سری نگر// نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے گاو رکشا کے نام پر بقول اُن کے غنڈہ گردی اور لاقانونیت پر زبردست برہمی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابقہ پی ڈی پی بی جے پی حکومت کی مہربانی سے اب یہ وباء رام بن تک پہنچ گئی ہے اور کل جس طرح سے سری نگر جموں شاہراہ پر ان بے لگام غنڈوں اور شر پسندوں نے پولیس اور سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں ٹرک نذر آتش کیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قلم دوات جماعت کی سرکار میں ان فرقہ پرستوں کی کس قدر پشت پناہی اور حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز یہاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیر اعظم ہند نریندر مودی نے کئی بار ایسے واقعات کو ناجائز قرار دیا لیکن زمینی سطح پر ان غنڈوں اور شرپسندوں کی لگام کسنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر ریاستی حکومت نے وقت پر ان غنڈوں اور شرپسندوں کے خلاف کارروائی کی ہوتی تو شاید کل کا واقعہ پیش نہیں آتا۔ انہوں نے کہا’ پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت نے ہمیشہ ایسے واقعات کی جانب اپنی آنکھیں موند کے رکھی اور چُھپی سادھ کے رکھی اور آج حالات اس حد تک پہنچ گئے ہیں کہ یہ فرقہ پرست عناصر سیکورٹی فورسز اور پولیس کی موجودگی میں شرپسندانہ کارروائیاں کررہے ہیں‘۔ ڈاکٹر کمال نے گورنر انتظامیہ اور پولیس سربراہ سے پُرزور اپیل کی کہ ان عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور اُن پولیس و سیکورٹی اہلکاروں و افسران کے خلاف بھی قوائد و ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے جو کل پیش آئے واقعہ کے وقت تماشائیوں کا رول نبھا رہے تھے۔ پارٹی کے لیڈر اور ضلع صدر رام بن سجاد شاہین نے بھی رام بن میں ڈرائیور کی مارپیٹ کرنے ٹرک پر شدید پتھرائو کرکے نذر آتش کرنے کی کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست عناصر اپنے مذموم مقاصد کے لئے یہ حربے اپنا رہے ہیں۔ ان واقعات میں ملوث شرپسندوں کے خلاف فوری کارروائی کی مانگ کرتے ہوئے شاہین نے کہا کہ یہ لوگ یہاں امن و امان کی فضا اور آپسی بھائی چارہ کو پارہ پارہ کرنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ ان شرپسند عناصر کے مقاصد کو کامیاب نہ ہونے دیں اور ہر حال میں آپسی بھائی چارہ اور ہم آہنگی قائم و دائم بنائے رکھیں۔