سری نگر// محبوس علیحدگی پسند رہنما شبیر شاہ کی اہلیہ ڈاکٹر بلقیس شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ معاملہ میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے دائر کی گئی عرضی پر دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ نے نوٹس جاری کیا ہے۔کے این ایس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج دھرمیندر رانا نے بلقیس شاہ کو9 جون کو کورٹ میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔دسمبر 2020 میں ای ڈی کی جانب سے ایک چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس چارج شیٹ میں شبیر شاہ کی اہلیہ ڈاکٹر بلقیس شاہ پر الزام عائد کیا تھا۔منی لانڈرنگ معاملہ میں ای ڈی نے اپنی پہلی چارج شیٹ میں شبیر شاہ کے علاوہ حوالہ ڈیلر محمد اسلم وانی کو ملزم بنایا تھا۔ چارج شیٹ کے مطابق ڈاکٹر بلقیس شاہ نے اسلم وانی سے3 کروڑ روپے لینے کی بات تسلیم کی ہے۔ چارج شیٹ میں ڈاکٹر بلقیس پر شبیر شاہ کی مدد کرنے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ڈاکٹر بلقیس نے سال 2013 کے بعد کئی انکم ٹیکس ریٹرن داخل نہیں کئے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اپنی نجی پریکٹس اور تنخواہ کے علاوہ کو ئی دوسری ذرائع آمدنی نہیں تھی۔شبیر شاہ فی الحال دو معاملوں کے تحت تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ ان دومعاملوں میں ایک معاملہ ٹیرر فنڈنگ کا ہے۔ جب کہ دوسرا معاملہ منی لانڈرنگ کا ہے۔ شبیر شاہ کے خلاف2005 کے منی لانڈرنگ کیس کے تحت2007 میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ شبیر شاہ کو25 جولائی2017 میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے گرفتار کیا تھا۔جانچ کے بعد این آئی اے نے پانچ ملزمین کو گرفتار کیا تھا۔ این آئی اے نے جون2019 میں شبیر شاہ کو گرفتار کیا تھا۔ این آئی نے جن ملزمین کو گرفتار کیا تھا، ان میں یاسین ملک، آسیہ اندرابی، مسرت عالم، انجینئر رشید اور شبیر احمد شاہ شامل ہیں۔ان ملزمین پر لوگوں کو احتجاج کے لیے آمادہ کرنے، سنگ باری اور عسکریت پسندوں کو حملوں کے لیے ٹیرر فنڈنگ میں ایک دوسرے کی مدد کرنے اور انتظامیہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کا الزام ہے۔