پشاور // پاکستان میں پشاور کے قصہ خوانی بازار کے علاقے کوچہ رسالدار کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 57 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان محمد عاصم خان نے دھماکے میں جاں بحق و زخمیوں کے حتمی اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق افراد کی تعدا 56 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ زخمی ایل آر ایچ منتقل کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شدید زخمیوں کو بروقت طبی سہولیات فراہم کی گئیں تاہم چند زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔حکومت خیبر پختونخوا کے ترجمان بیرسٹر محمد سیف نے تصدیق کی کہ دھماکے کے اندر ہونے والا دھماکا خودکش تھا جس میں دو حملہ آور ملوث تھے۔ مقامی پولیس کے عہدیدار وحید خان کے حوالے سے بتایا گیا کہ دھماکا مسجد کے اندر نمازِ جمعہ کے دوران ہوا۔ترجمان نے کہا کہ زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے پیش نظر ایل آر ایچ میں ریڈ الرٹ کرتے ہوئے اضافی طبی عملے کو بلا یا گیا ہے۔کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) محمد اعجاز خان نے بتایا کہ ابتدائی تفصیلات کے مطابق قصہ خوانی بازار کے کوچہ رسالدار میں شیعہ جامع مسجد میں 2 حملہ آوروں نے گھسنے کی کوشش کے دوران ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی۔عینی شاہد شایان حیدر نے کہا کہ وہ مسجد میں داخل ہونے جارہے تھے کہ زوردار دھماکا ہوا اور جب ان کی آنکھ کھلی تو ہر طرف مٹی اور لاشیں موجود تھیں۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ریسیکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی ہیں، اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔انتظامیہ نے قریبی ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کردی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے شروع کردیے۔وزیر صحت و خزانہ خیبر پختونخوا نے ٹوئٹ میں کہا کہ دھماکے بعد پشاور میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا معظم جا انصاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملے کے وقت پولیس موقع پر موجود تھی اور عبادت گاہ کے باہر 2 اہلکار سیکورٹی تعینات تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے پستول سے فائرنگ اور پھر خودکش حملہ کیا گیا، دہشت گرد کالے کپڑوں میں ملبوس تھا جبکہ دھماکے میں 5 سے 6 کلوگرام دھماکا خیز مواد استعمال ہوا۔آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ دھماکے کے حوالے سے کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک دہشت گرد کو دیکھا گیا ہے۔