محمد تسکین
بانہال// سب ڈویژن رامسو کے نیل علاقے میں بجلی کی بحالی میں محکمہ بجلی کی سست روی سے تنگ آ کر مقامی لوگوں نے از خود بجلی کے اکھڑے کھمبوں اور زمین پر گری تاروں کی مرمت کا کام انجام دیا ہے اور اس دوران محکمہ بجلی کا کوئی ملازم موقع پر موجود نہیں تھا۔پنچایت بھوردار ۔ چدوس کے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ نیل کے علاقے میں گزشتہ سات روز سے بجلی کی سپلائی مکمل طور پر معطل ہے اور شدید برفباری اور طوفانی ہواؤں کے باعث بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن سات روز بعد بھی محکمہ بجلی اس طرف توجہ دینے میں ناکام رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ نیل کے قریب ایک درجن دیہات میں محکمہ بجلی کے پاس ملازمین کے نام پر محض دو ڈیلی ویجر تعینات ہیں اوران دو ملازمین کی دن رات کی محنت کے باوجود نیل کے وسیع علاقے میں بجلی کی بحالی ممکن نہیں ہو سکی ہے ۔
لوگوں نے واضح کیا کہ انہیں ان ملازمین سے کوئی گلہ نہیں ہے کیونکہ نیل کے وسیع علاقے میں کم از کم چار مستقل اور چار ڈیلی ویجر ملازمین کی ضرورت ہے، جو چار پنچایتوں میں بجلی کے نظام کو بہتر طور پر چلا سکیں۔عوام کا کہنا ہے کہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق، پنچایت بھوردار۔چدوس نیل کے لوگوں نے خود ہی بجلی کی تاروں اور کھمبوں کی مرمت شروع کی اور جمعہ کی شام تک علاقے کو بجلی کی سپلائی کے قابل بنایا ہے۔ مقامی شہری محمد رفیق سوہل اور معززین علاقہ نے ممبر اسمبلی بانہال حاجی سجاد شاہین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نیل علاقے میں بجلی کے کمزور ڈھانچے اور عملے کی شدید کمی کی طرف فوری توجہ دیں، تاکہ دور دراز علاقوں میں بجلی کا نظام معمول کے مطابق چلتا رہے۔نیل کے لوگوں کا کہنا ہیکہ کہ تاحال وادی نیل کے ہڑواری، پرہندر، زراڈی، درپٹہ، کھاروان ، ڈھک اور گگڑناگ علاقوں میں بجلی کی بحالی ممکن نہیں بنائی جا سکی ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔اس دوران سب ڈویژن گول کی پنچایت کلی مستہ میں گول جمن سے گاگرہ سڑک پچھلے دس روز سے مسلسل بند ہے جسکی وجہ سے یہاں معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں ۔ لوگوں کا الزام ہے کہ پی ایم جی ایس وائی کے حکام لوگوں کو سڑک بحالی کی بار بار یقین دہانی دے رہے ہیں مگر برفباری کے سات روز بعد بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور گیارہ کلومیٹر سڑک کے صرف دو کلومیٹر حصے سے برف کو صاف کیا گیا ۔ انہوں نے پی ایم جی ایس وائی اور ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان سے اپیل کی کہ وہ کلی مستہ سڑک کی فوری بحالی میں ذاتی مداخلت کریں ۔