نئی دہلی// وزیراعظم نریندر مودی کے بدھ سے شروع ہورہے امریکہ کے چار روزہ دورہ میں افغانستان اور دہشت گردی کا معاملہ فوکس میں رہے گا اور 24ستمبر کو واشنگٹن میں ہندستان امریکہ آسٹریلیا اور جاپان کی چوطرفہ فریم ورک سربراہی میٹنگ میں بھی یہ معاملہ چھایہ رہے گا۔ مودی 24 ستمبر کو واشنگٹن میں کواڈ گروپ کے اجلاس میں موجود ہوں گے۔قابل ذکر ہے کہ کواڈ گروپ میں امریکہ ، بھارت ، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں۔ امریکہ کواڈ گروپ کا ایک اجلاس منعقد کر رہا ہے جس میں گروپ کے رہنما شرکت کریں گے۔ خارجہ سکریٹری ہرش وردھن شرنگلا نے وزیراعظم کے دورہ کی معلومات دینے کے لئے کل یہاں منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان اور دہشت گردی کا معاملہ دو طرفہ میٹنگوں اور کواڈ سمٹ میں یقینا نمایاں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ امریکی صدر کے ساتھ دو طرفہ میٹنگ میں افغانستان میں طالبان کے قبضہ کے بعد علاقی کی سیکورٹی کی صورتحال پر بات چیت ہوگی۔ ہم سخت گیری، دہشت گردی، سرحد پار دہشت گردی کو کنٹرول کرنے اور عالمی دہشت گردی نیٹورک کو تباہ کرنے کی ضرورت پر بات چیت کریں گے ۔اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس میں بھی امور کو نمایاں طورپر اٹھائے جانے کی امید ہے ۔انہوں نے کہاکہ افغانستان جتنا ہمارے لئے اہم ہے اتنا ہی اہم امریکہ کے لئے بھی ہے ۔ اس سے متعلق تمام پہلووں پر بات چیت ہوگی۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں گزشتہ مہینہ ہندستان کی صدارت میں منظور قرارداد نمبر 2593کے نفاذ پر بات چیت ہوگی جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی زمین کا کسی دیگر ملک کے خلاف حملے یا حملے کی سازش رچنے میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔ اس کے لئے ملکی یا غیرسرکاری طاقتوں کے خلاف نگرانی رکھنے اور انسداد دہشت گردی اقدامات کرنے پر ہندستان اور امریکہ دونوں ممالک نے اصولی طورپر متفق ہیں۔