ہمارےاس معاشرے کی صحت کو جو اخلاقی اور روحانی روگ اندر ہی اندر کھوکھلا کررہے ہیں فی الوقت ان سبھی کی گنتی مقصود نہیں ہے۔ بلکہ جو سب سے بڑا مسئلہ اس حوالہ سے آج سراْٹھا کر اور پھن پھیلا کر ہماری غفلتوں پر تازیانے برسار ہا ہے وہ منشیات اور دیگر نشہ آور ادویات کا وہ پھیلائو ہے جو ہر گذرتے دن کے ساتھ بغاوت پر اْتر آئے تندوتیز سیلاب کی مانند اس معاشرے کی اخلاقی اور روحانی بنیادوں کی نہ صرف یہ کہ چولیں ہلا رہا ہے بلکہ اس کے لرزہ براندام دیوار ودر بھی ڈرا رہے ہیں، کہ اگر انجام گلستان کی فکر نہ کی گئی تو پھر اس کے بنجر بن جانے میںکوئی شک باقی نہیں رہ جائے گا۔ یہ بات تو طے ہے کہ منشیات کی لت ہماری کثیر آبادی کے ایک بڑے حصہ کو لگ چکی ہے۔ اور اب کچھ چونکا دینے والے انکشافات نے تو حساس لوگوں کے پائوں کی زمین سرکا کے رکھدی ہے ۔ جنوبی کشمیر کے کئی علاقے خطر ناک حد تک اس وبائی مرض کی زد میں آچکے ہیں اور سرینگر کے کئی اطراف اور ڈائون ٹاون میں بھی یہ کیڑے نہ صرف سرایت کرچکے ہیں بلکہ نئی نسل کے اخلاقی و روحانی وجود کو کس قدر دیمک کی طرح اندر ہی اندر کھا رہے ہیں۔ عیاں ہونے لگا ہے۔
حیران کن امر تو یہ ہے کہ 1980کے آٹھ برس بعد تک منشیات زدہ مریضوں کی تعداد ہسپتالوں میں 9726 دکھائی گئی۔ جبکہ 2011 کے بعد اس میں تشویش ناک حد تک ہر سال 6000 افراد کا اضافہ ہورہاہے۔ میڈیکل انسٹی چیوٹ دہلی کے مطابق منشیات کی قہر مانی کے شکار نو جوانوں کی عمر وادی میں 18 سال سے 30 سال کے درمیان ہے اور ان میں ہر روز معتدد بہ اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق 2017 کے بعد 5265 کیس سامنے آئے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چرس، روزفلی، اور بھنگ کے کاروبار میں ملوث لوگوں کی گرفتاری اگر عمل میں آئی ہے تو فوری اس کی تشہیر بھی ہوتی ہے لیکن ہیروئن اور برائون شوگر کے علاوہ نشیلی ادویات کے گندے دھندے میں ملوث لوگوں کو پکڑنا دشوار لگ رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات کے خلاف کریک ڈائون کے اس سلسلے کو وسیع بنایا جائے اور سارے سماج کی اخلاقی موت واقع ہونے سے پہلے اس وبا کے خاتمہ کے لئے زندگی کے ہر طبقے کے لوگوں کو سامنے آنا ہوگا۔ ملوثین کوقانون کے تحت ادارے عبرتناک سزا دیں تاکہ پھر اس غلیظ کاروبار میں شامل ہونے کا خیال بھی کسی کے حاشیہ خیال میں نہ آئے۔
ماہرین نفسیات ، دانشوروں اور علماء نے اس جانب متوجہ ہو کر منشیات کی اس وبا کو روکنے اور نفسیاتی امراض کے اصل وجوہ جاننے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی غور کرنے کی دعوت دی ہے کہ ان عوامل کو بھی جاننے کی کوشش کی جائے کہ ہماری نئی نسل یعنی ہمارے کل کا ایک بہت بڑا حصہ کیوں اس خودکشی کی راہ پر گامزن ہے اور کیوں وہ اپنے وجود کے درپے آزار ہے۔ حق تو یہ ہے کہ ہم میں سے آج ہر شخص حصول سیم وزر کی دوڑ میں اس قدر منہمک ومشغول ہے کہ اْسے نہ صرف یہ کہ اپنے گردوپیش کی کوئی خبر نہیں بلکہ مقام تاسف ہے کہ ہمارا خاندانی نظام بھی اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ ایک ہی کنبے میں رہنے بسنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے اتنے دور ہوچکے ہیںکہ وہ ایک دوسرے پر کیا گذررہی ہے،حالات وکوائف کیا ہیںاس سے قطعی طور نابلد نظر آتے ہیں۔ رشتوں کی دوڑمیں یہ لوگ ضرور بند ھے ہیںلیکن صبح پوپھٹتے ہی حصول معاش کیلئے نکلنے والے لوگ رات گئے جب واپس لوٹتے ہیں تو ایک دوسرے کے مسائل ومشکلات اور دکھ درد سے آگاہی حاصل کرنے کا نہ کوئی موقع فراہم ہوتا ہے اور نہ سکون کے ساتھ یکجا بسر کرنے کے کچھ لمحات ہمارے پاس ہوتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ہماری نئی نسل جو لمحہ بہ لمحہ ہماری توجہ کی طالب تھی ہمارے ذہن ودل سے اوجھل ہوگئی۔ وہ یا تومسائل کے انبار تلے اس قدر دب گئی کہ کوئی حل بتانے والا باقی نہیں رہااور نہ کوئی ہمدردر ودوست اسے خود اپنے گھر میں ہی نظر آتا ہے۔ وہ اللہ کے ذکر سے دور منشیات کی ہلاکت خیز وادی میں قدم رنجہ کیا ہوئے ان لاڈلوں کی زندگیوں کے انکچر پنکچر ڈھیلے ہوگئے۔کچھ ایسے صاحبزادے بھی ہیں جو والدین کے لاڈ پیار اور دھن دولت کی ریل پیل اور عدم تربیت کی وجہ سے نشہ آور ادویات اور خواب آور گولیوں میں تلاش سکون کرنے لگے۔والدین کی نیند ٹوٹی لیکن تب تک اولاد کی نہ صرف یہ کہ اخلاقی نیا ڈھوب چکی ہوتی ہے۔ بلکہ اس کی توانائیاں اور تنو مندیاں اب یادگار پارینہ بن چکی ہوتی ہیں۔حق تو یہ ہے کہ والدین اپنی ذمہ داریوں سے پوری طور عہدہ برآنہیں ہوتے۔اپنی اولاد کو صحت مند بنانے اور مادی لحاظ سے اسے ’’سب سے اونچا‘‘دیکھنے کیلئے ہم کس حد تک نیچے جاتے ہیں۔ صبح گھر سے روانگی کے وقت سے شام اسکی واپسی تک بچوں کی کارگذاریاں کیا رہتی ہیں؟ ۔ بچوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں جیسے توجہ طلب اہم ترین امور کی طرف ہماری توجہ جاتی ہی نہیں جبکہ یہ بات الم نشرح ہے کہ اولاد کی تربیت شیشہ گری کا فن ہے۔ اور اس کیلئے والدین کا بہت ہی حساس ،ذہین، بالغ نظر اور بچے کی نفسیات سے واقف ہونا بہت ضروری ہے۔ یہ کون سی تْک ہے کہ اولاد کی کسی کامیابی کا سہرا اْس کے سرباندھنے کے ساتھ ساتھ اپنی ’’عقلمندی ‘‘ کے سر بھی باندھ لیں۔اسے یا تو اپنے زور بازو کی کمائی کا کمال قرار دیں یا اپنی ’’ذہانت‘‘ کی کرشمہ سازی۔ لیکن جب اولاد کے قدم کہیں ڈگمگائے ، پیر پھسل گیا ، معاشرے میں ’’ناک‘‘ کچھ زخمی ہوئی تو دوش کسی اور کو دیں۔ دنیا کا ہر مہذب معاشرہ اس مشت خاک کی تعمیر میں والدین کے رول کو اہم قرار دیتا ہے اور قرآن نے تو صریح الفاظ میں خود اپنے اور اپنے عیال کو جہنم کی آگ سے بچانے کی ذمہ داری گھر کے سربراہوں پرہی ڈال دی ہے۔اور امام کائناتؐ کا یہ فرمان بھی رہ رہ کر ہمارے سامنے آتا ہے کہ ’’تم چرواھے ہو اور ہر چرواھے کو اپنے ریوڑ سے متعلق پوچھا جائے گا‘‘۔ بہر حال والدین بھی اپنی ذ مہ داریاں نبھائیں ، اساتذہ کا کردار بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے اور خطباء، علماء،دانشوروں اور صحافی حضرات اس روگ کیلئے دوائے اکسیر ہیں۔ اور ہاں یہ بھی دیکھا جائے کہ منشیات کا یہ کاروبار شیطان کی آنت کی طرف کیوں بڑھتا جارہا ہے۔
رابطہ : 9419080306