رمیش کیسر
نوشہرہ //نوشہرہ سب ڈویژن کے سرحدی گاؤں مکڑی شیر کے لوگوں نے پینے کے پانی کی باقاعدہ فراہمی کے لئے محکمہ جل شکتی کے اعلیٰ حکام سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ وہ بھارت–پاکستان حقیقی کنٹرول لائن کے انتہائی حساس علاقے میں رہائش پذیر ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت نہایت کم مل رہی ہے۔گاؤں والوں کے مطابق محکمہ جل شکتی کی جانب سے پینے کے پانی کی سپلائی مہینے میں صرف دو یا تین بار فراہم کی جاتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں شدید پانی کے بحران کا سامنا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ اتنی کم مقدار میں آنے والی سپلائی میں وہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ پانی خود پیئیں، اپنے مویشیوں کو پلائیں، کپڑے دھونے کے لئے استعمال کریں یا پھر کھانا تیار کریں۔ انہوں نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کو بخوبی معلوم ہے کہ اس علاقے کی ضروریات کیا ہیں، لیکن اس کے باوجود پانی کی فراہمی نہایت محدود کر دی گئی ہے، جس سے ان کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ پانی کی سپلائی میں اضافہ کرے اور گاؤں کو باقاعدہ اور مسلسل پانی فراہم کیا جائے تاکہ انہیں روزانہ درپیش مسائل سے نجات مل سکے۔اس سلسلے میں جب محکمہ جل شکتی کے جونیئر انجینئر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں کو معمول کے مطابق پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ اگر کہیں کوئی کمی یا رکاوٹ پیش آ رہی ہے تو وہ اس کی جانچ کریں گے اور کوشش کریں گے کہ مکڑی شیر کے لوگوں کو پینے کے پانی کی سپلائی متواتر اور بہتر طریقے سے فراہم کی جائے۔