عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وادی کشمیر میں بیساکھی کا تہوار مذہبی عقیدت، روایتی جوش و خروش اور باہمی ہم آہنگی کے ماحول میں منایا گیا، جہاں سکھ برادری کے ساتھ دیگر مذاہب کے لوگوں نے بھی اس خوشی میں بھرپور شرکت کی۔وادی بھر کے گردواروں میں صبح سے ہی عقیدت مندوں کا تانتا بندھا رہا، جہاں خصوصی دعاؤں، بھجن کیرتن اور مذہبی رسومات کا اہتمام کیا گیا۔ سرینگر کے چھٹی پادشاہی کاٹھی دروازہ اور رعناواری کے گردواروں میں سب سے زیادہ رش دیکھنے کو ملا، جبکہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور اوڑی اور جنوبی کشمیر کے مٹن، سنگھ پورہ اور ہٹمورا میں بھی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر سکھ برادری اور مختلف سماجی تنظیموں کی جانب سے لنگر کا وسیع انتظام کیا گیا، جہاں ہر طبقے اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
کئی مقامات پر طبی کیمپ بھی قائم کیے گئے تاکہ عقیدتمندوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔اس موقع پر پولیس اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے گردواروں کا دورہ کر کے اپنی حاضری دی اور عقیدت کا اظہار کیا۔ وادی کے مختلف اضلاع میں بھی بیساکھی کی تقریبات منعقد ہوئیں، جہاں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔بیساکھی، جو فصل کی کٹائی کے موسم کے آغاز کی علامت ہے، 1699 میں گرو گوبند سنگھ کے ہاتھوں خالصہ پنتھ کے قیام کی یاد بھی دلاتی ہے۔تقریبات کے دوران عقیدت مندوں نے بھجن کیرتن اور دیگر مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ سکھ برادری اور مختلف غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی جانب سے لنگر کا اہتمام کیا گیا، جبکہ طبی کیمپ بھی لگائے گئے تاکہ لوگوں کو سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ادھربڑی تعداد میں لوگوں نے وادی کے سیاحتی مقامات اور باغات کا رخ کیا۔ مغل باغات، ٹیولپ گارڈن اور دیگر پارکوں میں لوگوں کا ہجوم دیکھنے کو ملا جہاں سکھ برادری کے افراد اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ خوشیاں مناتے نظر آئے۔معروف سیاحتی مقامات جیسے پہلگام اور دودھ پتھری میں بھی تقریبات منعقد ہوئیں، جہاں اکثریتی مسلم برادری کے افراد نے بھی شرکت کر کے بین المذاہب ہم آہنگی کی عمدہ مثال پیش کی۔خوشگوار موسم کے باعث پارکوں اور باغات میں لوگوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی، جہاں خاندانوں اور دوستوں نے اس دن کو یادگار بنانے کیلئے وقت گزارا۔ سکھ برادری کے افراد روایتی لباس میں ملبوس نظر آئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے رہے۔انتظامیہ کی جانب سے تہوار کے پیش نظر تمام ضروری انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ ٹریفک پولیس نے اہم مقامات پر اضافی نفری تعینات کر کے آمد و رفت کو رواں رکھنے کیلئے خصوصی اقدامات کیے۔تقریبات کے دوران امن، بھائی چارے اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں بھی مانگی گئیں، جس نے کشمیر کی صدیوں پرانی ہم آہنگی اور مشترکہ ثقافت کی روایت کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔