چنددن پہلے ہندوستانی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں بڑا جذ باتی منظر دیکھنے کو ملا۔ راجیہ سبھا کے قائد ِ اپوزیشن اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کی معیاد کی تکمیل کے بعد ایوان سے سبکدوشی کے موقع پر وزیراعظم نریندرمودی ان کی دیرینہ سیاسی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کافی جذباتی ہوگئے اور ان کی آ نکھوں سے آ نسو چھلک پڑے۔ منگل کے روز(9؍ فروری) ہوئے اس اجلاس میں غلام نبی آزاد بھی اپنی الوداعی تقر یر کے دوران اشکبار ہو گئے۔ عام طور پر الوداعی تقاریب میں ایک دوسرے سے بچھڑنے کا غم ہوتا ہے اور ایسے وقت ماضی کی تلخیوں کو بُھلا کر خوشگوار یادوں کا سہارا لیا جا تا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے غلام نبی آزاد کے متعلق کئی واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے قائد ہیں جو نہ صرف اپنی پارٹی کے لئے بلکہ ملک اور قوم کے لئے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں۔ ان کے طویل سیاسی کرئیر میں انہوں نے نا قابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ اس موقع پر غلام نبی آزاد نے بھی اپنے ملک کے تئیں جن جذبات کا اظہار کیا وہ بھی قابل ِ ستائش ہے۔ انہوں نے اپنے ہندوستانی مسلمان ہونے پر فخر کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جو کبھی پاکستان نہیں گئے۔ غلام نبی آزاد کا شمار ان سیاسی قائدین میں ہوتا ہے جنہوں نے آزادی کے بعد اپنی محنت اور صلا حیت کے ذریعہ قومی سیاست میں اپنا ایک منفرد مقام اور مرتبہ بنایا۔ کانگریس پارٹی کے مسلم چہرے کی حیثیت سے انہیں سارے ملک میں جا نا جاتا ہے۔ اندارگاندھی سے لے راجیو گاندھی تک کے دورِ حکومت میں وہ مختلف وزاتوں اور عہدوں پر فائز رہے۔
حالیہ عرصہ میں کانگریس قیادت سے انہیں کچھ شکایات رہیں اور معاملہ یہاں تک بڑھا کہ راہول گاندھی سے ان کی ٹھن گئی ۔ اب آگے کانگریس پارٹی میں ان کا کیا مقام رہے گا وہ ایک الگ موضوع ہے۔ غلام بنی آزاد نے 41سالہ پارلیمانی زندگی گذاری ہے ۔ اس میں کئی نشیب و فراز بھی آ ئے ہیں۔ ان کا تعلق کشمیر سے ہے۔ وہ جموں و کشمیر کے چیف منسٹر بھی رہے ہیں۔ یہ سوال اہم ہے کہ کم و بیش اپنے نصف صدی کے سیاسی سفر کے دوران انہوں نے کشمیریوں کو کیا دیا۔ انہوں نے قومی سیاست میں رہتے ہوئے اپنی ریاست کی عوام کے لئے کیا خدمات انجام دیں۔
وزیراعظم نے قائد ِ اپوزیشن کی جم کر تعریف کی اور کہا کہ وہ ان سے کئی معا ملات میں مشورہ بھی لیتے رہے۔ کیا کبھی کشمیریوں کے بارے میں بھی وزیراعظم نے غلام نبی آزاد سے کوئی مشورہ لیا۔ دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد سے کشمیر ایک ایسی تجربہ گا ہ میں تبدیل ہوگیا ہے جہاں ہر سیاسی پارٹی اپنا تجربہ آزماتے ہوئے وہاں کی عوام کو دھوکہ دیتی رہی۔ اس میں سب ہی پارٹیاں شامل ہیں۔ قومی پارٹیوں میں کانگریس کو زیادہ دوش دیا جاسکتا ہے کہ اس نے جنت نشان کشمیر کو جہنم زار بننے سے بچانے میں کوئی مخلصانہ اقدامات نہیں کئے۔ عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے میں کانگریس ہمیشہ ناکام رہی۔ ریاست میں عوامی حکومت بنانے کا موقع کبھی بھی نہیں دیا گیا۔ دہلی سے اپنے پسندیدہ قائدین کو کشمیر کی عوام پر مسلط کیا گیا۔ اس سے کشمیریوں میں مرکزی حکومت کے تئیں منفی جذبات پروان چڑھتے رہے اور آج کشمیر میں ہندوستان سے مکمل بیگانگی پائی جا تی ہے۔کشمیر میں خونریزی اور ہلاکت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ گزشتہ کئی دہوں سے جاری ہے۔ کشمیر کی عوام سیکوریٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ماری جا رہی ہے۔ آج کشمیر میں جو ماحول پایا جارہا ہے وہ کسی بھی لحاظ سے اطمینان بخش نہیں ہے۔
غلام نبی آزاد کے ساتھ جموں و کشمیر کے اور تین راجیہ سبھا کے ارکان آج یعنی 15؍ فروری 2021 کوایوان با لا کی رکنیت سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ ان تمام کی سبکدوشی کے بعد راجیہ سبھا میں جموں کو کشمیر سے کوئی نمائندگی با قی نہ رہے گی۔ جموں و کشمیر میں اس وقت صدر راج ہے اور فوری جموں و کشمیر اسمبلی کے انتخابات ہونے کے کوئی آ ثار نہیں ہیں۔ مرکز کی بی جے پی حکومت نے 5؍ اگست2019کو جموں و کشمیر کو خصو صی حیثیت دینے والی دفعہ 370کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ مودی حکومت کے اس اچانک فیصلہ نے کشمیر کو بارود کی ڈھیر پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ آج کشمیر میں ہر طرف حکومت کے اس اقدام کے خلاف ناراضگی پائی جا تی ہے۔جموںوکشمیر کی بڑی سیاسی پارٹیاں دفعہ 370کی بحالی کا مطا لبہ کر رہی ہیں اور ریاست کی سابق حیثیت کو باقی رکھنے کا بھی مطالبہ کیا جارہاہے۔ دفعہ370کے تحت ہی جموں و کشمیر کو ہندوستان سے جوڑے رکھا گیا تھا۔ ملک کی آزادی کے بعد سے کسی حکومت نے اس دفعہ کو ختم کرنے کی کو شش نہیں کی۔ حتی کہ اس سے پہلے جب اٹل بہاری واجپائی ملک کے وزیراعظم بنے، انہوں نے بھی اس دفعہ سے چھیڑ چھاڑ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ جانتے تھے دفعہ370کی بر خواستگی کشمیر یوں کے جذبات کو بھڑکا دے گی جس کو بعد میں کنڑول کرنا مشکل ہوجائے گا۔ آرٹیکل 370کو برخواست کرکے اور ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کر کے مودی حکومت نے اپنے ایجنڈا کو پورا کرلیا۔
اب راجیہ سبھا میں ان کے حق میں کوئی آواز اٹھانے والا ہی نہ ہوتو کشمیریوں کی فلاح و بہبود اور ریاست کی ترقی کے بارے میں کسے سوچنے کی فر صت ہوگی۔ ہندوستان کی پارلیمنٹ کا ایک ایوان اپنے ملک کی ایک حساّس ریاست کی نمائندگی سے محروم رہے گا تو یہ دعویٰ بھی غلط ہوجائے گا کہ راجیہ سبھا، ملک کی ریاستوں کی نمائندگی کرنے والا ایوان ہے۔ یہ بات کس قدر افسوناک ہو گی کہ ایک ریاست کے عوام اپنے عوامی نمائندوں کو راجیہ سبھا میں نہیں بھیج سکیں گے۔ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد سے ریاست میں کوئی عوامی حکومت نہیں ہے۔ لیفٹنٹ گورنر ریاست کا سارا نظم ونسق سنبھالے ہوئے ہیں۔ جموں و کشمیر کی بیشترسیاسی پارٹیان دفعہ 370کو بحال کرنے کے ساتھ اسمبلی انتخابات کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں۔ لیکن مرکزی حکومت ریاست کی عوام کے اس جائز مطالبہ کو قبول کرنے میں تاخیر سے کام لے رہی ہے۔ اسے اندازہ ہے کہ انتخابات کرانے کی صورت میں رائے دہندگان بی جے پی کو بُری طرح سے مسترد کر دیں گے۔ دوسری پارٹیوں کے ہاتھ میں ریاست کا اقتدار آجائے تو پھر سے مخصوص دفعہ کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑے گا اور ریاست کی تقسیم کے خلاف بھی عوامی رائے ہموار ہوجائے گی اس لئے انتخابات سے گریز کیا جارہا ہے۔ کشمیر کے ٹکڑے کر کے مودی حکومت نے اس ریاست کی تاریخی حیثیت کو ختم کر دیالیکن اس سے کشمیریوں کے زخم اور تازہ ہو گئے۔ اگر آج وزیراعظم نریندرمودی کشمیر میں امن چاہتے ہیں اور غلام نبی آزاد کی خدمات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں تو جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے۔ غلام نبی آزاد نے بھی کئی مر تبہ اس کا مطالبہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر کو جب سے مرکز کے زیرِ انتظام لیا گیا ہے ریاست کی ساری ترقی ٹھپ ہوگئی ہے۔ بیروزگاری دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ ریاست کی عوام کو زندگی گذارنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایسے تشویشناک حالات میں ملک کی پارلیمنٹ میں ان کی کوئی نمائندگی کرنے والا نہ ہو تو یہ کس قدر افسوس کی بات ہوگی ۔
5؍ اگست 2019کے بعد سے جموں و کشمیر کے حالات میں سدھار کے امکانات موہوم ہوتے جارہے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں پر سے عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔لیکن اس سے ریاست کے مسائل سلجھنے کے بجائے اور الجھ گئے۔ وہ قائدین جو دستورِ ہند کے چوکھٹے میں کشمیر کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے وہ بھی اب مایوس ہو چکے ہیں۔ ان کی آواز کو دبانے کے لئے انہیں ان کے گھروں میں قید کر کے رکھ دیا گیاتھا۔ نیشنل کانفرنس کے قائدین فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے علاوہ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی اور دیگر سیاسی قائدیں مہینوں زیر ِ حراست رکھے گئے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر میں امن و سکون کا ماحول پایا جا رہا ہے اور عوام مرکزی حکومت کے فیصلہ سے خوش ہے۔ اگر اس بات میں سچائی ہے تو اسمبلی انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے اور کیوں ریاست کو مرکز کے زیر ِ انتظام لایاگیا۔ وزیراعظم نریندرمودی نے ناسک( مہاراشٹرا ) میں ایک جلسہ عام سے خطاب کر تے ہوئے 19؍ ستمبر2019کویہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ "ہمیں ہر کشمیری کو گلے لگانا ہوگااور ایک نئی جنت تخلیق کرنا ہوگا"۔اس موقع پر وزیراعظم نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ "دفعہ 370کی منسوخی کا فیصلہ ، ہندوستان کے اتحاد کے لئے ایک فیصلہ ہے"۔سوال یہ ہے کہ گز شتہ ڈیڑھ سال کے دوران کشمیریوں کو گلے لگانے کے لئے وزیراعظم نے کون سے انقلابی اقدامات کئے۔ کیا واقعی کشمیر نئی جنت ِ ارضی بن گئی؟ کشمیریوں کے حقوق اور ان کی آزادیوں کو چھین کر ان کو گلے لگانے کی بات جملہ بازی ہو سکتی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہمارے وزیراعظم جملہ بازی میں مہارت کے ساتھ شہرت بھی رکھتے ہیں۔ ان کے جملے اب زودخاص و عام ہو چکے ہیں۔ لیکن ملک کو محض جملوں کی ادائیگی کے ذریعہ نہیں چلایا جاسکتا۔ جموں و کشمیر کی عوام نے ہندوستان سے جس اٹوٹ محبت کا ثبوت دیا اس کا صلہ یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کے حقوق پامال کئے جائیں اور ان کے ساتھ غیر منصفانہ بر تاؤ روا رکھا جائے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت نے جن عزائم کے ساتھ دفعہ 370کو برخواست کیا اور جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا اس سے کشمیر کی عوام بخوبی واقف ہے۔
وزیراعظم اور ان کی حکومت کشمیر کے معاملے میںاگرحق و انصاف سے کام لیتی ہے اور کشمیر یوں کے درد کو محسوس کر تے ہوئے اس خطہ ارضی کو جنت نشان بنانے میں اپنا حصہ ادا کرتی ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم کی آنکھ میں جو آنسو غلام نبی آزاد کی وداعی کے موقع پر آئے وہ حقیقی آ نسو تھے۔ راجیہ سبھا میں وزیراعظم اور قائد ِ اپوزیشن کے ایک دوسرے کے بارے میں خیرسگالی کے الفاظ، وادیٔ کشمیر میں جمی برف کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں تو اس سے ملک کا بھی اور کشمیر کا بھی مقدر سنور سکتا ہے۔
(مضمون نگار کا تعلق حیدر آباد ،تلنگانہ سے ہے)
فون نمبر۔91+9885210770
���������