کشتواڑ//یاتریوں کے کرایہ میں کئے گئے اضافہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے و شکتی سیوک سنستھان نے عدالت جانے کا فیصلہ کیاہے۔ سالانہ مچیل یاترا کیلئے سرو شکتی سیوک سنستھان کی جانب سے ایک اہم اجلاس زیر قیادت صدر نیک رام منہاس منعقد کیا گیا ۔ اجلاس میں یاترا کے مختلف مدعوں جیسے کہ یاترا کے دنوں میں اضافہ پر تفصیلی مباحثہ کیا گیا ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یاترا یکم اگست کے بجائے 25جولائی کو شروع ہوگی اور 40 دنوں تک جاری رہے گی۔اجلاس میں اسکے علاوہ گلاب گڑھ میں یاتری بھون کی فوری تعمیر پر زور دیا گیا ،تاکہ یاتریوں کو یاترا کے دوران سہولیت ہو۔ اجلاس میں واضع کیا گیا کہ رواں سال میں وی آئی پی درشن دستیاب نہیں ہونگے اور تمام یاتریوں کو قطاروں میں شامل ہو کر درشنوں کیلئے جانا ہوگا۔مچیل بھون کے سلسلہ میں جموں و کشمیر بینک سے یاتریوں کی سہولیت کے لئے ایک بینک شاخ اور اے ٹی ایم کھولنے پر اسرار کیا گیا ۔اسکے علاوہ ایڈمنسٹریٹو بلاک اور ٹائیلٹ سہولیات کی تعمیر کیلئے کاوشوں میں سرعت لانے کا بھی فیصلہ لیا گیا ۔یاترا کے دوران یاتریوں کی سہولیت کیلئے ایک ہیلپ ڈیسک تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ،جو چوبیس گھنٹے کام کریگا۔سیوا رام کو پرچیزنگ کمیٹی کا سربراہ تعینات کیا گیا ہے۔سنستھا کے ترجمان دیپانکر گپتا نے ا جلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ گُذشتہ سال فی نفر 3100روپیہ مقرر کیا گیا تھا لیکن روان سال کے لئے فی نفر4000روپیہ مقرر کیا گیا ہے،جو کہ یاترا کے لئے آنیوالے یاتریوں کے ساتھ سرا سر ناانصافی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضلع انتظامیہ نے بیکار کمپنیوں سے ٹینڈر طلب کئے تھے،یہی وجہ ہے کہ وہ کرایہ میں اضافہ کو لیکر بضد ہیں،جسکی وکجہ سے سنستھا کے پاس عدالت جانے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔