آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کی مذمت،فاتحہ خوانی کا اہتمام،طلباء کی وطن واپسی پر زور
سرینگر// ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعدمغربی ایشیاء موجودہ صورتحال کے پیش نظروزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں مذہبی علما، سول سوسائٹی کے ارکان اور تجارتی و کاروباری اداروں کے نمائندوں کے ساتھ ایک بات چیت کا اہتمام کیا۔اجلاس میں وزیر سکینہ ایتو، وزیر جاوید احمد ڈار، وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کشمیر سے مختلف ارکان قانون ساز اسمبلی، ڈویژنل کمشنر کشمیر انشل گارگ، آئی جی پی کشمیر وی۔ کے۔ بردی، ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لابرو اور ڈویژن اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر سینئر افسروں نے شرکت کی۔سول سوسائٹی کے ممتاز اراکین، جن میں مذہبی رہنما، سماجی کارکن، ریٹائرڈ بیوروکریٹس، تعلیمی ماہرین اور تجارتی اداروں کے نمائندے شامل تھے، اس تعامل میں شریک ہوئے جو مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی جنگ اور اس کے ممکنہ اثرات خاص طور پر وادی کشمیر میں دیکھنے کے پس منظر میں بلایا گیا تھا۔
وزیراعلیٰ نے شرکاء کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل اور تجاویز کو غور سے سنا اور اپنی حکومت کے امن قائم رکھنے اور ضروری خدمات کی بلا رکاوٹ فراہمی کے عزم کو دہرایا۔شرکاء نے مغربی ایشیا کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس نے کئی ممالک کو متاثر کیا، اور ان لوگوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، خاص طور پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے کئی اہل خانہ کے ہدف بننے والے قتل کے سلسلے میں۔اجلاس کے دوران شرکاء نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ مظاہرین اور سوگواروں کے ساتھ ہمدردی اور سمجھداری کے ساتھ پیش آئیں، اور اجتماعات کو غم منانے کی اجازت دیں، تاکہ عوامی نظم و ضبط برقرار رہے۔ انہوں نے حالیہ دنوں میں حراست میں لیے گئے افراد کی رہائی اور نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات کو ختم کرنے کی بھی درخواست کی، جو صرف اپنے روحانی رہنما کی وفات پر سوگ منانے کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ایران میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل ’’لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم رہنما کشمیری عوام کے حقیقی حامی تھے اور ہمیشہ بھارت کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتے تھے۔وزیراعلیٰ نے یاد دلایا کہ وہ ایران دو مرتبہ گئے، ایک بار بھارتی حکومت میں وزیر برائے خارجہ امور کے طور پر اور دوسری بار وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے خصوصی نمائندے کے طور پر، اور کہا کہ بھارت اور ایران کے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر میں امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور لوگوں سے اپیل کی کہ غم کا اظہار پرامن اور ذمہ دارانہ طریقے سے کریں۔انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد حالیہ پیش رفت پر اجتماعی دکھ و غم کا اظہار کرنا اور امن کے لیے مشترکہ اپیل کرنا تھا۔ انہوں نے اجتماعی مذمت، اجتماعی تعزیت اور سوگ کے دوران سکون قائم رکھنے کے لیے مشترکہ عزم کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے انتظامیہ اور مذہبی تنظیموں کے کردار کو پرامن ماحول کو یقینی بنانے میں اہم قرار دیا اور کہا کہ تعزیتی اجتماعات کے دوران کسی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔حالیہ گرفتاریوںاور مقدمات کے سلسلے میں وزیراعلیٰ نے شرکاء کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھائیں گے تاکہ نرم اور مہربان رویہ اپنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے لوگ، خاص طور پر نوجوان، خطرے میں پڑیں۔ایران میں پھنسے کشمیری طلبہ کے انخلاء کے مسئلے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ ان کی حفاظت اور محفوظ واپسی کے لیے وزارت خارجہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ طلبہ کو زمینی راستے کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے کیونکہ اس علاقے میں پروازیں منسوخ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض والدین ان سے ملاقات کر کے پھنسے طلبہ کے لیے مدد چاہتے تھے، بعض طلبہ جو انٹرن تھے واپس آنے سے انکار کر گئے، اور کچھ کو طبی کالجوں نے روک دیا ہے، جنہوں نے طلبہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ واپس گئے تو انہیں ایک سال ضائع کرنا پڑے گا اور تعلیمی سیشن دوبارہ پڑھنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ ایران میں متعلقہ کالج حکام سے سفارتی ذرائع کے ذریعے درخواست کی جائے گی کہ واپس آنے والے طلبہ کو سزا نہ دی جائے۔اجلاس کا آغاز آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے انتقال پر تعزیت کے ساتھ ہوا، جس کے بعد ایران کے سپریم لیڈر، اسکول کی طالبات اور دیگر افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جو ایران میں حملوں میں جان سے گئے۔
وزیراعلیٰ نے میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا’’ہم نے پوری وادی سے سول سوسائٹی کے اراکین اور مختلف تعلق داروںسے ملاقات کی۔ ہم نے اس بارے میں بات کی کہ امن کیسے قائم ہو سکتا ہے اورامن کے لیے مشترکہ اپیل کی گئی‘‘ ۔مشترکہ اپیل جاری کرنے پر شرکا ءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنے جذبات کو ذمہ داری سے پیش کریں۔انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں جو کچھ بھی اظہار کرنا ہے ،اپنے غصے، اپنی تعزیت، اپنے جذبات ،ہم ان کا اظہار اپنی مساجد، مزارات اور امام بارگاہوں میں کر سکتے ہیں، لیکن جہاں بھی ہم ان کا اظہار کرتے ہیں، وہ پرامن ہونا چاہیے۔ یہ وہ اپیل ہے جو ہم سب کی طرف سے نکلی ہے، اور ہمیں امید ہے کہ یہ جموں و کشمیر کے لوگوں میں گونجے گی‘‘۔سلامتی کی صورتحال پرعمرعبداللہ نے کہا کہ جہاں بھی ممکن ہو پابندیوں میں نرمی کی جائے گی لیکن انہوں نے زور دے کر کہا کہ تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پابندیاں ہٹا دی جائیں گی لیکن سڑکوں پر خون نہیں بہنا چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا، ’’شرکا نے امن کے لیے دعا کی اور استحکام کی امید ظاہر کی‘‘۔بین الاقوامی پیش رفت پرانہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے “شہادت” قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ “ہم شہید ہونے والے ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے جذبات اور تعزیت کا اظہار کرنا چاہیے لیکن ذمہ داری اور پرامن طریقے سے‘‘۔