غلام نبی رینہ+عظمیٰ نیوز سروس
کنگن +سرینگر// دراس ضلع میں بدھ کو مارپوچو کے قریب دریائے دراس میں ایک کار گرنے سے 4افراد غرقآب ہوئے جن میں سے ایک شخص کی لاش بر آمد کی گئی جبکہ تین دیگر لاپتہ ہیں۔جن میں دو لڑکیاں بھی شامل ہیں۔اس دوران چرا شریف حادثے کا زخمی ہسپتال میں دم توڑ گیا جبکہپہلگام حادثہ میں 3 زخمی ہوگئے۔دریں اثناءنوگام میں غیرمقامی مزدوراونچائی سے گر کر مضروب ہوگیا جبکہ کنگن پاور کنال سے لاش برآمد کی گئی۔ایس پی دراس اشتیاق احمد کاچو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ منگل کی شام سونمرگ سے کرگل جارہی ایک فرونکس گاڑی زیر رجسٹریشن نمبر LA01-4920، حادثے کا شکار ہو کر دریا میں گر گئی۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے وقت گاڑی میں چار افراد سوار تھے۔انکا کہنا تھا کہ واقعہ رونما ہوتے ہی بچائو کارروائی شروع کی گئی اور حادثہ کے شکار ایک شخص 35سالہ آغا سید باقر ولد سید مسلم ساکن لنکرچی کی لاش نکالی گئی۔انہوں نے تاہم کہا کہ کار کا کہیں پتہ نہیں چل سکا اور نہ اس میں سوار دیگر تین افراد 26سالہ سجاد حسین ولد حاجی محمود حسین ساکن لنکرچی ، 25سالہ حسینہ بانو دخترمحمود حسین گتو لنکرچی اور 23سالہ صغرا بانو دختر محمد علی گاٹو لنکرچی کاکہیں اتہ پتہ چل سکا۔
ایس پی نے بتایا کہ اہلخانہ نے جب اپنے عزیزوں سے فون پر رابطہ کیا تھا ،تو تین افراد کے فون بند آرہے تھے جبکہ ایک کے فون کی گھنٹی بج رہی تھی لیکن فون کوئی نہیں اٹھارہا تھا جس کے بعد اہلخانہ نے اس بارے میں دراس پولیس سے رابطہ قائم کیا۔ ایس پی نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر روانہ ہوئیں اور حادثے کی جگہ پر گاڑی کے ٹائروں کے نشان پائے گئے اور ٹھنڈا موڑ کے مقام پر ایک لاش برآمد کی گئی جس کی شناخت 35برس کے آغا سید باکر ولد سید مسلم ساکن لنکرچی کے طور پر کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مزید تین لاپتہ افراد جن میں دو لڑکیاں بھی شامل ہے کی تلاش شروع کردی گئی لیکن اندھیرے کی وجہ سے دو بجے رات تک کوئی لاش اور گاڑی برآمد نہیں ہوئی ، جس کے بعد ریسکیو آپریشن کو معطل کرنا پڑا اور بدھ کی صبح لاپتہ تین افراد کی لاشوں کو برآمد کرنے کے لئے دوبارہ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا ۔ ایس پی دراس نے بتایا کہ دریا میں پانی کے تیز بہائو کی وجہ سے لاپتہ افراد کا پتہ نہیں لگ سکا لیکن بدھ کی سہ پہر حادثہ کی جگہ سے کئی کلو میٹر دور گاڑی تلاش کی گئی لیکن اس میں کوئی لاش نہیں تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لاپتہ افراد کی لاشوں کو برآمد کرنے کے لئے رسکیوں آپریشن ٹیمیں اور مشینری کو کام پر لگادیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ دراس پولیس نے حادثے سے متعلق ایف آئی آر زیر نمبر 20/2026 زیر دفعہ 281/بی این ایس درج کرلیا ہے۔ادھرچرا شریف۔چاڈورہ روڈ پر رواں ماہ کے آغاز میں پیش آئے حادثے میں زخمی ہونے والا شخص بدھ کو ایس ایم ایچ ایس اسپتال سرینگر میں دم توڑ گیا۔اس کی شناخت غلام رسول کھٹانہ ولد مرحوم محمد سلطان، عمر تقریباً 50سال، ساکن چیلن چنٹ نار، چرا شریف کے طور پر ہوئی ہے۔ کھٹانہ 5جون کو پیش آئے حادثے میں زخمی ہوا تھا اور اسے علاج کے لیے ایس ایم ایچ ایس اسپتال داخل کیا گیا تھا۔ طبی کوششوں کے باوجود وہ بدھ کو زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ ادھر اننت ناگ ضلع کے پہلگام کے سربل علاقے میں ایک آلٹو کار رجسٹریشن نمبر JK03E-0333، پہلگام سے اننت ناگ جا رہاتھی جس میں دو مسافر سوار تھے ،اسے سربل کے قریب ایک بس رجسٹریشن نمبر JK19A-9907نے مبینہ طور پر پیچھے سے ٹکر مار دی۔تصادم کے بعد کار سڑک سے پھسل کر لڈر نالے میں جاگری جس سے گاڑی کو کافی نقصان پہنچا۔ ڈرائیور اور دو مسافروں کو بحفاظت باہر نکالاگیا اور علاج کے لیے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال پہلگام منتقل کیا گیا۔اس دوران پوشکر کنگن علاقے میں ایک شخص نے ہائیڈرو پاور کنال میں چھلانگ لگاکر زندگی کا خاتمہ کردیا۔جس کے فورآ بعد لواحقین نے اس بارے میں پولیس کو مطلع کیا پولیس اور ایس ڈی آر ایف گنڈ اور کنگن جائے موقع پر پہنچ گئے اور پاور کنال میں غرقاب ہوئے شخص کی تلاش شروع کردی اور کافی مشقت کے بعد لاش کو پاور کنال سے برآمد کرلیا اور قانونی لوازمات کے بعد لاش کو لواحقین کے حوالے کردیا۔مذکورہ شخص کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا۔ادھرحکام نے بتایا کہ بدھ کے روز سری نگر کے نوگام کے علاقے نائک باغ میں کام کے دوران اونچائی سے گرنے سے ایک غیر مقامی مزدور شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی مزدور کو فوری طور پر علاج کے لیے اْجالاہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد میں اس کے زخموں کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سری نگر ریفر کردیا گیا۔اس کی شناخت 35سالہ شمشاد ساکن بہار کے طور ہوئی۔زخمی مزدور کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور وہ ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ پولیس نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔