی کرپشن بیورو کی جانب سے کسی ممکنہ کارروائی یا تحقیقات کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔