۔ 7 اسٹارٹ اپس میں پانچ5لاکھ روپے کے سیڈ فنڈ کے چیک بھی تقسیم کئے
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے سٹارٹ اپ ماحولیاتی سسٹم کو مزید مضبوط بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے نوجوان کاروباری افراد کو یقین دِلایا کہ حکومت اِختراعی آئیڈیازکو کامیاب کاروباری اِداروں میں تبدیل کرنے کے لئے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔انہوں نے جموں و کشمیر انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ اِنسٹی چیوٹ (جے کے اِی ڈِی آئی) کے زیر اہتمام ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ اے ایس سی اِی این ڈِی ۔ 2026 سٹارٹ اپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے دو روزہ سمٹ کو ایک ایسا متحرک پلیٹ فارم قرار دیا جہاں خیالات، اِختراع، سرمایہ کاری، رہنمائی اور حکومتی پالیسی آپس میں مل کر جموںو کشمیر میںکاروباری صلاحیتوں کو فروغ دیتی اور اِقتصادی ترقی کو تیز کرتی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگرچہ حکومتیں عموما ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے وقت محتاط رہتی ہیں جن کی کامیابی کی ضمانت نہ ہو، تاہم مضبوط سٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لئے طرزِ عمل میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا،”اگر ہم 10 اسٹارٹ اپس کی مالی معاونت کریں تو ممکن ہے کہ ان میں سے آٹھ کامیاب نہ ہوں لیکن جو دو کامیاب ہوں گے وہ ان آٹھ کی ناکامی کی تلافی پورا کر یں گے۔”انہوں نے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت یہ خطرہ مول لینے کے لئے تیار ہے۔وزیراعلی عمر عبداللہ نے کہا ،”ہمیں ناکامی کا خوف نہیں ہے۔
ہمیں صرف اس بات کا خدشہ ہے کہ کہیں ہم آپ سب کو کافی تعاون فراہم کرنے میں کوتاہی نہ کر جائیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سٹارٹ اپ کلچر اور اس کی دیرپائی کے لئے درکار پورے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔اس موقعہ پر وزیر اعلی نے سات سٹارٹ اپس کو ان کے کاروباری منصوبوں کی معاونت کے لئے پانچ، پانچ لاکھ روپے کے سیڈ فنڈ کے چیک بھی تقسیم لئے۔انہوں نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی اِختراعی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوان کاروباریوں کی جانب سے روزمرہ کے مسائل کے حل کے لئے تیار کئے جانے والے عملی اور زمینی سطح کے حل سے امید حاصل کرتے ہیں۔وزیراعلی نے ایسی اختراعات کا ذکر کیا جن میں سردیوں کے دوران پانی کی پائپ لائنوں کو جمنے سے بچانے والے سینسر پر مبنی نظام، پانی کے ضیاع کو روکنے کے لئے ڈیجیٹل واٹر یوزیج میٹرز، ژالہ باری سے فصلوں کو محفوظ رکھنے والے جال، کاربن مونو آکسائیڈ ڈٹیکٹر اور خودکار گیس ریگولیٹر شٹ آف ڈیوائسز شامل ہیں۔انہوں نے کہا’’اے ایس سی اِی این ڈِی ۔ 2026 کا مقصد ہمارے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ کوئی بھی خیال برا نہیں ہوتا۔ ہر خیال میں صلاحیت موجود ہوتی ہے، اسے صرف بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔”انہوں نے کہا کہ امید افزا خیالات کی اس وقت تک رہنمائی اور سرپرستی کی جانی چاہیے جب تک وہ وینچرکیپٹل سرمایہ کاری حاصل کرنے کے قابل نہ ہو جائیں۔وزیراعلی نے کہا کہ اس وقت جموں و کشمیر میں تقریبا 1,300 سے 1,400 رجسٹرڈ سٹارٹ اپس موجود ہیں اور انہیں یقین ہے کہ اے ایس سی اِی این ڈِی۔ 2027 تک یہ تعداد دوگنی ہو جائے گی اور اس کے بعد مزید دوگنی ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے مقامی سولر انرجی کے ایک کامیاب کاروباری شخص کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر باصلاحیت سٹارٹ اپس کو بروقت تعاون فراہم کیا جائے تو جموں و کشمیر سے مزید کامیاب کاروباری مثالیں سامنے آئیں گی۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اے ایس سی اِی این ڈِی۔ 2026 مستقبل میں جموں و کشمیر کے بعض یونیکورن سٹارٹ اپس کے لیے لانچنگ پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔وزیراعلی عمر عبداللہ نے نمائش میں اپنی اختراعات پیش کرنے والے نوجوان کاروباری افراد کی سراہنا کی اور جموں و کشمیر سے باہر سے آئے ہوئے مندوبین اور صنعتی ماہرین کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی مہارت سے خطے کے ابھرتے ہوئے سٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو تقویت بخشی۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے انڈر18 سکولی طلبا کے لئے جونیئر لیول آئیڈیا چیلنج۔ 2026، کالج اور یونیورسٹی طلبا کے لئے سٹارٹ اپ آئیڈیا چیلنج 2.0، جموں و کشمیر میں کاروباری مواقع کا مجموعہ، ہمالیائی جرنل اور سٹارٹ اپ کافی ٹیبل بک کا بھی اجرا کیا۔اس سے قبل اپنے کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وکر م جیت سنگھ نے اِستقبالیہ خطاب میں ملک بھر سے سمٹ میں شرکت کرنے والے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی جموں و کشمیر کے کاروباری ماحولیاتی نظام میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سٹارٹ اپ ایکو سسٹم میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، رجسٹرڈ سٹارٹ اپس اور ایم ایس ایم ای رجسٹریشنز میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے جبکہ حکومت کاروبار میں آسانی کو مزید بہتر بنانے اور کاروباری افراد کے لئے نئے مواقع پیدا کرنے پر مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو مختلف شعبوں میں بے پناہ امکانات رکھنے والی ایک فرنٹیئر مارکیٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مکمل جانچ پڑتال کے بعد سرمایہ کاری کرنے والوں کو خاطر خواہ منافع حاصل ہو سکتا ہے۔رکن اسمبلی پانپور حسنین مسعودی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بے روزگاری کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ مشکلات کے باوجود ثابت قدم رہیں، اِختراع کی حوصلہ افزائی کے لئے طریقہ کار کو مزید آسان بنایا جائے اور جموں و کشمیر میں سٹارٹ اپس کی سرپرستی اور کاروباری ماحول کو مضبوط بنانے میںجے کے اِی ڈِی آئی کے کردار کو سراہا۔ڈائریکٹر جے کے اِی ڈِی آئی محمد یونس ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے ایس سی اِی این ڈِی۔ 2026 محض ایک سمٹ نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی امنگوں کا مظہر ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ تقریب سٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کے لئے نئی راہیں ہموار کرے گی اور آنے والے برسوں میں بامعنی تعاون کی بنیاد بنے گی۔