یہاں اس بات کا ذکر کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ نور جہاؔں نے اپنے ذاتی اثر و رسوخ کو فیاضی اور رحمدلی کے کاموں میں استعمال کیا۔وہ روشن خیال اور سب کے لئے ایک جیسا سلوک کرنے کی حامی تھی۔اُس نے ایک ایسے وقت میں امور حکومت کو انجام دیا جب جہانگیر مکمل طور پر عیش و عشرت میں پھنس چکا تھا ۔نور جہاں کی بدولت ہی جہانگیر نے اپنے دورِ حکومت کے آخری دنوں میں شراب نوشی ترک کردیاور اُس نے ہی بادشاہ کو بلند اخلاق بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
نور جہاؔں ضرورت مندوں کی امداد کرنے میں بڑی فیاض تھی اور فی الواقعہ وہ اپنی انتظامی صلاحیتوں اور اصلاحی و اقتصادی اقدامات کی بدولت تاریخ ِہند میں ایک بہت اعلیٰ اور اونچا مقام رکھتی ہے۔اُس نے اپنی نفاست ،تدبر،فراست اور جمالیاتی ذوق کی بدولت مغلیہ دربار کی زیبائش و آرائش میں بے پناہ اضافہ کیا۔نور جہاں کے عہد کے فیشن اُسی کی ایجادات ہیں۔اُس نے زیورات اور ایسے ملبوسات جن سے تب تک ہندوستان غیر واقف تھا ملک میں رائج کئے ۔وہ دل کی نہایت نرم اور متحمل مزاج تھی۔وہ ایک وفا شعار دوست اور ہمدرد بیوی تھی ۔اُس جیسے لوگ دنیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔
مغل بادشاہوں کے تسلط میں جتنی دیر کشمیر رہا ،اُس دوران سب سے زیادہ ملکہ نور جہاں اور بادشاہ جہانگیر ہی کشمیر آئے۔اب یہ کہنا ذرا مشکل ہے کہ وادی کے دلفریب کے ساتھ کس کی اُنسیت زیادہ تھی ،شاہ کی یا ملکہ کی۔مگر اُن کے بار بار آنے سے لگتا ہے کہ دونوں ہی کشمیر کے گرویدہ تھے۔اپنے جلوس شاہی کے دوران دونوں ملکہ اور بادشاہ کل ملاکر تیرہ بار کشمیر میں سیرو تفریح کے لئے آئے اور لگائو کا عنصر اس بات سے بھی ہویدا ہے کہ آخری واپسی پر بادشاہ کی موت بھی راجوریؔ کے مقام پر ہوئی۔سن ۱۹۲۷ء میں شاہی قافلہ کے واپس لوٹتے وقت پیر پنچاؔل پار کرتے ہوئے بہرام ؔگلہ کے پاس جہانگیر ؔنے داعیٔ اجل کو لبیک کہا مگرملک میں شور ش نہ ہونے اور تخت کی دعوے داری کی ہوڑ سے بچنے کے لئے نور جہاں ؔنے بادشاہ کی موت کو راز ہی رکھا اور راجوری ؔکے قریب چِنگسؔ میں اُس کی انتڑیاں وغیرہ نکال کر انہیں اُسی جگہ پر دفن کیا گیا ۔اُس جگہ پر بنی مغلیہ تعمیر آج بھی موجود ہے۔بعد میں لاہوؔر پہنچ کر بادشاہ کی موت کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ۔
ملکہ نور جہاںؔ کو کشمیر کے ساتھ بے حد لگائو تھا ۔اس بات کا اندازہ یوں بھی لگایاجاسکتا ہے کہ وہ زندگی میں تیرہ بار کشمیر آتی رہی ۔اُس کی بہترین یاد گار میں سے اُس کا بنایا ہوا شالیمارؔ باغ ہے۔غور سے دیکھا جائے تو وہ ہر اعتبار سے اُس کے بھائی آصفؔ خان کے بنائے ہوئے نشاط باغؔ سے بہتر ،خوبصورت اور اپنے اندر ایک محویت ،پُر اسراریت اور سحر لئے ہوئے ہے۔اس کی بارہ دریوں ،کھمبوں اور خوبصورت چھت پر جو نگینے ،قیمتی پتھر اور ہیرے جڑے ہوئے تھے ،وہ سن ۱۸۶۵ء کے آس پاس ڈوگرہ حکمران کے کشمیر ی پنڈت وزیر پنّوںؔ نے نکلوائے جو وزن میں لگ بھگ ایک ٹن کے قریب تھے،اور ہڑپ لئے۔چشمہ ویری ناگ دریائے جہلم کا منبع ہے ،اُس چشمے کے ارد گرد آٹھ پہلووالی چار دیواری نور جہاںؔ کی ہی بنائی ہوئی ہے اور اسی طرح اچھہ بلؔ کی تعمیرات اور اُن تعمیرات میں ایک حمام ؔ،جس میں ملکہ نہاتی تھی ۔ایسا کہا جاتاہے کہ حما م کے نیچے صرف ایک چراغ رکھ دیا جاتا تھا تو منٹوں میں سارا حمام اور حمام کا پانی گرم ہوجاتا تھا۔
نور جہاںؔ کے کشمیر کے ساتھ لگائو کا ہی یہ پیش خیمہ ہے کہ اُس نے بار بار یہاں آکر اپنی شخصیت کا پرتَو ہر طرف نقش کردیا۔شالیمارؔ کا نام اس درجہ دلفریب و دلکش ثابت ہوا کہ بعد میں کئی بڑی شخصیات نے اپنا نام شالیمار رکھا اور اسی نام سے لاہور،دہلی اور جموں میں بھی باغات تعمیر ہوئے تھے۔راجوری میں چنگسؔ کے مقام پر قلعہ نما حویلی ،پونچھ میں نوری ؔچھم کے نام سے آبشار کے پاس بیٹھنے اور نظارہ کرنے کے لئے مخصوص نشستیں اورغُسل کے بعد بال سنوارنے کے لئے دیواروں میں جڑے آئینوں کی جگہیں ،بحرار جو عیش کوشی کے لئے مخصوص ایک گل بن تھا ،جہاں آج جذؔام کے مریضوں کے لئے ایک ہسپتال ہے اور نہ جانے کتنے مقامات ہیں جہاں آج بھی درودیوار کے کھنڈرات اور شجر و حجر نور جہاںؔ کے اُن مست و مخمور ایام کی یاد دلاتے ہیں جب ہر طرف حُسن تھا ،عشق تھا ،محویت اور مخموریت تھی،ساز و آہنگ کے دل میں اُترنے والے نغمے تھے،گنگھرو اور تھاپ پر لہراتے معطر پیراہن اور ملکوتی رقاصائن تھیں،چہلیں تھی،قہقہے تھے ،راز و نیاز کی سرگوشیاں تھیں،رنگین ،ریشمی پیشوائوں کی سلوٹوں میں تار سے جھلملاتے تھے،ناز و انداز اور ادائے دلبری تھی ۔یہ اُسی زمانہ ساز ۔۔۔۔فتنۂ روزگار ،پری چہرہ بُت طنّار اور ملکہ حُسن و جمال کی سحر آفرینی ہی ہے جو مختلف انقلابات اور ستم ہائے روز گار کے باوجود آج تک ویری ناگ ؔ،اچھہ بلؔ ،نوری چھمؔ ،شالیماؔر باغ اور پتھر مسجدؔ کی سحر آفرینی میں اُسی کا جلوہ نظر آتا ہے اُسی کی شخصیت محسوس ہوتی ہے اور وہ پردہ نشین ملکہ حسن وجمال ،اُنس و الفت ،مجنونِ پیار و محبت ،ہوائوں میں فضائوں میں اپنا ملکوتی تبسم بکھیرتی ہوئی لگ رہی ہے۔ڈلؔ کے خوابیدہ پانی،ادھ کھلے کنول اور پن ڈبکیاں بھی کبھی کبھی ہرے رنگوں کی پردوں سے مزّین ،سنہری رنگ کے گائو تکیوں سے سجی ،سیمیں چپوئوں سے آہستہ خرامی والی ہلکور ے لیتی نائو میں دو پیار کرنے والے عاشقوں کی والہانہ پن کی داستانوں کی گواہی دیتے ہیں،اور یوں گماں ہوتا ہے کہ وہ آج بھی یہیں ہے۔۔۔۔یہیں کہیں ہے۔۔۔۔یہیں کہیں آس پاس ہی ہے ۔مگر ۔۔۔۔مگر۔۔۔۔ ؎
یہی دُنیا یہی دُنیا کے عیش ِ بیکراں ہو ں گے
یہ سب ہوگا مگر اے عمر فانی ہم کہاں ہوں گے
اتنی تزک و احتشام ،آن بان اور شان و شوکت والی عجوبہ روز گار ملکہ لاہورؔ میں مدفن پر یہ شعر لکھا تھا جو سُنا ہے کہ اب امتدادِ زمانہ کی گردشوں نے مٹا ڈالا ہے ؎
بر مزار ے ماغر یباں نے چراغے نے گُلے
نے پر ِ پروانہ سوز دنے صدائے بُلبُلے ……(ختم شد)
رابطہ۔9596041360
�������