سرینگر//نوجوان پود قوم اور ملک کے مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اور ان کی نشونما صحیح ڈھنگ سے ہونی چاہئے، انہیں مروجہ تعلیم کیساتھ ساتھ اخلاقی اور مذہبی تعلیم سے آراستہ کرانا بھی والدین کی اہم ذمہ داری بن جاتی ہے، اسی صورت میں ہم اپنے بچوں کو منشیات ، بے راہ روی اور دیگر بُرے کاموں سے دور رکھ سکتے ہیں۔ ان باتوں کا اظہار ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی رہائش گا ہ پر بھارت سکائوٹس اینڈ گائیڈ زسے وابستہ رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کیا۔ جنہوں نے سماج میں منشیات کی بدعت کا قلع قمع کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس موقعے پر پارٹی کی خواتین ونگ کی صوبائی صدر انجینئر صبیہ قادری ، معاون صوبائی ترجمان عفرا جان، اقلیتی سیل کے ضلع صدر بڈگام وجے کول کے علاوہ رتیش کول بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمارے سماج میں منشیات کے استعمال کا رجحان بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور یہ رجحان ہماری نوجوان نسل کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہر اُس کوشش کی حوصلہ افزائی اور تعاون کرنا چاہئے جو منشیات کے خاتمے کی خاطر کی جارہی ہو۔ رضاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اُمید ظاہر کی کہ منشیات کی بدعت کے خاتمے کیلئے آپ کی کوششیں بارآور ثابت ہونگی۔ انہوں نے رضاکاروں کو یقین دلایا کہ جونہی ایم پی فنڈ ریلیز ہوگا تو وہ انہیں5لاکھ روپے واگذار کریں گے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ صدیوں کے بھائی چارے، مذہبی رواداری اور آپسی ہم آہنگی کی ریت کو قائم و دائم رکھیں اور ساتھ ساتھ مل کر رہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ کشمیر پنڈتوں کے بغیر ادھورا ہے اور ہم پنڈتوں کی واپسی کے منتظر ہیں اور وادی واپس لوٹنے کی تلقین کرتے ہیں۔