عوام نے سڑک کی فوری تعمیر اور نکاسی آب کے انتظامات کو مکمل کرنے کی مانگ کی
محتشم احتشام
پونچھ// ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے دور افتادہ گاؤں چکھڑی کے مکین ترقیاتی دعوؤں اور حکومتی وعدوں کے باوجود آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خاص طور پر رابطہ سڑک کی عدم دستیابی نے مقامی عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، جبکہ برسوں سے نامکمل پڑا سڑک منصوبہ اب لوگوں کے لیے خطرے کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ موسلادھار بارشوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے اور مقامی آبادی نے فوری سرکاری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی باشندوں کے مطابق پلیرا سے پنچایت چکھڑی تک اگرچہ ایک خستہ حال رابطہ سڑک موجود ہے، تاہم وارڈ نمبر 7 سے آگے بن بالا، کھیتاں، بلیداں، بیساں والی، ترکناں اور چھپراں جیسے دور افتادہ علاقوں تک آج تک مکمل سڑک تعمیر نہیں کی جا سکی۔
لوگوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2007 میں اس سڑک کی ارتھ کٹنگ کی گئی تھی جس کے بعد عوام کو امید بندھی تھی کہ جلد ہی علاقے میں بہتر آمدورفت کی سہولت میسر آ جائے گی، لیکن کئی برس گزرنے کے باوجود منصوبہ مکمل نہ ہو سکا۔علاقہ کے لوگوں کے مطابق سنہ 2014 میں محکمہ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) نے دوبارہ سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا، مگر چند ہی دنوں بعد نامعلوم وجوہات کی بنا پر کام اچانک بند کر دیا گیا۔ تب سے لے کر آج تک نہ تو منصوبے پر دوبارہ کام شروع کیا گیا اور نہ ہی متعلقہ حکام کی جانب سے عوام کو کسی قسم کی وضاحت دی گئی۔ نتیجتاً نامکمل پڑی یہ سڑک اب مقامی آبادی کے لیے شدید پریشانی اور خطرے کا باعث بن چکی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کے دوران نامکمل سڑک بارش کے پانی کی گزرگاہ بن گئی ہے۔ بالائی علاقوں سے آنے والا تیز پانی سیدھا وارڈ نمبر 7 کے محلہ بیگاں میں داخل ہو جاتا ہے، جس کے باعث کھڑی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں، گھروں میں پانی داخل ہو رہا ہے اور لوگوں کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کئی مقامات پر زمین کا کٹاؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق موجودہ صورتحال میں محلہ بیگاں کا قبرستان، مرکزی مسجد، جنازگاہ اور تقریباً بارہ رہائشی مکانات براہ راست خطرے کی زد میں آ چکے ہیں۔ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ بارشوں کے دوران کسی بڑے حادثے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بارشوں کے دوران بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کا اسپتال یا بازار تک پہنچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل صرف اور صرف سڑک کی تعمیر کی تکمیل میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق اگر منصوبے کو فوری طور پر مکمل کیا جائے اور ساتھ ہی مناسب نالیاں، کلورٹس اور نکاسی آب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے تو نہ صرف محلہ بیگاں کو درپیش خطرات ختم کیے جا سکتے ہیں بلکہ بن بالا، زیارت پیر پستونی الرحمہ، کھیتاں، بلیداں، چھپراں، بیساں والی اور ترکناں سمیت کئی دور افتادہ آبادیوں کے ہزاروں لوگوں کو آمدورفت کی بنیادی سہولت بھی میسر آ سکتی ہے۔مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ، محکمہ تعمیرات عامہ اور حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس اہم عوامی منصوبے پر فوری طور پر دوبارہ کام شروع کیا جائے تاکہ برسوں سے بنیادی سہولت سے محروم عوام کو راحت مل سکے۔ لوگوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی دیہی ترقی کے دعوؤں پر عمل کرنا چاہتی ہے تو چکھڑی جیسے دور افتادہ علاقوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا تاکہ عوام کو محفوظ اور بہتر زندگی فراہم کی جا سکے۔