ایجنسیز
بینکاک// میانمار اور چینی خارجہ پالیسی پر لکھنے والے ایک امریکی اسکالر کو چینی حکام نے جاسوسی کے شبہے میں گرفتار کر لیا ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز اس کی تصدیق کی۔چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لن جیان نے کہا کہ اسکالر من زن پرایسی جاسوسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے جوچین کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔بیجنگ کی جانب سے کسی امریکی شہری کو قومی سلامتی سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کرنا غیر معمولی بات ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب صرف ایک ماہ قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدرشی جن پنگ سے بیجنگ میں ملاقات کی تھی،
جہاں دونوں ممالک کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔میانمار کے ایک سرگرم کارکن، جو من زن کو جانتے ہیں، نے بتایا کہ وہ 3 جون کو چین کے صوبہ یوننان کے شہر کنمنگ میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے گئے تھے، جس کے بعد وہ لاپتا ہو گئے۔ مذکورہ کارکن نے حکومتی انتقامی کارروائی اور گرفتاری کے خوف کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ ان کے مطابق من زن اس سے قبل بھی کئی مرتبہ چین کا دورہ کر چکے تھے۔من زن 1988 میں میانمار میں ہونے والی طلبہ تحریک کے دوران سرگرم طالب علم رہنما تھے۔ اس تحریک کو اْس وقت کی حکومت نے فوجی طاقت کے ذریعے کچل دیا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے امریکہ میں پناہ حاصل کی۔ مذکورہ کارکن کے مطابق وہ اس وقت کسی براہِ راست سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے۔من زن آئی ایس پی میانمارنامی ایک تھنک ٹینک کے بانی بھی ہیں، جو حالیہ برسوں میں چینی خارجہ پالیسی اور میانمار کے ساتھ چین کی تجارتی سرگرمیوں پر تحقیق اور تجزیے شائع کرتا رہا ہے۔ یہ ادارہ چینی تھنک ٹینکس کے ساتھ باقاعدہ تبادلہ خیال میں بھی شریک رہا ہے اور میانمار سے چین کو ہونے والی نایاب معدنیات کی برآمدات جیسے موضوعات پر بھی رپورٹیں شائع کر چکا ہے۔