مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ دور جدید کے مایہ ناز فقہی شخصیت تھے ۔ وہ علوم اسلامیہ کے شناور تھے لیکن فقہ ان کے تخصص کا میدان تھا ۔ فقہ اسلامی اور بین الاقوامی قوانین پر ان کی گہری نظر تھی ۔اسلامی شریعت میں وہ سند کا درجہ رکھتے تھے ۔ مولانا مجاہد الاسلام امت کے ان مشاہیر علماء میں سے تھے جنھوں نے دین کی حفاظت و اشاعت میں بے پناہ جدو جہد کی۔ انہیں ہر مکتبہ فکر اور حلقہ میں عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے ۔انھوں نے بہت سے کارنامے انجام دئیے اور ان کا ہر کارنامہ خدمات جلیلہ کا شاہکار ہے ۔
مولانا قاضی مجاہد الاسلام ؒ ۹ اکتوبر ۱۹۳۶ ء میں دربھنگہ (بہار ) کے ایک علمی اور دینی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد کا نام مولانا عبدالاحد جو شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒکے شاگرد رشید بھی تھے۔ قاضی صاحب نے عربی فارسی اور اردو کی ابتدائی کتابیں گھر ہی میں پڑھی ۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم کے سلسلے میں پہلے مدرسہ محمود العلوم دملہاور، مدرسہ امدادیہ اور پھردارالعلوم مئو ناتھ بنجھن میں داخلہ لیا ۔ اس کے بعد ۱۹۵۱ ء میں اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں ازہر ہند دارالعلوم دیو بند میں داخلہ لیا اور وہاں کے اصحاب علم و فضل سے خوب استفادہ کیا۔۱۹۵۵ ء میں فراغت ہوئی ۔جب کہ پنجاب یونورسٹی سے امتیازی نمبرات کے ساتھ عربی آنرس کیا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے ۔ سب سے پہلے وہ جامعہ رحمانیہ میں استاد کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا اور اس میں انہیں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد قاضی صاحب درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور ۱۹۶۴ء تک جامعہ رحمانی مونگیر میں تدریس کے فرائض انجام دئیے ۔ محنت اورخدا داد صلاحیتوں کی وجہ سے مولانا جامعہ میں محبوب اور ہر دل عزیز استاد بن گئے ۔اس کے علاوہ وہ کئی اہم مدرسوں کو دورہ کرتے تھے اور انہیں مفید مشوروں سے نوازتے تھے ۔قاضی صاحب مدارس کے تعلیمی انحطاط پر بے حد نالا ں تھے ۔وہ جہاں بھی جاتے تھے تو مدارس میں معیاری تعلیم پر ذمہ داروں اور علماء کو توجہ دلاتے تھے ۔وہ علوم اسلامیہ میں اختصاص پر بھی زور دیتے تھے اور اس جانب خود بھی عملی کوششیں کیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس علوم اسلامیہ کے حصول کے لئے قائم کئے گئے ہیں اور ان کو اسی مقصد کے لئے مخصوص رکھنا چائیے ۔البتہ وہ الگ سے پروفیشنل اور ٹکینکل کالجز اور ادروں کے قیام پر بھی زور دیتے تھے۔انھوں نے ٹیکنکل تعلیم کے مراکز کے قیام کے لئے خود خوششیں کیں اور انہی کی کوششوں کی بدولت آج امارت شرعیہ سات ٹیکنکل ادارے چلا رہے ہیں جہاں سے سینکڑوں طلباء تعلیم حاصل کر کیرزق حلال کما رہے ہیں ۔
علم و حکمت کے جوہر
امیر شریعت بہار مولانا منت اللہ رحمانیؒ نے انہیں ۱۹۶۱ ء میں امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ کے قاضی القضاۃ مقرر کیا اور تاحیات منصب جلیلہ پر فائز رہے ۔ ۱۹۷۲ ء میں علمائے ہند نے مسلم پرسنل لاء بورڑ قائم کیا تو قاضی صاحب اس کے تاسیسی رکن رہے ۔ان کی ملی سرگرمیوںکا اہمادارہ اٰل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڑ قائم کی قیادت بھی تھی ۔مولانا ابولحسن علی ندوی کی وفات کے بعد قاضی صاحب مسلم پرسنل لاء بورڑ کے صدر منتخب ہوئے ۔ان کا اصل میدان فقہ تھا ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے یہی کام لیا تھا ۔فقہ پر مبنی ان کی تحریروں کا موضوع اصول فقہ ، اسلامی شریعت کی جدید تطبیق ، عائلی زندگی کے مسائل، اسلام کا عدالتی نظام ، جدید مڈیکل اور معاشی مسائل رہا ہے ۔ فقہ کے ساتھ ساتھ تفسیر ، حدیث ، کلام ، تاریخ ، فلسفہ اور اردو ادب میں بھی پورا عبور حاصل تھا ۔ ان کی تمام عمر قضا کے کاموں میں گزری ، نظام امارت اور امارت شریعہ کا قیام وہ سب سے اہم دینی فریضہ تصور کرتے تھے ، اس کے لئے انھوں اپنی پوری زندگی وقف کر ڈالی ۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اتحاد و اجتماعیت قائم کرنا ،قاضی صاحب کا محبوب ترین موضوع تھا ۔انھوں نے امارت شریعہ میں اپنی زندگی کے ۳۵ سال بسر کئے ، اس دوران انھوں نے ہزاروں معاملات کے فیصلے کئے ۔ انھوں نے امارت شریعہ کو موقر اور معتبر ادارہ بنانے میں میں اہم کردار ادا کیا ۔ مولانا قاضی صاحب اسلامی فقہ اکیڈیمی مکہ مکرمہ کے رکن بھی تھے ۔ ان کے علاوہ موصوف متعدد علمی اداروں کی رکنیت کے مناصب پر فائز رہے ۔ آپ کو متعدد ایوارڈس مل چکے ہیں جن میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹیڈیز نئی دہلی کی طرف سے شاہ ولی اللہ ایوارڑ، حکومت کویت کی طرف سے فقہی ایوارڑ، حکومت مراکش کی طرف سے گولڈمیڈل ، مسلم ایجوکیشن کی طرف سے بہترین اسلامی شخصیت ایوارڑ قابل ذکر ہیں ۔ انھوں نے جہد وعمل سے بھر پور زندگی گزاری اور انمٹ نقوش چھوڑ کر ۴ اپریل ۲۰۰۲ء کو اس دنیا سے رخصت ہو کر خالق حقیقی سے جاملے ۔ ان کی زندگی کا ایک کارنامہ نئی نسل خاص کر نوجوان علماء و فضلاء کی علمی ، فکری ،تحقیقی تربیت اور ان کی کردار سازی ہے ۔ ان کی وفات پر عالم اسلام کے معروف فقہیہ ڈاکٹروھبۃ الزحیلی نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے :’’ آج وہ درخشاں ستارہ ٹوٹ گیا، جس کی تابناکی نے ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کو روشنی بخشی تھی، جس نے علم و حکمت کے موتی بکھیرے تھے جس نے نئے مسائل اور مشکلات حالات میں امت کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا تھا جو اتحاد اسلامی کا اتنا بڑا نقیب و داعی تھا کہ اس کی مثال نہیں مل سکتی ۔ دراصل ان کی وفات عالم اسلام کا علمی و فکری نقصان ہے ۔‘‘
اسلامی فقہ اکیڈمی کا قیام :
مولانا قاضی صاحب نے عصر حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں علمی اور فقہی موضوعات پر ریسرچ کرنا اور نوجوان علما وفضلاء کوعلمی و تحقیقی رخ دینے کی غرض سے پھلواری شریف پٹنہ میں’’ مرکز البحث العلمی ‘‘ قائم کیا ۔ پھر اپنے رفقاء اور ممتاز علما ء کے تعاون سے اسی ادارے کے دائرے کار کو وسعت دے کر ۱۹۸۹ء میں’’ مجمع الفقہی الاسلامی الھند‘‘ Islamic Fiiqah Academy ( India ) کی تشکیل فرمائی ۔ آج یہ برصغیر کا ایک معتبر فقہی اداراہ ہے ۔اس ادارے کو آج عالم اسلام میں عزت اور توقیر سے دیکھا جاتا ہے ۔ فقہ اکیڈیمی کا بنیادی مقصد دور جدید میںپیدا ہونے والے فقہی اور شرعی مسائل کو اجتماعی طور پر حل کرنا ہے اور اس تعلق سے یہ ہر سال فقہی سمینار منعقد کرتی ہے جس میں علماء کی ایک بڑی تعدادشرکت کرتی ہے ۔قاضی صاحب کی وفات تک اکیڈیمی نے تیر ہ سمینار منعقد کئے ۔ عصر حاضر میں نت نئے مسائل کا انبار لگا ہوا ہے ، وہیں دور جدیدکے علماء میں علمی و فکری صلاحیت کی کمی تقویٰ شعاری کا فقدان ہے اسی لئے ان جدید مسائل کا حل انفرادی طور سے پیش کرنا خطرہ سے خالی نہیں ہے ، اسی لیے مسائل کے حل تلاش کرنے کے سلسلے میں اجتماعی کوشش ہونی چائیے اور یہ وقت کا تقاضا بھی کرتا ہے ۔ اسلامی فقہ اکیڈیمی اسی کاز کے لیے وجود میں آگیا ۔اسلامی فقہ اکیڈیمی ایک معتبر فقہی اور علمی ادارہ ہے اور یہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر عصری مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے ۔
تصنیفات :
قاضی صاحب نے تصنیفات کا بیش بہا ذخیرہ امت کے لئے چھوڑا ہے ۔ان کی تصنیفات کی تعداد ۳۰ سے متجاوز ہیں ۔ اسلامی عدالت اور صنوان القضا ان کی دو شاہکار فقہی نوعیت کی کتابیں ہیں ۔ اسلامی عدالت قاضی صاحب کی سب سے اہم اہم تصنیف ہے ۔ یہ اسلامی فقہ و قانون کے میدان میں ایک بڑے خلا کو پر کرتی ہے ۔اس گراں قدر کتاب کی پہلی اشاعت ۱۹۸۸ ء میں ہوئی ۔قاضی صاحب اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’’ اس کتاب کی ترتیب میں ائمہ اربعہ اور دیگر ائمہ مجتہدین کی فقہی آراء کو سامنے رکھا گیا۔ اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اسلام کے عدالتی قوانین کی ضابطہ بندی کی گئی ہے اور اس کو دفعہ وار جمع کیا گیا ہے ، جو نسبتا مشکل کام تھا لیکن دفعہ وار ترتیب میں کسی قانون کو جاننے میں سہولت ہوتی ہے ۔ ‘‘ کتاب میں علماء ، فقہاء، اصحاب افتاء ، وکلاء اور قانون دانوں کے لیے انتہائی مفید ہے ۔اس کے علاوہ عربی میں فقہ المشکلات ، ، الوقف ، اور اردو میں خطبات بنگلور ،فتاویٰ امارت شریعہ ان کی نادر کتابیں ہیں ۔ ان کے کارناموں میں سے ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ کویت سے ۴۰ سے زائد ضخیم جلدوں میں عظیم انسائیکلو پیڈیا ’’ الموسوعہ الفقہیہ ‘‘کا اردو ترجمعہ بھی ہے۔ انھوں نے اس کے ترجمعہ کے لیے نوجوان اسکالرس کی ایک ایسی ٹیم تیار کردی جنھوں نے قلیل مدت میں اس عظیم کام کا بڑاحصہ تیار کر دیا ۔
بحیثیت فقہی:
مولانا قاضی صاحب کے اختصاص کا اصل میدان فقہ اور علم فقہ تھا ۔ اسلامی شریعت کے اصول و مقاصد، معاملہ فہمی و حق فہمی، ذکاوت وذہانتاور دقیقہ سنجی میں ان کا اپنے دور میں کوئی ثانی نہیں تھا ۔وہ نہ صرف فقہ کے جزیات سے واقف تھے بلکہ گہری بصیرت بھی تھی ۔ مولانا موخوز، ماخذ اور استنباط مسائل کے اصول و قواعد پر بھی گہری نگاہ رکھتے تھے ۔تخریج و استنباط کا زبر دست ملکہ رکھتے تھے ۔وہ دور جدید کے چند فقہاء میں سے تھے مولانا منت اللہ رحمانی ؒفرمایا کرتے تھے کہ : ’’ان کے دماغ کی تاروں کی کھڑکیا ںہر وقت کھلی رہتی ہیں‘‘ اللہ تعالیٰ قاضی صاحب کی خدمات کو قبول فرمائے۔ آمین
رابطہ :پی، ایچ ۔ڈی ۔اسکالر ،شعبہ اسلامیات،مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد
6397700258