بلال فرقانی
سرینگر//جل جیون مشن کے تحت کشمیر میں گھروں تک نل کے ذریعے پانی کی فراہمی کے سرکاری دعوؤں کے باوجود زمینی سطح پر پیش رفت سست روی اور عدم توازن کا شکار نظر آتی ہے۔ محکمہ جل شکتی کشمیر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق صوبہ کشمیر میں منظور شدہ 1,392 اسکیموں میں سے اب تک صرف 850 اسکیمیں مکمل ہو سکی ہیں، جو مجموعی طور پر 61 فیصد تکمیل کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ باقی اسکیمیں مختلف مراحل میں تاخیر کا شکار ہیں۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 358 اسکیمیں 76 سے 99 فیصد تک مکمل ہو چکی ہیں مگر حتمی تکمیل کا انتظار کر رہی ہیں، جبکہ 135 اسکیمیں 51 سے 75 فیصد اور 40 اسکیمیں 26 سے 50 فیصد تک ہی پہنچ پائی ہیں۔
اس کے علاوہ 6 اسکیمیں 25 فیصد سے کم پیش رفت رکھتی ہیں اور 3 اسکیمیں تاحال شروع ہی نہیں ہو سکیں، جو منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ضلع وار کارکردگی میں بھی نمایاں تفاوت سامنے آیا ہے۔ قاضی گنڈڈویژن میں 123 میں سے 80 اسکیمیں65 فیصد کی شرح سے مکمل ہوئیں، جبکہ کولگام ڈویژن میں 116 میں سے 95 اسکیمیں 82 فیصد شرح اوراونتی پورہ ڈویژن میں بھی 82 فیصد اسکیمیں مکمل بتائی گئی ہیں۔ اس کے برعکس شوپیان ڈویژن میں صرف 34 فیصد، ہندواڑہ ڈویژن میں محض 18 فیصد اور ہائیڈرو ڈویژن اْوڑی میں 25 فیصد اسکیمیں امسال نومبر تک مکمل ہو سکی ہیں، جو بعض اضلاع میں انتظامی ناکامی کو اجاگر کرتی ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق بجبہاڈہ ڈویژن میں 273 میں سے 184 اسکیمیں67 فیصد شرح سے،بڈگام ڈویژن میں 104 میں سے 79 اسکیمیں76 فیصد شرح سے، پلوامہ میں 93 میں سے 63 اسکیمیں68 فیصد شرح سے اوربارہمولہ میں 109 میں سے 74 اسکیمیں 68 فیصد شرح سے مکمل ہوئیں، تاہم ان اضلاع میں بھی درجنوں اسکیمیں تاحال نامکمل ہیں۔ گاندربل، بانڈی پورہ اور چاڈورہ ڈویژنوں میں بھی تکمیل کی شرح 44 سے 49 فیصد کے درمیان رہی، جو دیہی آبادی کیلئے مسلسل مشکلات کا سبب بنی ہوئی ہے۔محکمہ کی رپورٹ کے مطابق واٹر سپلائی ماسٹر پلان ڈویژن سرینگر میں صرف 2 اسکیمیں تھیں اور دونوں مکمل ہو چکی ہیں، تاہم دیگر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے، جہاں عوام کو تاحال نل کے پانی کی مستقل سہولت میسر نہیں آ سکی ہے۔دوسری جانب جل جیون مشن کے تحت مختلف اجزاء میں کیے گئے کاموں کی مجموعی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ رپورٹ کے مطابق کل 3,637 کاموں میں سے صرف 2,450 کام مکمل کیے جا سکے ہیں جبکہ 1,187 کام یا تو نامکمل ہیں، شروع ہی نہیں ہوئے یا الاٹ نہیں ہو سکے ۔پائپ نیٹ ورک کے 1,703 کاموں میں سے 1,099 مکمل ہوئے، تاہم اب بھی 604 پائپ لائن منصوبے مختلف مراحل میں زیر التوا ہیں، جس کے باعث کئی دیہی علاقوں میں پانی کی سپلائی کا نظام مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ گراونڈ سروس ریزروائر کے 999 میں سے 814 کام مکمل بتائے گئے ہیںتاہم 185 منصوبے اب بھی نامکمل ہیں۔ ان میں سے 72 منصوبے 76 سے 99 فیصد تکمیل کے باوجود مکمل نہیں ہو سکے۔اسی طرح 302 پمپ ہاؤسز میں سے صرف 203 کام مکمل ہوئے ہیںجبکہ 43 منصوبے ابھی تک شروع ہی نہیں ہو سکے اور 19 منصوبے آخری مرحلے میں لٹکے ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 267 ریپڈ سینڈ فلتریشن پلانٹ(تیز رفتار ریت کے ذریعے پانی صاف کرنے کا پلانٹ) میں سے 104 پائے مکمل ہوئے جبکہ 86 کام 76 سے 99 فیصد تکمیل کے باوجود حتمی مرحلے میں اٹکے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 52 منصوبے 51 سے 75 فیصد اور 15 منصوبے 26 سے 50 فیصد تک ہی پہنچ پائے ہیں۔ 220 سولڈ سٹیٹ فلٹریشن پلانٹ ،جس کا مقصد پینے کے پانی سے مضر ذرات اور آلودگی کو مؤثر طریقے سے علیحدہ کرنا ہے ،میں سے 129 کام مکمل ہو سکے ہیں جبکہ 40 منصوبے 76 سے 99 فیصد اور 31 منصوبے مختلف ابتدائی مراحل میں ہیں۔130 آوور ہیڈ ٹینک میں سے 88 ہی پایہ تکمیل تک پہنچ پائے ہیںجبکہ 19 منصوبے 76 سے 99 فیصد اور 16 منصوبے 26 سے 50 فیصد تک محدود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 16 کھدے ہوئے کنویں(ڈگ ویلز )میں سے 13 مکمل ہوئے، جبکہ 12 کام تاحال الاٹ نہیں ہوئے اور 93 کام شروع ہی نہیں ہو سکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کاغذی طور پر پیش رفت دکھائی جا رہی ہے، لیکن منصوبوں کی سست رفتار، اضلاع کے درمیان عدم مساوات اور تاخیر جل جیون مشن کے مقاصد کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو فیصدی دعوؤں کے بجائے زمینی سطح پر پانی کی دستیابی، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور جوابدہی کے مؤثر نظام کو یقینی بنانا ہوگا، تاکہ ہر گھر نل سے پانی کا وعدہ محض اعداد و شمار تک محدود نہ رہے۔