سرینگر// پیپلز کانفرنس نے معروف سیاسی شخصیت مرحوم مولوی افتخارحسین انصاری کو ان کی ساتویں برسی پر خراج عقیدت پیش کیا۔اس سلسلے میں پارٹی ہیڈ کوارٹر پرایک اجلاس منعقد کیاگیا۔ اجلاس میں پارٹی لیڈران نے پسماندہ لوگوں کی بہتری میں مرحوم کے کردار کو اجاگر کیا ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمد عباس وانی نے مولوی افتخار کو خراج عقیدت پیش کیا اور جموں و کشمیر کے لوگوں کیلئے ان کے رول کو سراہا۔ وانی نے اپنی ذاتی اور سیاسی زندگی میں مرحوم کی حمایت اور حوصلہ افزائی کو یاد کیا۔خورشید عالم نے کہا کہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کیلئے مرحوم کی انتھک کوششوں اور لوگوں کیلئے ان کے پیار اور محبت کو مستقبل میں یاد رکھا جائے گا۔ سینئر لیڈر منصور سہروردی نے بھی مرحوم کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو سیاست میں راغب کر نے میں مولوی موصوف کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اجلاس میں مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ اجلاس میںپارٹی لیڈرفیاض احمد میر ، نذیر احمد لاوے ، منصور سہروردی محمد ، ایڈوکیٹ بشیر احمد ڈار ، یاسر ریشی ، راجہ اعجاز علی ، محمد اشرف میر ، عدنان اشرف میر اور تصدق یاسین بھی موجود تھے۔
بیوروکریٹ انتخابات روکنے کی کوششوں میں مصروف: عمران انصاری
سرینگر//کے این ایس//پیپلز کانفرنس لیڈرعمران رضا انصاری نے کہا کہ کشمیر کی کچھ بڑی سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہیں۔انہوںنے کہا کہ این سی اور پی ڈی پی صرف جموں و کشمیر پر حکومت کرنا چاہتی ہیںلیکن خاندانی سیاست پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔انصاری نے کہا کہ بیوروکریسی جموں و کشمیر میں ترقی نہیں لائے گی۔انصاری نے جمعرات کوکے این ایس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کچھ سیاسی جماعتیں صرف جموں و کشمیر پر اپنی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ، اس بات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ جموں و کشمیر کے لوگ تبدیلی اور ترقی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں انتخابات ہونے چاہئیں کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیوروکریسی عوام کے بہترین مفادات کیلئے کام نہیں کرے گی کیونکہ بیوروکریٹ صرف اپنے مفادات اور مقاصد کیلئے کام کرتے ہیں۔انصاری کے مطابق جموں و کشمیر کے بیوروکریٹ آئندہ انتخابات کو روکنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ان کا بنیادی مقصد صرف حکومت کرنا ہے۔انہوں نے اس حقیقت پر تشویش کا اظہار کیا کہ جموں و کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتیں این سی اور پی ڈی پی اپنی حکمرانی کو جموں و کشمیر کے لوگوں کے مسئلے کا واحد حل مانتی ہیں لیکن انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ لوگ تبدیلی چاہتے ہیں اور کوئی بھی تبدیلی لانے کیلئے آگے آ سکتا ہے۔عمران انصاری نے کہا کہ حکمرانی اور الیکشن لڑنا کشمیر کے صرف دو خاندانوں کا پیدائشی حق نہیں ہے۔انہوں نے کہا ’’میں جموں و کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ متحد ہوکر کھڑے ہوں اور لوگوں کے مسائل کیلئے کام کریں بجائے اس کے کہ ایک سیاسی جماعت کو دوسری سیاسی جماعت سے جوڑ دیں ‘‘۔دربار موو میں کمی کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دربار کی منتقلی جموں و کشمیر کے لوگوں کے درمیان ایک طویل عرصے سے تعلق ہے۔انہوں نے کہا ’’ دربار کا اقدام نہ صرف ایک معاشی تعلق ہے بلکہ دونوں صوبوں کے درمیان ایک جذباتی اور ثقافتی رابطہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ دربار کی منسوخی صرف جموں و کشمیر کے عوام کے اتحاد اور بھائی چارے کو نقصان پہنچائے گا۔