سرینگر //مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جموں وکشمیر کے 3روزہ دورے پر سرینگر پہنچ گئے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہوائی اڈہ پر ان کا استقبال کیا ۔ وزیر داخلہ نے ائر پورٹ سے نکلنے کے بعدسیدھے نوگام جاکر مہلوک پولیس انسپکٹر پرویز احمد کے لواحقین سے ملاقات کی اور سرکاری ملازمت کا آرڈر فراہم کیا۔امیت شاہ لیفٹیننٹ گورنر اور چیف سیکریٹری کے ہمراہ کافی دیر تک انکے گھر میں موجود رہے اور اہل خانہ سے تعزیت بھی کی۔ منگنواڑی نوگام میںسی آئی ڈی ونگ کے انسپکٹر پرویز احمد کو 22 جون کی شام8بجے اُس وقت گولیوںکا نشانہ بنایا گیا تھاجب وہ مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد واپس گھر آرہا تھا۔اس کے بعد وزیر داخلہ نے جموں کشمیر کی سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے یونیفائیڈ کمانڈ میٹنگ کی صدارت کی جس میں سیکورٹی فورسز اور انٹلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئی بی سربراہ اروند کمار،ڈائریکٹر جنرل سی آر پی ایف کلدیپ سنگھ، ڈائریکٹر جنرل قومی سلاتی گارڈ ایم اے گنہ پتی،بی ایس ایف ڈائریکٹر جنرل پنکج سنگھ،ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ،فوجی کمانڈر، وادی اور جموں کے آئی جی پیز اور فوج کے کور کمانڈربھی میٹنگ میں شریک شرکت کی ۔اس کے بعد امت شاہ نے شاہ وزیر اعظم کے پیکیج کے تحت مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کے نفاذ میں پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے ویڈ یو کانفرنس کے ذریعے سرینگر کے بین الاقوامی ہوئی اڈے سے شارجہ سرینگر فضائیہ سروس کا بھی افتتاح کیا۔
نیوز ڈیسک
سرینگر // مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ 5اگست 2019کے وقت وادی میں بندشیں عائد کر کے لوگوں کی زندگیوں کو بچانے کا کام کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بطور وزیر داخلہ پارلیمنٹ میں انہوں نے اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ پہلے حد بندی ہوگی ، اسکے بعد چنائو اور بعد میں ریاستی درجہ کی بحالی کا کام کیا جائیگا۔انکا کہنا تھا کہ دفعہ 370کی منسوخی سے دہشت گردی، اقربا پروری اور رشوت ستانی کا خاتمہ ممکن بنایا گیا اور اب یہ سفر جاری رہے گا۔
حد بندی و چنائو
حد بندی کے بارے میں امت شاہ نے کہا’’ہم حد بندی کو کیوں روکیں؟ حد بندی ہوگی، اس کے بعد انتخابات ہوں گے اور پھر ریاست کی بحالی ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ قوم کا مستقبل ہیں۔
دفعہ 370کی منسوخی
وزیر داخلہ نے کہا ’’5 اگست 2019 سنہری حروف میں لکھا جائے گا، یہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی، اقربا پروری اور بدعنوانی کا خاتمہ تھا، اب جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو یونین ٹیریٹری کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا ہے، یہ ان کی ذمہ داری ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ عسکریت پسندی میں کمی آئی ہے، آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پتھرا ئو کے واقعات ختم ہو گئے ہیں،میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو جموں و کشمیر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں،یہاں جو ترقی ہو رہی ہے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا، یہ ہمارا عزم ہے اور ہم یقینی طور پر اپنے تمام وعدوں کو پورا کریں گے۔
جانیں بچائیں
ہفتے کے روز دورے کے دوران نوجوانوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے دوران انٹرنیٹ پر پابندی اور کرفیو نے وادی کے ہزاروں نوجوانوں کی جانیں بچائیں۔شاہ نے راج بھون آڈیٹوریم میں نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے اُس وقت کرفیو اور مواصلاتی بلیک آئوٹ پر سوال اٹھایا ، لیکن اگر کرفیو نہ ہوتا تو وہ نہیں جانتے کہ کتنی جانیں ضائع ہوچکی ہوں گی، کشمیری نوجوانوں کی زندگیاں اس فیصلے سے بچائی گئیں، جس پر کئی پلیٹ فارمز پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تین خاندانوں نے جموں و کشمیر پر 70 سال تک حکومت کی۔ ان کے دور حکومتوں میں 40,000 لوگ کیوں مارے گئے؟ کیا ان ہلاکتوں کی کوئی وضاحت ہے؟۔
تین خاندانوں کی حکومتیں
شاہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے ان چیزوں کو ممکن بنایا ہے، جو تین خاندانوں کے 70 سال کے دور حکومت میں رکاوٹ بنی تھیں،آج ہم جموں و کشمیر میں ترقی، روزگار اور تعلیم کا مشاہدہ کر رہے ہیں، یہ ایک بڑی تبدیلی ہے، جموں و کشمیر میں صنعتیں آرہی ہیں، سیاحت کا شعبہ ترقی کر رہا ہے، اب چاہے کوئی کتنا ہی زور لگائے ، تبدیلی کی اس ہوا کو کوئی نہیں روک سکتا۔انہوں نے کہا کہ وہ کشمیر کے نوجوانوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس تبدیلی کو ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا اور یہ کشمیر کے لیے ایک نیا دور ہے۔انہوں نے کہا کہ آج وہ تقریباً ا ڈھائی سال بعد جموں و کشمیر آیا ہوں، یہ میرے لیے بہت خوشگوار لمحہ ہے کیونکہ سیکورٹی جائزہ میٹنگ کے بعد میں یوتھ کلب کے نوجوانوں کے ساتھ ایک پروگرام کر رہا ہوں۔