کابل //طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر قندھار سے کابل پہنچ گئے ہیں جہاں وہ جامع حکومت کی تشکیل سے متعلق معاملات پر مذاکرات کریں گے۔ طالبان کے سینیئر رہنما خلیل حقانی بھی کابل میں موجود ہیں جن کا شمار امریکہ کے انتہائی مطلوب افراد میں ہوتا ہے۔ امریکی حکومت نے ان کے سر پر پانچ لاکھ ڈالر کا انعام رکھا ہوا ہے۔طالبان کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ ’ملا عبدالغنی برادار کابل میں جہادی رہنماؤں اور سیاست دانوں سے ملاقات کریں گے تاکہ افغانستان میں جامع حکومت کی تشکیل کا عمل ممکن ہو سکے۔‘اس سے قبل طالبان کی حمایتی سوشل میڈیا ویب سائٹس پر طالبان رہنما خلیل حقانی کی گلبدین حکمت یار سے ملاقات کی تصاویر شیئر کی گئی تھیں۔ادھرسابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے کابل میں طالبان کے نگراں گورنر سے اہم ملاقات کی ہے۔طالبان میں کابل کے نگراں گورنر رحمان منصور سے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے ملاقات کی اور افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال تبادلہ خیال کیا گیا۔قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ اور اشرف غنی کے دور میں اعلیٰ عہدے پر فائز عبداللہ عبداللہ نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ گورنر سے کابل کے شہریوں کی جان، مال اورآبرو کی حفاظت کو یقینی بنانے پر بات چیت ہوئی۔عبداللہ عبداللہ نے مزید لکھا کہ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ کابل میں معمولات زندگی کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ شہریوں میں تحفظ کا احساس پختہ ہو۔