سرینگر // وادی میں نوجوان نسل کو فالج زدہ بنانے اور انکی صلاحتوں کوختم کرنے کیلئے منشیات کے مکروہ دھندے کا استعمال کثرت سے کرنے کی باضابطہ منصوبہ بندی کی گئی ہے اور ابھی تک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس دھندے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ آئے روز منشات فروشوں کو گرفتار کرنے اورانکی تحویل سے منشیات کی مختلف اقسام ضبط کرنے کی کارروائیاں بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار دیکھنے میں ٹھیک لگتے ہیں لیکن یہ منشیات کہاں سے آتی ہیں، کہاں کہاں سے فروخت کی جاتی ہیں، کون اسکا دھندہ کررہا ہے، اور کون نوجوان نسل تک پہنچانے کے گھناونے جرم کا مرتکب ہورہے ہیں، انکے بارے میں کوئی تفتیش نہیں، کوئی تحقیقات نہیں۔جو نوجوان اس لت میں مبتلا ہو چکے ہیں وہ پل پل مر رہے ہیں ۔معالجین کا کہنا ہے کہ منشیات کی لت نوجوان نسل کو نگلتی جا رہی ہے اور اگر اس کیلئے کوئی ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو صورتحال انتہائی سنگین ہو سکتی ہے ۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز نے سرینگر اور اننت ناگ کے دو اضلاع میں ایک پائلٹ سروے کی تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کشمیر وادی میں منشیات کی لت کس حد تک پھیل چکی ہے ۔ منشیات کے عادی 300افراد پر کی گئی سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اس میں 97فیصد مرد اور 3 فیصد خواتین شامل ہیں جو مختلف منشیات کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ 45فیصد افراد رگوں میں ہیروین اور دیگر نشہ آور ادویات انجکشنوں کے ذریعے پہنچاتے ہیں۔ سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ دونوں اضلاع میں روزانہ کم سے کم 3.5کروڑ کی منشیات فروخت ہوتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کے انچارج ڈاکٹر یاسر نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ان دونوں اضلاع میں ہیروئن، افیم اور دیگر نشہ آور ادویات آسانی سے میسر ہیںاور روزانہ ساڑھے تین کروڑ روپے دونوں اضلاع میں منشیات کی خرید فروخت پر خرچ کئے جاتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیر میں سب سے زیادہ استعمال ہیروئن کا ہو رہا ہے اور ان میں سے قریب 45فیصد نشہ کرنے والے اپنی رگوں میں ہیروئن کو انجکشن کے ذریعے پہنچاتے ہیں اور کئی لوگ ایک ہی سوئی کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ہیپاٹایٹس سی اور کئی دیگر خطرناک بیماریاں لگ جاتی ہیں جبکہ90فیصد چٹا کا استعمال کرتے ہیں ۔ ڈاکٹریاسر نے مزید بتایا کہ ہر ایک کو دن میں 1 سے 4گرام منشیات کی ضرورت ہوتی ہے اور اس پر دن میں2500سے لیکر 7000ہزار روپے کا خرچہ آتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن 300 افراد پر سروے کی گئی ، ان میں 97فیصد کی عمر 20سال سے 40سال کے بیچ تھی ۔ڈاکٹر یاسر نے مزید بتایا کہ سروے میں پایا گیا کہ غلط صحبت، پیسوں کی وافر فراہمی، ذہنی دباؤ اور والدین کی جانب سے کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے نوجوان زیادہ تر منشیات کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ سروے رپورٹ ، جس کی کاپی کشمیر عظمیٰ کے پاس موجود ہے، کے مطابق منشیات کے عادی لوگوں میں زیادہ تر تعداد 20سے29سال کے عمر کے نوجوانوں کی ہے، جن کی شرح 60.33فیصد بنتی ہے۔منشیات کے عادی افراد میں پڑھے لکھے بھی ہیں، کم پڑے لکھے بھی ہیں، اور ان پڑھ بھی ہیں۔ان میں شادی شدہ 27.66فیصد بغیر شادی شدہ 69.34فیصد، طلاق شدہ 2فیصد شامل تھے ۔سروے کے مطابق ہنرمند 28.66فیصد اور بے روزگار 24.33فیصد اس میں شامل ہیں ۔