سرینگر// آری باغ نوگام میں جنگجوئوں نے بھاجپا کے ایک مقامی لیڈر کے گھر پر تعینات پولیس عملے پت دن دھاڑے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق جبکہ جنگجو اسکی رائفل بھی اڑا کر لے گئے۔یاد رہے کہ اس سے قبل 24مارچ کو اسی طرح کی ایک کارروائی میں جنگجوئوں نے سی آر پی ایف کی ایک پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر اور ڈرائیور سمیت3 اہلکار مارے گئے تھے۔لاوے پورہ حملہ سے قبل باغات برزلہ میں جنگجوئوں نے پولیس پر دن دھاڑے حملہ کیا تھا۔پولیس بیان کے مطابق صبح ساڑھے 11بجے کے قریب آری باغ نوگام میں بی جے پی لیڈر انور خان کے رہائشی محافظین پر ہونے والا یہ حملہ چارملی ٹینٹوں کے ایک گروپ نے کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے تجزیے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کے لہجے میں برقعے پہنے ایک ملی ٹینٹ نے دروازہ کھولنے کو کہا،جب سینٹری نے دروازہ کھولا ، دو دیگر ملی ٹینٹوں نے اس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جب کہ تیسرے نے اس کی رائفل چھین لی۔پولیس نے قانون کے متعلقہ دفعات کے تحت اس سلسلے میں کیس درج کیا ہے۔حملے کے فوراً بعد علاقے کو گھیرے میں لیا گیا اور تلاشیاں بھی لی گئیں۔
وجے کمار کا بیان
انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار نے اس حوالے سے مہلوک پولیس اہلکار رمیز راجہ کی نعش پر گلباری کی تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا’’میں نے جائے وقوع کا دورہ کیا، وہاں ایک سنتری( پولیس اہلکار) گارڈ ڈیوٹی پر تھا جبکہ مزید 2گارڈ روم میں تھے،سی سی ٹی وی کیمرہ میں صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جنگجو برقعہ پہن کر آیا اور خاتون کی آواز میں سنتری کو دروازہ کھولنے کیلئے کہا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ جونہی اس نے دروازہ کھولا، مزید 2جنگجو آئے اور اندھا دھند فائرنگ کی‘‘۔انکا کہنا تھا’’ ایک پولیس اہلکار جسکی شناخت رمیض راجہ بیلٹ نمبر794/S کے بطور ہوئی ، حملے میں جاں بحق ہوا،بی جے پی لیڈر اس وقت گھر میں موجود نہیں تھا، جب حملہ کیا گیا‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ ایک اور ملی ٹینٹ نے رائفل چھین لی،4جنگجوئوں میں سے 2کی شناخت ہوچکی ہے جو دونوں سرینگر شہر سے تعلق رکھتے ہیں جو لشکر سے وابستہ ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ ان میں سے ایک خورشید احمد ساکن متھن چھانہ پورہ، جو سرگرم جنگجو ہے جبکہ دوسرا عبید شفیع ڈار ساکن بٹہ مالو ہے، دونوں اُن 6نوجوانوں میں شامل ہیں، جو پچھلے سال جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوئے ہیں،مزید دو جنگجوئوں کی نشاندہی نہیں ہوسکی ہے‘‘۔آئی جی پی نے کہا کہ بہت جلد ملوث جنگجوئوں کیخلاف نتیجہ خیز کارروائی کی جائیگی۔انکا کہنا تھا’’ ہم نے فروری اور مارث میں کئی آپریشن کئے،لیکن ابھی تک کوئی کامیابی نہیں ملی ہے، آج بھی چھانہ پورہ بستی میں تلاشیاں لیں گئیں‘‘۔ ہم انسانی اور تکنیکی معلومات پر مزید کام کریں گے اور جلد ان کو پکڑیں گے۔‘‘ دریں اثنا ، ضلع پولیس لائنز سرینگر میں مہلوک پولیس اہلکار رمیز راجہ کی گلباری تقریب میں صوبائی کمشنر، ضلع ترقیاتی کمشنر،فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کے سینئر افسران نے شرکت کی،جس کے دوران رمیز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔
دلہا بننے سے پہلے سپرد لحد
سینکڑوں لوگوں نے رخصت کیا
عارف بلوچ
اننت ناگ // پولیس اہلکار کے آبائی گاؤں دمحال خوشی پورہ میں ہر آنکھ نم ہے۔مہلوک کے نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں ،ایس ایس پی اننت ناگ امتیاز حسین کے علاوہ دیگر پولیس افسران نے آخری رسومات میں شرکت کی۔مہلوک پولیس اہلکار رمیض راجہ ولد عبدالسلام ایتو نے بی ایس سی تک پڑھائی مکمل کی تھی۔رمیض کا والد محکمہ پولیس میںکام کرتا تھا جو مہلک بیماری کے باعث دوران ڈیوٹی فوت ہوا، جس کے بعد ایس آر او 43کے تحت انہیںنوکری دی گئی۔مہلوک کا رشتہ ایک سال قبل شانگس میں طے ہوا تھا جس کے لئے نکاح بھی پڑھایا جاچکا ہے۔ عیدالفطر کے بعد اسکی شادی طے ہوئی تھی۔جس کے لئے گھر میں تیاریاں چل رہی تھی تاہم دلہا بننے سے پہلے ہی گھر کی خوشی ماتم میں تبدیل ہوگئی ۔مہلوک پولیس اہلکار اپنے پیچھے بوڑھی ماں اور چھوٹے بھائی کو چھوڑ گیا ہے جبکہ بہن شادی شدہ ہے۔علاقہ میں تعزیتی ہڑتال رہی۔
کارکنوں کو مناسب سیکورٹی فراہم کی جائے
بھاجپا لیڈروں کا مطالبہ
نیوز ڈیسک
سرینگر// بی جے پی نے جمعرات کو سرینگر میں پارٹی لیڈر انور خان کی رہائش گاہ پر جنگجویانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس حملے میں لقمہ اجل بنے پولیس اہلکار کی ہلاکت کو بدقسمتی سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ انور خان کی رہائش گاہ پر حملہ کرنے والے اور بے گناہ پولیس اہلکار کو ہلاک کرنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا اور انتظامیہ اور پولیس پر زور دیا کہ وہ بی جے پی کے سنیئر لیڈرکو مناسب سیکورٹی فراہم کریں۔بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور انچارج جموں و کشمیر ، ترون چنگ نے اس’’انتہائی افسوسناک‘‘واقعے پر غم کا اظہار کیا ۔انہوں نے ماضی میں پارٹی لیڈروں پر اسی طرح کے حملوں کے ایک واضح حوالہ دیتے ہوئے کہا’’یہ بار بار ہونے والے انتہا پسندی جس سے کچھ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں،خطے میں جمہوریت کو کمزور نہیں کرسکتے ہیں ‘‘۔ جموں و کشمیر بی جے پی کے صدر رویندر رینہ نے بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے واقعات پوری انسانیت کیلئے شرم ہے۔انہوں نے کہا ’’جمہوریت کے سپاہی ہونے کے ناطے ، سماجی اور سیاسی کارکن جمہوریت کو مستحکم کرنے میں انتھک محنت کرتے ہیں ، لیکن جنگجو،اور ان کے آقاو ہمدرد نہیں چاہتے کہ لوگ خوشحال ہوں۔بی جے پی کے جنرل سکریٹری (تنظیم) اشوک کول نے کہا کہ اگرچہ خان جمعرات کو اپنی رہائش گاہ پر نہیں تھے جب جنگجوئوںنے یہ حملہ کیا،تاہم انکی رہائش گاہ کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار رمیز راجہ حملے میں ہلاک ہوا۔کول نے کہا’’ جنگجو پارٹی کارکنوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ ہر شخص اس ملک کے لئے قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔‘‘انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پارٹی کارکنوں کو مناسب سیکورٹی دی جائے ، تاکہ وہ قوم مخالف عناصر کا آسان نشانہ نہ بنیں۔بی جے پی ترجمان الطاف ٹھاکر نے بھی مہلوک پولیس اہلکار کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات بدقسمتی ہیں اور اسے روکنا ضروری ہے۔