جاوید اقبال
مینڈھر//مینڈھر کے پٹھانہ تیر علاقے سے تعلق رکھنے والے بہادر پولیس اہلکار امجد پٹھان کو جمعرات کے روز ان کے آبائی علاقے میں آہوں، سسکیوں اور پرنم آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ضلع ادھم پور میں ملی ٹینٹوں کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران مارے جانے والے اس جوان کی ہلاکت کی خبر جیسے ہی علاقے میں پھیلی، پورا علاقہ سوگ میں ڈوب گیا۔ ہر چہرہ غم سے نڈھال اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی، جبکہ فضا میں ایک خاموش اداسی چھائی رہی۔ امجد پٹھان کی میت جب قومی پرچم میں لپٹی ہوئی ان کے آبائی گاؤں پٹھانہ تیر پہنچی تو وہاں کا منظر ہر دل کو رلا دینے والا تھا۔ اہلِ خانہ، رشتہ داروں، دوستوں اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد پہلے ہی وہاں موجود تھی۔
جیسے ہی ان کا جسدِ خاکی گھر پہنچا، آہ و بکا کا سماں بندھ گیا۔ بوڑھے والدین کی سسکیاں، بیوہ کی خاموش چیخیں اور معصوم بچوں کی آنکھوں میں سوال بن کر ٹھہرے آنسو ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لئے کافی تھے۔ لوگوں نے پھول نچھاور کر کے اپنے اس بہادر سپوت کو آخری سلام پیش کیا اور بار بار آنسو پونچھتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھتے رہے۔بعد ازاں پولیس اور سول انتظامیہ اور دیگر سیکورٹی فورسز کی جانب سے مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ انکی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ پولیس کے جوانوں نے بندوقوں کی سلامی دی، جبکہ قومی پرچم میں لپٹے ان کے جسدِ خاکی کو انتہائی احترام کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ اس موقع پر فضا میں ’امجد پٹھان امر رہے‘ کے نعرے گونجتے رہے، جو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ اپنے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔اس غمگین موقع پر ضلع پونچھ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) سمیت پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ افسران نےانکے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور محکمہ پولیس کی جانب سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ ایس ایس پی پونچھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ امجد پٹھان نے فرض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان قربان کر کے بہادری اور فرض شناسی کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سپوت کسی ایک خاندان ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا فخر ہوتے ہیں، اور ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔مقامی لوگوں نے بھی امجد پٹھان کی جرات، قربانی اور انسان دوستی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ نہایت ملنسار، نرم گفتار اور اپنے فرائض کے تئیں انتہائی سنجیدہ پولیس اہلکار تھے۔ ان کی وفات سے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے علاقے کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، جس کا خلا شاید کبھی پْر نہ ہو سکے۔مرحوم کے درجات کی بلندی کے لئے خصوصی دعا کی گئی اور اہلِ خانہ کے لئے صبرِ جمیل کی دعا مانگی گئی۔