عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر // نئی دہلی کے جنتر منتر پر سٹیٹ ہڈ کے مطالبے کے حق میں نیشنل کانفرنس کے مجوزہ احتجاج کے بارے میں تذبذب کیفیت برقرار ہے کیونکہ ابھی تک حکمران جماعت کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔ دلی حکومت کی طرف سے احتجاج کرنے کی اجازت نہ دینے سے فی الحال اس پروگرام پر گہرے بادل منڈلانے لگے ہیں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ غالباً انکی پارٹی کے مجوزہ پروگرام کو ناکام نے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ اجازت کیلئے پچھلے 5دن سے مسلسل کوشش کی جارہی ہے لیکن ابھی تک اجازت نہیں ملی ہے، جبکہ کاکروچ پارٹی کو احتجاج کرنے کی اجازت محض 24گھنٹے میں دی گئی‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ کچھ لوگ ہیں جو ہمارے اس پروگرام کو سبو تاژ کررہے ہیں اور وہ اپنی تاریخیں بدل کر ہمارے مجوزہ احتجاج کی تاریخ کیساتھ رکھ رہے ہیں، تاکہ ہمارا پروگرام نہ ہو‘‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا’’ 20تاریخ کو ہماراپروگرام ہے اگر ہمیں اجازت ملے‘‘۔انہوں نے کہا’’ابھی تک تو ہم اجازت لینے میں لگے ہوئے ہیں،کاکروچ پارٹی کو 24گھنٹے بھی نہیں لگے‘‘۔عمر عبداللہ کے اس بیان سے کہیں نہ کہیں خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں کہ کیا مرکزی سرکار احتجاج کرنے کی اجازت دے گی یا نہیں۔حکمران جماعت نے اپنے سبھی اراکین اسمبلی بشمول پارٹی لیڈران،وزراء جموں و کشمیر اور ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں کو اس احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔نیشنل کانفرنس نے ملک بھر میں سیاسی اور مذہبی تنظیموں کے 52 لیڈروں کو خط لکھا ہے، جس میں انہیں 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر پر پارٹی کے احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ جموں و کشمیر کی ریاست کی بحالی کے لیے مرکز پر دبا ڈالا جا سکے۔پارٹی نے بی جے پی کے جے کے صدر ست شرما کو بھی مدعو کیا ہے۔