سرینگر // محکمہ جنگلات اور فارسٹ پروٹکشن فورس کی جانب سے وادی کے شمال و جنوب میں جنگل اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ ان خبروں کو شہ سرخیوں میں پیچ کیا جاتا ہے، افسران کی سراہنا کی جاتی ہے اور ضبط کی گئی لکڑی کی مالیت لاکھوں میں لگائی جاتی ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ جنگل سمگلر کیوں کم نہیں ہوتے، کیوں انہیں خوف محسوس نہیں ہوتا اور کیوں انکی رسائی جنگلات تک بہ آسانی ممکن بنائی جاتی ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق سال2019-20 کے دوران محکمہ جنگلات نے 25مبینہ جنگل اسمگلروں کے خلاف ڈوزئر تیارکئے۔ سب سے زیادہ 14 شوپیاں ڈویژن جبکہ پیر پنچال ڈویژن میں6اور ٹنگمرگ ڈویژن میں4کے علاوہ کامراز ڈویژن میں بھی ایک اسمگلر کے خلاف ڈوزئرس تیار کئے گئے۔مجموعی طور پر ان جنگل اسمگلروں سے16ہزار320مکعب فٹ لکڑی اور 50گاڑیاں ضبط کی گئیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران38گھوڑوں اور4گھوڑا گاڑیوں کو بھی ضبط کیا گیا،جبکہ25افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ محکمانہ ذرائع کے مطابق9افراد کے خلاف وارنٹ اجراء کی گئی، اتنی ہی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں لائی گئیںاور 61افراد کے خلاف فرد جرم عائد کیا گیا۔ جنگل اسمگلروں کے خلاف245کیسوں کا اندراج کیا گیاجس میں661افراد کو ملوث دکھایا گیا۔ محکمہ کے14 ڈویژنوں میں کامراز ڈویژن میں سب سے زیادہ کارروائی عمل میں لائی گئی اور4542مکعب فٹ لکڑی ،10گاڑیوں، ایک گھوڑا اورایک گھوڑا گاڑی کو ضبط کیا گیا،جبکہ ایک شخص کی گرفتاری عمل میں لاکر26افراد کے خلاف عدالت میں چالان پیش کرنے کے علاوہ48کیسوں کا اندراج کیا گیا،جس میں125افراد کو ملوث قرار دیا گیا۔پیر پنچال ڈ ویژن میں 1666 مکعب فٹ لکڑی کے علاوہ6گاڑیوں اور14گھوڑوںکو ضبط کیا گیا،جبکہ50کیس درج کئے گئے،جس میں150افراد کے ملوث قرار دیئے گئے۔ اننت ناگ ڈویژن میں740مکعب فٹ لکڑی کے علاوہ7گاڑیوں کو ضبط کیا گیا جبکہ10کیسوں کا اندراج عمل میں لایا گیا۔دستاویزات کے مطابق لدر ڈویژن پہلگام میں270مکعب فٹ لکڑی کے علاوہ3گھوڑوں کو ضبط کیا گیا اور2کیس درج کئے گئے۔ جنوبی کشمیر کے کولگام ڈویژن میں131مکعب فٹ لکڑی ضبط کی گئی ۔ شوپیاں ڈویژن میں1061مکعب فٹ لکڑی کے علاوہ3گاڑیوں اور6گھوڑوں کو ضبط کیا گیا۔
ڈویژن میں8افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ31کیسوں کا اندراج عمل میں لایا گیا،جن میں99افراد کو ملوث دکھایا گیا۔ اونتی پورہ ڈویژن میں181مکعب فٹ لکڑی کے علاوہ ایک گاڑی کو ضبط کیا گیا،جبکہ اربن ڈویژن میں659مکعب فٹ لکڑی کے علاوہ3گاڑیوں کو ضبط کیا گیا۔سندھ ڈویژن میں446مکعب فٹ لکڑی اور2گاڑیوں کو ضبط کیا گیا،جبکہ شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ڈویژن میں475مکعب فٹ لکڑی اور3گاڑیوں کو ضبط کیا گیا اور4کیسوں کو درج کیا گیا۔ ٹنگمرگ ڈویژن میں1122مکعب فٹ لکڑی اور3گاڑیوں کے علاوہ10گھوڑوں کو ضبط کیا گیا،جبکہ7کیس بھی درج کئے گئے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق جہلم ویلی ڈویژن میں1156مکعب فٹ لکڑی کے علاوہ3گاڑیوں کو ضبط کیا گیا اور اس دوران12کیس درج کئے گئے،جبکہ لنگیٹ ڈویژن میں3331مکعب فٹ لکڑی کے علاوہ3گاڑیوں،7گھوڑوں اور3 گھوڑا گاڑیوں کو ضبط کیا گیا۔اس عرصے میں63کیسوں کا اندراج بھی عمل میں لایا گیا۔ کہمل ڈویژن میں493مکعب فٹ لکڑی کے علاوہ3گاڑیوں کو ضبط کیا گیا اور اس دوران9 کیس درج کئے گئے۔کنزرویٹر فارسٹس زبیر احمد کا کہنا ہے کہ 5اگست کے بعد پیدہ شدہ صورتحال اور بعد میں کورونا وائرس کے نتیجے میں جو حالات پیدا ہوئے،ان میں جنگل اسمگلروں کو موقعہ ملا کہ وہ سبز سونے کی لوٹ کریں،تاہم محکمہ کے اہلکارغیر معمولی طور پر متحرک تھے،جبکہ فارسٹ پروٹیکشن فورس کے ساتھ بہترین ہم آہنگی اور تال میل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے جنگل سمگلروں کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔ زبیر احمد کا مزید کہنا تھا کہ لوگ بھی متحرک ہیں اور وہ بھی انہیں جنگلات اسمگلروں کی نقل و حرکت کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔