ینگون //میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف جاری مظاہروں پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں اضافی فوج تعینات کر دی ہے۔ جبکہ حکام نے ایک مرتبہ پھر شہریوں کی انٹرنیٹ تک رسائی مکمل معطل کر دی ہے۔ ینگون میں کئی مقامات پر اضافی فوج تعینات کی گئی ہے، جبکہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی اضافی فوجی گاڑیوں کو گزرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔پیر کی صبح کو دارلحکوت ینگون میں ایک مرتبہ پھر فوج مخالف مظاہروں میں شدت نظر آئی ہے۔ سینکڑوں کی تعداد میں طلبہ نے شہر کے شمالی حصے میں پر زور احتجاج کیا جبکہ دیگر شہروں سے بھی احتجاج کی خبریں آئی ہیں۔اتوار کی رات کو شمالی شہر مائٹکینا میں مظاہرین پر گولیاں برسانے اور آنسو گیس کے استعمال کے حوالے سے بھی میڈیا میں رپورٹ کہا گیا ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق مظاہروں کے حوالے سے خبریں دینے اور زخمیوں کی تصاویر چھاپنے والے کم از کم پانچ صحافیوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔معلومات تک رسائی اور انٹرنیٹ کی بندش کے علاوہ اکثر صارفین کی سوشل میڈیا تک رسائی بھی معطل کر دی گئی ہے۔مریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کی جانب سے مشترکہ بیان میں میانمار کے حکام پر زور دیا ہے۔