ڈی اے رشید
سرینگر//جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ رہن بمعہ مشروط فروخت (Mortgage-cum-Conditional Sale) کا معاہدہ کسی بھی شخص کو غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت کا قانونی حق نہیں دیتا اور نہ ہی یہ جموں و کشمیر مہاجرین کی غیر منقولہ جائیداد (تحفظ، حفاظت اور مجبوری میں فروخت پر پابندی) ایکٹ 1997کے تحت فراہم کردہ قانونی تحفظات پر غالب آ سکتا ہے۔جسٹس موکشا کھجوریا کاظمی پر مشتمل سنگل بینچ نے یہ فیصلہ جنوبی کشمیر کے ویری ناگ میں واقع ایک مہاجر جائیداد سے قابضین کی بے دخلی کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کرتے ہوئے صادر کیا۔درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ 1986 سے اس زمین پر قابض ہیں۔ ان کے مطابق ان کا قبضہ اصل مالک رادھا کرشن کی جانب سے کیا گیا ایک نوٹری شدہ رہن بمعہ مشروط فروخت کے معاہدے اور 1988میں اسسٹنٹ کلیکٹر، زرعی اصلاحات کی عدالت کے ایک فیصلے کی بنیاد پر قانونی ہے۔مزید یہ کہ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ رادھا کرشن نے ان کے آباؤ اجداد سے 3لاکھ 60ہزار روپے بطور قرض حاصل کیے تھے اور اس قرض کی ضمانت کے طور پر مذکورہ زمین رہن رکھی تھی۔
معاہدے کے مطابق اگر قرض واپس نہ کیا جاتا تو زمین کی ملکیت خود بخود رہن رکھنے والے (Mortgagee) کے نام منتقل ہو جاتی۔انہوں نے یہ بھی استدلال کیا کہ مذکورہ دستاویزات انہیں زمین کی قانونی ملکیت اور قبضے کا حق فراہم کرتی ہیں۔تاہم ہائی کورٹ نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ اننت ناگ اور جموں و کشمیر کے مالیاتی کمشنر (ریونیو) کے احکامات کو برقرار رکھا، جن کے تحت باغوان پورہ، ویری ناگ میں واقع 3کنال 13مرلہ اراضی سے درخواست گزاروں کو بے دخل کرنے اور اس کا قبضہ 1997کے ایکٹ کے مطابق ضلع مجسٹریٹ کے سپرد کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔عدالت نے قرار دیا کہ غیر رجسٹرڈ معاہدہ قانونی طور پر کسی بھی غیر منقولہ جائیداد کی ملکیت منتقل نہیں کر سکتا، اس لیے اس کی بنیاد پر قبضہ یا ملکیت کا دعویٰ بھی قابل قبول نہیں۔عدالت نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس معاہدے پر عمل درآمد چاہتے ہیں تو انہیں رِٹ درخواست دائر کرنے کے بجائے متعلقہ سول عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔عدالت نے مزید واضح کیا کہ یہ جائیداد بلا شبہ مہاجر جائیدادہے جسے 1997کے ایکٹ کے تحت مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار خود سابقہ عدالتی کارروائیوں میں اس جائیداد کے مہاجر جائیداد ہونے کا اعتراف کر چکے ہیں۔عدالت نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ مہاجر جائیدادوں کا قانونی محافظ (Custodia Legis) ہوتا ہے اور اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسی جائیدادوں سے غیر مجاز قابضین کو بے دخل کرے تاکہ ان املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔درخواست گزاروں کی جانب سے پیش کیے گئے 1988کے فیصلےکے بارے میں عدالت نے واضح کیا کہ اسسٹنٹ کلیکٹر، زرعی اصلاحات کے پاس ایسا فیصلہ صادر کرنے کا کوئی قانونی اختیار (Jurisdiction) موجود نہیں تھا، اس لیے یہ فیصلہ ابتدا ہی سے کالعدم ہے اور اس کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہو سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا’’سپریم کورٹ کے فیصلوں سے یہ اصول طے شدہ ہے کہ اگر کوئی اتھارٹی اپنے قانونی اختیار سے مکمل طور پر تجاوز کرتے ہوئے کوئی کارروائی کرے تو شہری پر یہ لازم نہیں کہ وہ ایسے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرے، کیونکہ قانون کی نظر میں وہ فیصلہ پہلے ہی مردہ اور بے اثر ہوتا ہے‘‘۔عدالت نے مزید کہا’’چونکہ اسسٹنٹ کلیکٹر، زرعی اصلاحات کی جانب سے صادر کردہ فیصلہ دائرۂ اختیار سے باہر تھا، اس لیے وہ قانون کی نظر میں کالعدم (Void/Nullity) ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت یا وقعت نہیں‘‘۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ’’یہ ایک مسلمہ قانونی اصول ہے کہ اگر کوئی عدالت یا اتھارٹی اپنے دائرۂ اختیار سے باہر یا ایسے معاملات میں فیصلہ دے جن پر اسے بنیادی طور پر اختیار حاصل نہ ہو، تو ایسا فیصلہ کورم نان جوڈِس (Coram Non Judice)تصور کیا جاتا ہے، یعنی قانون کی نظر میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی‘‘۔آخر میں عدالت نے 22مارچ 1988کے فیصلے کو ابتدا ہی سے کالعدم اور باطل (Void ab initio) قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی قانون کی نظر میں کوئی قانونی حیثیت یا مؤثریت نہیں ہے۔