نوشہرہ //نوشہرہ کو ضلع کادرجہ دینے کے مطالبے پر 22ویں دن بھی بند رہا اور مظاہرین نے جموں پونچھ شاہراہ پر دھرنادے کر ڈھائی گھنٹے تک ٹریفک کی نقل و حرکت روک دی ۔دریں اثناء کالاکوٹ میں پولیس پارٹی پر پتھرائو کیاگیا جس کی وجہ سے ایک اہلکار زخمی ہواہے ۔ وہیں سندر بنی میں بھی بند رکھاگیا۔اگرچہ گزشتہ روز حکومت نے نوشہرہ اور سندر بنی کیلئے ایک اے ڈی سی پوسٹ کا اعلان کیاتاہم نوشہرہ کے لوگ اپنے مطالبے پر بضد ہیں اور انہوںنے جمعہ کے روز بھی ہڑتال جاری رکھی ۔ اس دوران حکومت مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے بڑی تعداد میںلوگوںنے پٹیل چوک سے ریلی نکالی اوروہ جموں پونچھ شاہراہ پر جمع ہوگئے اور انہوںنے دھرنا دے کر گاڑیوں کی آمدورفت ڈھائی گھنٹے تک کیلئے معطل رکھی ۔ احتجاج اور دھرنے کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے مظاہرین سے بات چیت کرکے ان کا احتجاج ختم کروایا ۔ایس ایس پی نے کہاکہ وہ اس حوالے سے حکام سے بات کریںگے ۔وہیں کالاکوٹ میں تمام تر تجارتی سرگرمیاں ٹھپ کرکے لوگوںنے احتجاج کیا ۔اس دوران بازار سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں شامل لوگوںنے حکومت مخالف نعرے بازی کی اور کالاکوٹ کیلئے علیحدہ اے ڈی سی پوسٹ کا مطالبہ کیا ۔ علاقے میں اس وقت افراتفری کا ماحول بن گیا جب کچھ لوگوںنے دلی علاقے میں پولیس پارٹی پر پتھرائو کردیا جس کے نتیجہ میں ایک اہلکار زخمی ہوا۔ذرائع کے مطابق دلی کے لوگ راجوری ۔ کالاکوٹ سڑک کو بند کرکے احتجاج کررہے تھے جس دوران ایس ایچ او کالاکوٹ درشن سنگھ کی قیادت میں پولیس ٹیم احتجاج ختم کروانے کیلئے موقعہ پرپہنچی تاہم کچھ لوگوں کی پولیس ٹیم کے ساتھ جھڑپ ہوگئی اور انہوںنے پتھرائو شروع کردیا جس کی وجہ سے ایک اہلکار زخمی ہوا ۔پولیس نے حالات کو قابو کرنے کیلئے معمولی لاٹھی چارج بھی کیا ۔پتھرائو کے واقعہ پر پولیس کی طرف سے کیس درج کیاگیاہے ۔وہیں سندر بنی میں مکمل ہڑتال کی گئی اور تمام ترتجارتی سرگرمیاں معطل رہیں ۔مقامی لوگ مانگ کررہے تھے کہ سندر بنی میں صدر دفتر کھول کر علیحدہ ضلع قائم کیاجائے ۔