جموں؍نگروٹہ اسمبلی حلقہ رائے دہندگان کی تعدادکے اعتبارکے ساتھ ساتھ جغرافیائی لحاظ سے بھی ریاست کاسب سے بڑااسمبلی حلقہ ہے ۔گذشتہ اسمبلی الیکشن میں اس نشست پر بھاجپاکی ہیٹرک کے منصوبے کوناکام بناتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے قدآورلیڈر دویندرسنگھ رانا نے جیت درج کرکے سیاسی حریفوں کے خواب چکناچورکردیئے۔ اگرچہ دویندرسنگھ رانا کی جیت میں تمام طبقوںکے لوگوں کے رائے دہندگان نے اہم رول اداکیالیکن سب سے نمایاں رول گوجربکروال طبقہ کارہاکیونکہ گوجربکروال طبقہ کو دومرتبہ اس حلقہ سے رکن اسمبلی رہ چکے بھاجپالیڈر جگل کشورشرماسے کافی مایوسی ہوئی تھی اورعلاقہ تعمیروترقی کے بجائے پسماندگی کے دلدل میں دھنستاچلاجارہاہے ۔ ایسے میں نگروٹہ حلقہ کے رائے دہندگان کو اس دلدل اورمایوسی سے نکلنے کی کرن دویندرسنگھ رانا میں نظرآئی ۔ اس سے پہلے حلقہ کے لوگ اجات شتروسنگھ اور بھاجپاامیدوار کوآزماکراس کے نتائج بھگت چکے تھے ۔ نومبردسمبر 2014 کے اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران دویندرسنگھ رانانے نگروٹہ کونیاجموں بنانے کا نعرہ بلندکرنے کے ساتھ دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی دستیابی اورڈھانچے وخدمات کی فراہمی یقینی بنانے کاوعدہ کیاتھا۔ عوام النا س نے دویندرسنگھ رانا پربھرپوراعتمادکااظہارکرتے ہوئے ووٹ دیئے جس کانتیجہ یہ نکلاکہ دویندرسنگھ رانا بھاجپاکے قلعے اسمبلی نگروٹہ کوفتح کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اب سال 2017 چل رہاہے دویندرسنگھ رانا عوام کے ساتھ کئے گئے وعدوں کوعملی جامہ پہنانے میں کس حدتک کامیاب ہوئے ہیںیانہیں اس پرغوروخوذ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ عوام الناس کادویندرسنگھ راناکو ممبراسمبلی نگروٹہ بنانا ایک درست فیصلہ تھا ۔ آج نگروٹہ حلقہ کی عوام میں یہ تاثرہے کہ لیڈرہوتودویندرراناجیسا کیونکہ وہ جوکہتے ہیں وہ کرتے ہیں ۔ شبیراحمدنامی ایک شخص نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ نگروٹہ اسمبلی حلقہ ریاست میں پی ڈی پی۔بھاجپاحکومت ہونے کے باوجود تعمیروترقی کی راہوں پرگامزن ہے ۔ انہوں نے کہاکہ نگروٹہ حلقہ میں جہاں سیاحت کوفروغ مل رہاہے وہیں دیہی علاقوں میں کسانوں اورمزدورطبقہ کی معاشی حالت بہترہونے کے ساتھ ساتھ تعمیروترقی کے گراف میں بھی نمایاں تبدیلی رونماہوئی ہے۔ نمائندے نے حقائق جاننے کیلئے کہ کیا واقعی حلقہ تعمیروترقی کے میدان میں آگے بڑھاہے مختلف علاقوں کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرکے نتیجہ اخذکرنے کی کوشش کی تو معلوم ہواکہ دویندرسنگھ تحصیل بھلوال کی پنچایت دھنوں میں سی ڈی ایف کے تحت مالی سال 2016-17 میں مختلف ترقیاتی کاموں کیلئے 12لاکھ کے قریب حلقہ ترقیاتی فنڈز میں سے رقومات واگذارکیں ۔اس کے علاوہ دھنوں پنچایت جوکہ درجنوں موڑہ جات پرمشتمل ہے میں 12 ٹرانسفرمار ، پی ڈبلیوڈی (تعمیرات عامہ ) سے ریکمنڈیشن خطوط کے ذریعے 23 لاکھ روپے کے کام کروائے۔ذرائع نے بتایاکہ ریکمونڈیشن گذشتہ مالی سال میں گرانٹس ریکمنڈیشن کے تحت پورے حلقہ میں ممبراسمبلی نے لگ بھگ 1کروڑکے کام کروائے ۔ اس کے علاوہ شواماتاکیلئے5 لاکھ، کمیونٹی ہالوں کیلئے 25 لاکھ ، جنڈیال سٹیڈیم کیلئے 60لاکھ ، کوٹلی میں پی ایچ ای کے ٹینک کی تجدید کیلئے 3 لاکھ، کنتھامیں پانی سپلائی کیلئے 4 لاکھ روپے ، مجموعی طورپربلاک متھوارکی آٹھ پنچایتوں میں پانی سپلائی کوبہتربنانے کیلئے 25لاکھ روپے واگذارکئے جن کافائدہ لوگوں کوپہنچ رہاہے ۔نمائندہ سے بات کرتے ہوئے دویندرسنگھ رانانے کہاکہ ریاست میں پی ڈی پی ۔بی جے پی مخلوط حکومت کاکہیں وجودنظرنہیں آرہاہے جس کی وجہ سے ترقیاتی کام کروانے میں دقتوں کاسامناکرناپڑرہاہے ۔رانانے کہاکہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نہ ہونے کے باوجود نگروٹہ اسمبلی حلقہ میں لوگوں کی معاشی صورتحال کے گراف میں بہتری لانے اورحلقہ کی ہمہ جہت ترقی یقینی بنانے کیلئے کام کررہاہوں۔انہوں نے کہاکہ حلقہ کاکوئی ایساعلاقہ نہیں ہے جہاں پرمیںنے دورہ نہیں کیاہو۔انہوں نے کہاکہ چندروزپہلے ہی میں نے بلاک متھوارکی بگانی، دھنوں، رابطہ اورراجن پنچایتوں کادورہ کرکے کمیونٹی ہالوں کاسنگ بنیادرکھنے کے ساتھ ساتھ گوڑڈہ پنچایت کے چکھڑگائوں میں ٹرانسفارمرکاافتتاح کیا۔انہوں نے کہاکہ یہ وہ پنچایتیں جہاں پر کوئی لیڈرنہیں جاتاتھااوراگربھاجپایاکسی دوسری جماعت کالیڈرجاتاتھاتووہ منظورنظرافراد تک ہی پہونچتاتھا جس کی وجہ سے علاقہ کی ترقی کے بجائے چندہی افراد کی ترقی ہوتی تھی۔ انہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں ترقی ہوگی تو حلقہ کی مجموعی ترقی یقینی بنے گی۔ رانانے کہاکہ حلقہ کے دیہی علاقوں میں گرمیوں کے دنوں میں پانی اوربجلی کی قلت کی وجہ سے پریشانیوں کاسامناکرناپڑتاہے لیکن متعلقہ حکام کوسخت ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ بہرصورت لوگوں کی پریشانیاں فوری طورپردورکریں ۔انہوں نے کہاکہ وقتاً فوقتاً ہرعلاقے میں جاکر عوامی میٹنگوں کاانعقادکرکے لوگوں کے مسائل کی جانکاری حاصل کرنامیرامعمول ہے۔انہوں نے کہاکہ بھارتی ایئرٹیل ، رتن ٹاٹاجیسی نامی کارپوریٹ کمپنیوں کے سے نگروٹہ کی ترقی کیلئے تعاون کیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت نگروٹہ کے 15 اسکولوں میں ڈھانچے کی بہتری کیلئے بھارتی فائونڈیشن کوالٹی پروگرام کے تحت کام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ رتن ٹاٹاسے رابطہ کیاہواہے اورمنصوبہ تیارکیاگیاہے کہ کس طرح پچھڑے پسماندہ لوگوں کی ترقی یقینی بنائی جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت رتن ٹاٹاکے ساتھ ایس سی (شیڈولڈکاسٹ ) طبقہ کے لوگوں کیلئے 60 مکانات تعمیرکرانے کامنصوبہ زیرغورہے جس پر عملی طورپر کام 20 مئی سے شروع کروایاجائے گا۔ اس کے علاوہ خواتین کی بہبودکیلئے بھی نگروٹہ میں مختلف تربیتی مراکزکام کررہے ہیں جن میں 100 سے زائد خواتین مختلف سکلز (ہنر)حاصل کرکے روزگارکی اہل بن رہی ہیں۔ جانکاری کے مطابق نگروٹہ حلقہ جوکہ ویشنودیوی شرائن کیلئے گیٹ وے کی حیثیت رکھتاہے کو سیاحتی طورپرترقی دینے کیلئے رکن اسمبلی نگروٹہ دویندرسنگھ رانا حتی المقدورکوششیں کررہے ہیں ۔انہوں نے سروئیں سرسرکیولرروڈ کی تجدیداورسروئیں سرجھیل کے رکھ رکھائواورڈھانچے کی ترقی کے کام کاچندروزپہلے ہی کام شروع کروایاہے۔نگروٹہ حلقہ کی ڈنسال اورنگروٹہ بلاکوں کے لوگوں کاکہنابھی یہی ہے کہ راناکے رکن اسمبلی بننے کے بعد علاقہ میں تعمیروترقی کا گراف کافی بہترہواہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے فیصلے پرنازہے کہ 2014 میں دیگرپارٹیوں کے امیدواروں کونظراندازکرکے نگروٹہ کو حقیقی معنوں میں نیاجموں بنانے کے اہل نیشنل کانفرنس لیڈر دویندرسنگھ رانا کومنتخب کیا۔ کچھ لوگوں نے کہاکہ دویندرسنگھ راناشاندارکام کررہے ہیں لیکن چاہیئے کہ وہ اپنے اردگرد ایسے لوگوں پرنظررکھیں جو انہیں زمینی سطح پرلوگوں تک پہنچنے میں دشواریاں پیداکرتے ہیں اور سی ڈی ایف کاپیسہ صرف اپنے گھروں اورمنظورنظرقریبی رشتہ داروں میں تقسیم کروانے کیلئے کوشش میں رہتے ہیں۔انہوں نے راناکے کام کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ وہ دن دِن دورنہیں ہوگاجب 2014 میں دویندرسنگھ راناکادیاہوا ’نگروٹہ بنے گا نیاجموں ‘کانعرہ حقیقت کارو پ اختیارکرے گا ۔